دیکھنا یہ ہے کہ دھرنوں سے دوسروں کے حقوق کس حد تک متاثر ہو رہے ہیں لاہور ہائیکورٹ

دیکھنا یہ ہے کہ دھرنوں سے دوسروں کے حقوق کس حد تک متاثر ہو رہے ہیں لاہور ...

  

                            لاہور (نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائی کورٹ نے لانگ مارچ اور دھرنے دینے پر ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ دیکھنا یہ ہے دھرنے والوں کا حق کہاں سے شروع ہوتا ہے اور اور اس سے دوسروں کے حقوق کس حد تک متاثر ہو رہے ہیں یہ دھرنے تھر جیسے پسماندہ علاقے کے لوگوں نے اس بات پر تو نہیں دیئے کہ وہاں انسان جانوروں کے ساتھ ایک جوہڑ سے پانی پیتے ہیں بلکہ ان دھرنوں کے مقاصد کچھ اور ہیں۔مسٹر جسٹس خالد محمود خان کی سربراہی میں قائم فل بنچ نے اٹارنی جنرل پاکستان کو اس معاملہ پرمعاونت کے لئے طلب کرلیا ہے کہ کیا سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کی نوعیت زیر نظر کیس جیسی ہے اورکیا سپریم کورٹ میں کیس زیرسماعت ہونے کی صورت میں اسی معاملہ پر ہائی کورٹ کا اختیارسماعت ختم ہوجاتا ہے ؟گزشتہ روزدرخواست گزار کی جانب سے عدالت میں موقف اختیار کیا گیا کہ عدالت نے لانگ مارچ اور دھرنا روکنے کے واضح احکامات جاری کیے جس کے باوجود تحریک انصاف اور عوامی تحریک نے لانگ مارچ اور دھرنا دیا جس پر توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ تحریک انصاف کے وکیل نے دلائل دیئے کہ اسی نوعیت کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے لہذا اس کی سماعت ہائی کورٹ میں نہیں کی جاسکتی۔ تحریک انصاف پسماندہ علاقوں کے غریب عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی ہے جبکہ سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ لانگ مارچ اور دھرنے دینا عوام کا بنیادی حق ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ دیکھنا یہ ہے کہ دھرنے والوں کا حق کہاں سے شروع ہوتا ہے اور اور اس سے دوسروں کے حقوق کس حد تک متاثر ہو رہے ہیں یہ دھرنے تھر جیسے پسماندہ علاقے کے لوگوں نے اس بات پر تو نہیں دیئے کہ وہاں انسان جانوروں کے ساتھ ایک جوہڑ سے پانی پیتے ہیں۔ فاضل عدالت نے عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کے قابل سماعت ہونے کے معاملے پر اٹارنی جنرل کو معاونت کے لیے طلب کر تے ہوئے لانگ مارچ اور دھرنوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔ کیس کی مزید سماعت 15اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

دھرنے سماعت

مزید :

علاقائی -