پاکستان کی رنگین سیاست

پاکستان کی رنگین سیاست
 پاکستان کی رنگین سیاست
کیپشن: musharaf

  

جنرل پرویز مشرف نے اسمبلیوں میں خواتین کےلئے مخصوس نشستیں کیا بڑھائیں ،پاکستانی سیاست رنگین ہو گئی!تبھی تو پاکستان تحریک انصاف کے جلسوں میں آج کل لوگ عمران خان کو سننے اور خواتین کو دیکھنے جاتے ہیں ، یہ امریکی سازش ہے ، روشن خیالی کی سازش !....

تحریک انصاف کا ہر جلسہ حقیقت میں جلسہ کم اور مینا بازار زیادہ لگتا ہے، چونکہ ہر خاتون کے ساتھ کم از کم ایک مرد کو آنا پڑتا ہے اور خاتون اگر شادی شدہ ہو تو ایک آدھ بچہ بھی ساتھ ہوتا ہے، اس لئے سیاسی جلسے سے زیادہ تحریک انصاف کے اجتماعات پر فیملی فن فیئر کا گمان گزرتا ہے۔

پھر یہ بھی ہے کہ گھوم پھر کر وہی خواتین عمران خان کے جلسوں میں جارہی ہیں جو30اکتوبر 2011کو گئی تھیں، مڈل کلاس اور کنزرویٹو کلاس کی بیبیاں ابھی بھی نہیں جاتی ہیں، اگرچہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے انہیں سوچنے پر مجبور کردیا ہوا ہے کہ اس حکومت کی جگہ کوئی اور حکومت ہو، خواہ وہ عمران خان کی ہی حکومت ہو، وگرنہ تحریک انصاف کے جلسوں میں سے اگر خواتین کو نکال لیا جائے تو وہی کچھ بچے گا جو ویک اینڈ جلسے کے علاوہ اسلام آباد کے دھرنے میں بچتاہے! دوسری اہم بات یہ ہے کہ آج بھی پاکستان میں سیاست پیسے والے کی ہے، تحریک انصاف بھی پیسے والے نوجوانوں کی پارٹی ہے! اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف کی سیاست زر کے ساتھ زن سے بھی مزین ہوتی جا رہی ہے ، یہ الگ بات کہ دنیا بھر کی سیاست میں خواتین کا کردار بڑھا ہے، پاکستان کوئی تخصیص نہیں ہے!

تحریک انصاف کے نام پر پاکستان میں خواتین کو ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی طرح مخصوص حالات پیدا کر کے سیاست میں آگے لایا جا رہا ہے، تبھی توعاصمہ جہانگیر تلملا کر پوچھتی ہیں کہ کیا عمران خان کے جلسوں میںخواتین کا کام صرف جھنڈے لہرانا ہے؟

اس بات کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ اس حقیقت کے باوجود کہ بختاور بلاول بھٹو زرداری سے بڑی ہیں اور آصفہ زرداری ماضی میں بلاول بھٹو زرداری سے زیادہ سیاسی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں لیکن پاکستان پیپلز پارٹی نے قیادت کا تمغہ بلاول بھٹو زرداری کے گلے میں لٹکا لیا ہے اور اب انہیں قریہ قریہ گاﺅں گاﺅں لے کر گھمانے نکل پڑے ہیں، گویا کہ دو بہنوں پر ایک بھائی بھاری ہے، یا ایک بھائی دوبہنوں کے برابر ہے، یہ مائنڈ سیٹ پاکستانی معاشرے میں ہر سطح پر قائم ہے، تبھی تو عمران خان کے کنٹینر سے ابھی تک فوزیہ قصوری یا صنم بلوچ کی لائیو سپیچ نشر نہیں ہو سکی ہے جبکہ شاہ محمود قریشی اس قدر گرجتے ہیں کہ کبھی کبھی عمران بھی دبے ہوئے لگتے ہیں!

سوال یہ ہے کہ خواتین کے سیاست میںآنے سے کیا فرق پڑا ہے، قاف لیگ میں سب سے زیادہ زخواتین تھیں، اتنی کہ اب چوہدری برادرران پر بھی پھپھے کٹنیوںکا شک ہوتا ہے، لیکن اب قاف لیگ میں خواتین کا زیادہ رش نہیں ہے اور سوائے اکا دکا خواتین کے کوئی ایکٹو بھی نہیں ہے، نون لیگ میں بھی کچھ خواتین ایکٹو تھیں لیکن مریم نواز شریف کے آتے ہی سب کا رنگ پھیکا پڑ گیا اور مریم نواز شریف کا طوطی ایسا بولا کہ ان کو وزیراعظم یوتھ لون کی سربراہی ملنا باقاعدہ ایک سیاسی ایشو بن گیا چنانچہ مریم سوائے ٹوئٹر کے اب کہیں سرگرم نہیں ہیں!...پاکستان پیپلز پارٹی میں بھی فوزیہ وہاب کے زمانے تک جو شوخی تھی وہ ان کے جاتے ہی دم توڑ گئی، اب پیپلز پارٹی کا انحصار بھی مرد سیاستدانوں پر ہے!

گزشتہ آٹھ دس سال کی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ خواتین پاکستان کی سیاست میں سرگرم نہ ہوں تو بھی خاص فرق نہیں پڑے گا،پاکستان کی سیاست ادھوری نہیں ہوگی کیونکہ بطور وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اپنے مہنگے پرس مشہورکرانے کے سوا کچھ بھی ایسا نہ کرسکی تھیں جو خورشید قصوری یا سرتاج عزیز نہ کر سکے ہوں!

البتہ پاکستان کا بین الاقوامی امیج ضرور متاثر ہوگااور عمران خان کو بھی زیادہ محنت کرکے مردوں کو جلسوں میں لانا پڑے گا،تبھی عمران خان نواز شریف کے لئے خطرہ بن سکیں گے ، وگرنہ تحریک انصاف پاکستان کی سیاست پر اپنا فٹ پرنٹ نہیں چھوڑ سکے گی اور ایک دن عمران خان بھی اپنے مداحین سے ویسا ہی گلہ کریں گے جیساسیدعطاءاللہ شاہ بخاری نے کیا تھا کہ تقریریں میری سنتے ہو اور ووٹ دوسروں کو دیتے ہو!

مزید :

کالم -