مفاہمت کو ایک اور موقع دینا چاہئے

مفاہمت کو ایک اور موقع دینا چاہئے
 مفاہمت کو ایک اور موقع دینا چاہئے

  


بلا شبہ عمران خان کے دھرنے میں عوام کی تعداد کے حوالے سے سوالیہ نشان پہلے بھی موجود تھے اور اب بھی موجود ہیں۔ تجزیہ نگار اب بھی دھرنے کے مقاصد میں نا کامی کیوجہ اس میں شرکاء کی کم تعداد کو ہی سمجھتے ہیں۔ کہاجاتا ہے ہے کہ اگر عمران خان ملین لوگ لے آتے تو مقاصد بھی حاصل ہو جاتے۔ تا ہم عمران خان کا لاہور کا جلسہ نہایت کامیاب رہا۔ اہل لاہور نے عمران خان کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کر دیا۔ اب عمران خان نے میانوالی میں جلسہ کا اعلان کیاہے۔ میانوالی عمران خان کا آبائی شہر ہے ، اس لئے وہاں کا جلسہ بھی کامیاب ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ اس کے بعد ملتان میں جلسہ کاا علان کیاگیا ہے۔ ملتان کا جلسہ اس لئے اہم ہو گا کہ ملتان میں جاوید ہاشمی ضمنی انتخا ب لڑ رہے ہیں، گو کہ تحریک انصاف نے اس ضمنی انتخاب کا بائیکاٹ کیا ہوا لیکن پھر بھی تحریک انصاف اور جاوید ہاشمی کے درمیان جاری تنازع میں یہ جلسہ اہم ہو گا۔ جاوید ہاشمی کو اس جلسہ سے نمٹنے کے لئے تیاری کرنا ہو گی کیونکہ یہ ان کے ضمنی انتخاب پر اثر ڈال سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی نے 18 اکتوبر کو کراچی میں مزار قائدپر جلسہ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس جلسے کو بلاول بھٹو زرادری کے سیاسی سفر کا آغاز بھی کہا جا رہا ہے۔ لگتا ہے کہ عمران خان کی سیاست نے پیپلز پارٹی کو بھی باہر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ سابق صدر آصف زرداری نے عید لاہور میں منانے کا اعلان کر دیا ہے، اس لئے پیپلز پارٹی کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ اب وہ مزید سیاسی میدان کو خالی نہیں چھوڑ سکتی، انہیں اپنے سیاسی حریفوں کا مقابلہ سیاسی میدان میں کرنا ہے۔ پیپلز پارٹی اتنے گرم سیاسی ماحول میں اپنے سیاسی کارکنوں کو میدان سیاست سے باہر کیسے رکھ سکتی ہے۔ یہ ایک غیر فطری کوشش ہوتی، اس لئے شائد پیپلز پارٹی کو اس کا احساس ہو گیا ہے کہ پہلے بھی عمران خان پیپلز پارٹی کا ووٹ بنک لے اڑے ہیں اور مزید خاموشی ان کے ووٹ بنک کو مزید نقصان پہنچائے گی۔ اس لئے عین ممکن ہے کہ پیپلز پارٹی کا جلسہ عمران خان کے خلاف ہو، اور عمران خان نے تحریک انصاف کے کراچی کے جلسہ میں پیپلز پارٹی کے خلاف جو الزام لگائے تھے ان کا اس جلسہ میں بزبان جلسہ جواب دیا جائے۔

عمران خان کے کراچی کے جلسہ میں تقریر کے حوالے سے خود تحریک انصاف کی قیادت کو بھی تحفظات تھے ۔ اسی لئے تحریک انصاف کی قیادت نے کسی بھی جلسہ سے پہلے عمران خان کی تقریر کے نکات کو طے کرنے کے لئے ایک کمیٹی بنا دی ہے۔ اس کمیٹی کے قیام کے بعد لاہور کے جلسہ میں عمران خان کی پہلی تقریر تھی، اگر عمران خان کی اس تقریر کا ان کی پہلی تقریروں سے موازنہ کیا جائے تو اس میں پہلا واضح فرق جو سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ اب عمران خان نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ انہیں وزیر اعظم کے استعفے کی جلدی نہیں ہے۔ ورنہ پہلے تو عمران خان دھرنے میں ہر روز استعفے کی خوشخبری دیتے تھے۔

اسی کے ساتھ لاہور کے کامیاب جلسہ کے بعد تحریک انصاف کے حقیقی پالیسی ساز شاہ محمود قریشی نے دوبارہ حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ تحریک انصاف ہر وقت مذاکرات کے لئے تیار ہے۔ ورنہ خود شاہ محمود قریشی دھرنے میں مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر چکے تھے۔ اس طرح تحریک انصاف کے پہلے چار جلسوں نے عمران خان کو آزادی مارچ اور دھرنا دینے کا حوصلہ دیا لیکن اب 45دنوں کے دھرنے کے بعد یہ جلسے لگتا ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف کچھ مفاہمت کی سیاست کا راستہ تلاش کر نے کا حوصلہ دے رہے ہیں ۔ اگریہ جلسے نا کام ہوجاتے تو مفاہمت کے راستے بند ہو جاتے ۔ اس لئے وقت کی ضرورت ایسی مفاہمت ہے جس میں عزت بھی بچ جائے اور معاملہ بھی حل ہو جائے۔

شاعرمشرق نے فرمایا:

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہاء کچھ نہیں

موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں

وزیر اعظم میاں نواز شریف بھی اس لئے خود کو بیرون ملک دورے کے دوران ملکی سیاست سے الگ نہیں رکھ سکے، انہوں نے بھی لندن سے بیان داغ دیاہے ۔۔۔۔کہ ابھی ہم نے جلسے نہیں کئے ہیں جب ہم جلسے کریں گے تو سب کو پتہ چلے گا کہ کس کا جلسہ بڑا ہے۔۔۔ اس طرح میاں نواز شریف نے لندن سے یہ اعلان کر دیاہے کہ وہ اور ان کی جماعت بھی جلسوں کی سیاست سے الگ نہیں رہیں گے۔ اب سوال یہی ہے کہ کیسے آغاز ہو گا۔ کچھ مسلم لیگیوں کا خیال ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو 12 اکتوبر کو ایک بڑا جلسہ کرنا ہو گا لیکن مسلم لیگ (ن) کا ایک حلقہ 12 اکتوبر کو جلسہ کرنے کے حق میں نہیں ہے، ان کا خیال ہے کہ پہلے ہی پرویز مشرف کی وجہ سے اتنا بحران پیدا ہوا ہے اس لئے اب جب معاملہ ٹھنڈا ہو رہا ہے ، اس موقع پر 12 اکتوبر کو جلسہ کوئی اچھی تجویز نہیں ۔ بہر حال کسی بھی جلسہ کے اعلان سے قبل مفاہمت کو ایک موقع اور دینا چاہئے ورنہ محاذ آرائی تو کسی بھی وقت شروع کی جا سکتی ہے۔

مزید :

کالم -