چوری شدہ مینڈیٹ سے بنی حکومت کی قانونی حیثیت بتائی جائے ،عوامی تحریک کا سپریم کورٹ سے سوال

چوری شدہ مینڈیٹ سے بنی حکومت کی قانونی حیثیت بتائی جائے ،عوامی تحریک کا ...
چوری شدہ مینڈیٹ سے بنی حکومت کی قانونی حیثیت بتائی جائے ،عوامی تحریک کا سپریم کورٹ سے سوال

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان عوامی تحریک نے ممکنہ ماورائے اقدام کیس میں جمع کرائے گئے جواب سپریم کورٹ کے روبرو 14 سوالات رکھ دیئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ چوری شدہ مینڈیٹ سے بننے والی حکومت کی قانونی حیثیت کیا ہے اور کیا موجودہ حکومت عدالتی احکامات کی خلاف ورزی نہیں کررہی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے بیرسٹر علی ظفر سپریم کورٹ میں زیر سماعت ماورائے آئین اقدام کیس کے سلسلے میں نیا جواب داخل کرایا ہے جس میں عدالت عظمٰی کے سامنے 14 سوالات رکھے گئے ہیں، سوالات میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حکومت چوری شدہ مینڈیٹ کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے، اس کی قانونی حیثیت کیا ہے؟، کیا سیاسی جماعتوں میں احتساب کو کوئی نظام ہے؟ ، کیا جمہوری حکومتوں نے عوام سے کئے گئے وعدے پورے کئے؟، کیا ملک میں بلدیاتی انتخابات اور اہم اداروں کے سربراہان کی تقرری کے سلسلے عدالتی حکم کی خلاف ورزی نہیں ہورہی ہے ؟، کیا عوام کے اثاثوں کو نجکاری کے نام پر فروخت نہیں کیا جارہا؟، کیا آئین میں بنیادی حقوق کے حوالے سے عوام سے کئے گئے وعدوں کی خلاف ورزی نہیں کی جارہی ہے ؟۔ بتایا جائے کہ ارکان اسمبلی کا کام ترقیاتی کام کروانا ہے یا قانون سازی کرنا؟، کیا ارکان اسمبلی کو ملنے والے ترقیاتی فنڈز میں کرپشن نہیں ہوتی ہے ؟ ۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپر یم کورٹ کا 5 رکنی بینچ ممکنہ غیر آئینی اقدام کیس کی سماعت کررہا ہے اور اس کی آئندہ سماعت 2 اکتوبر کو ہوگی۔

مزید :

اسلام آباد -اہم خبریں -