حکومت ڈھنگ سے کام کرے تو عدالت کا کام 10 فیصد رہ جائےگا: سپریم کورٹ

حکومت ڈھنگ سے کام کرے تو عدالت کا کام 10 فیصد رہ جائےگا: سپریم کورٹ
حکومت ڈھنگ سے کام کرے تو عدالت کا کام 10 فیصد رہ جائےگا: سپریم کورٹ

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) سپریم کورٹ کے جج جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اگر حکومت اپنا کام ڈھنگ سے کرے تو عدالت عظمیٰ کا کام صرف 10 فیصد رہ جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے اسلام آباد میں بڑے بل بورڈز لگانے سے متعلق کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سی ڈی اے کی جمع کرائی گئی رپورٹ مسترد کردی، جسٹس دوست محمد کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ سی ڈی اے کروڑوں کما رہی ہے لیکن اس دوران ماحولیات کو بالکل نظر انداز کردیا گیا۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے کہ وہ روز کہتے ہیں کہ حکومت چلانا سپریم کورٹ کا کام نہیں ہے ، عدالت عظمی انتہائی محتاط رہ کر ریمارکس دیتی ہے، ہم ایسا کچھ نہیں کہتے جو سیاست کے زمرے میں آئے، حکومت اپنا کام ڈھنگ سے کرے تو سپریم کورٹ کا کام صرف 10 فیصد رہ جائے۔ عدالت نے چیئرمین سی ڈی اے کو کل (بدھ )طلب کرتے ہوئے اس سلسلے میں نئی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

مزید :

اسلام آباد -