موت کے چار اذیت ناک طریقے

موت کے چار اذیت ناک طریقے
موت کے چار اذیت ناک طریقے

  

مرنے کے پانچ بدترین طریقے

لندن (نیوز ڈیسک ) ”جو پیدا ہوا ہے اسے مرنا ہے“ یہ ایک کائناتی سچ ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ لیکن اموات کیسے واقع ہوتی ہیں؟ کچھ اموات بہت ہی اذیت ناک بلکہ عبرت ناک ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر روح کانپ اٹھتی ہے۔ کاربن مانو آکسائیڈ جیسی زہریلی گیس بھی قدرے کم تکلیف دہ موت کا سبب ہوتی ہے اسی طرح اگر دماغ میں انقلاب اور اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کی دھن ہو تو پھانسی گھاٹ کی طرف جاتے ہوئے خوف محسوس نہیں ہوتا۔ لوگ ہنستے ہوئے پھانسی کے پھندے کو چوم لیتے ہیں لیکن یہاں ان انتہائی تکلیف دہ طریقوں کی بات کرتے ہیں جن کی وجہ سے موت بھیانک لگتی ہے۔

1 ۔پھانسی بذریعہ ہاتھی

پھانسی کا مطلب تو یہ ہے کہ گلے میں پھندا ڈال کر لٹکادیا جائے کیونکہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں اکثر ہاتھیوں کو سدھایا جاتا تھا کہ وہ مجرموں کے سروں کو اپنے بھاری بھرکم پاﺅں سے کچل کر موت کے گھاٹ اتار دیں۔ اسے ہاتھیوں کے ذریعے پھانسی کا عمل قرار دیا جاتا ہے۔ ہاتھی ایک سمجھدار جانور ہے اور یہ اپنے ٹرینر کی ہدایات کے عین مطابق عمل کرتا ہے۔ ماضی میں اکثر بادشاہ بھی اپنے دشمنوں کو اپنے ہاتھیوں کی مدد سے موت کے گھاٹ اتارا کرتے تھے۔ اس کی وجہ انہیں جسمانی طور پر تکلیف دے کر مارنا مقصود نہیں ہوتا تھا بلکہ اس کے نفسیاتی پہلوﺅں سے بھی مستفید ہو اجاتا تھا۔ لوگوں کو عبرت دکھانے اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کیلئے حکمران حضرات ہاتھیوں کو بطور جلاد استعمال کرتے تھے۔ اس طرح کے طریقوں سے موت کا رقص 18 ویں اور 19 ویں صدی کے درمیان بہت مقبول ہوتا تھا۔ تاہم انگریزوں کے دور میں اس ظالمانہ طریقے کو روک دیا گیا تھا۔

2 ۔جنسی خواہشات کے تکمیل کے دوران موت

اب تک ایسی بہت سی کہانیاں منظر عام پر آئی ہیں کہ کئی انسان ازدواجی تعلقات کی تکمیل کے دورات موت کا شکار ہوگئے۔ اس کی وجہ بلند فشار خون ہوتا ہے۔ اس ضمن میں اگر ایک امریکی نائب صدر نیلس راک فیلر کی مثال دی جائے تو غلط نہ ہوگا۔ وہ بھی اسی قسم کی موت کا شکار ہوئے تھے۔ ان کے علاوہ برطانوی وزیراعظم لارڈ پامرسٹن اور پوپ جان XII (ایک حوالہ یہ بھی ہے کہ پوپ کی موت دل کے دورے سے ہوئی تھی) بھی ایسی ہی اموات کے ذریعے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ رومن شہنشاہ اٹلیا کے خوف سے دشمنوں کی سانسیں اکھڑتی تھیں ایسا رعب اور دبدبہ تھا کہ دشمن لڑے بغیر ہی ہتھیار ڈال دیتا۔ اٹلیانے دریائے ڈینوب کو دو مرتبہ تیر کر پار کیا۔ اس سے اٹلیا کی جسمانی طاقت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے لیکن مورخین حیران ہیں کہ اس قدر طاقتور بادشاہ کی موت سہاگ رات کے بستر پر ہوئی تھی جس پیار و محبت کے انتہائی عروج کے لمحات میں اٹلیا کی دلہن نے اس کے چہرے پر ہاتھ مارا۔ یہ اس شدت سے لگا کہ اٹلیا کی ناک ٹوٹ گئی اور سانس کا رشتہ وہاں ہی ٹوٹ گیا اور موت واقع ہوگئی۔

3 ۔چیچک کی موت

چیچک نے بہت تباہی مچائی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ اس مہلک بیماری کا علاج نہ تھا۔ تاہم اس کی ویکسین کے سامنے آجانے کے باوجود بھی اس کے دیگر اثرات سے نہیں نکلا جاسکا۔ وہ لوگ جو چیچک کی وجہ سے موت کی وادی میں اترے ان کی اموات کو دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ یہ بہت سست مگر اذیت ناک طریقہ بتایا ہے۔ اس میں مبتلا 12 افراد پہلے چیچک سے مرنے کے روز تک تو بالکل تندرست و توانا رہتے ہیں پھر فلو کی علامات کا ظہور ہوتا ہے۔ پھر چہرے پر زخم ہونا شروع ہوجاتے ہیں جو بعد ازاں پورے جسم پر ہوجاتے ہیں۔ ان زخموں میں پیپ بھرنا شروع ہوتی ہے۔ معدے میں آبلے ہوجاتے ہیں جو آکر پھٹتے ہیں تو تھوک کے ذریعے یہ پیپ پیٹ سے باہر آتی ہے۔ اسی اثناءمیں خون میں چیچک کا وائرس وریدوں اور شریانوں کو منجمند کردیتا ہے اور آخر انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ یہ لمحہ بہ لمحہ موت کی طرف سفر بہت ہی اذیت ناک ہوتا ہے۔

4 ۔ہلاکو وہیل مچھلی موت کی نیند سلاتی ہے

ہاتھیوں کی طرح وہیل مچھلیاں بھی اپنی ذہانت میں بے مثال ہوتی ہیں۔ تصور سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ جب آپ کے سامنے کسی مجرم یا شخص کو سمندر میں وہیل مچھلی کے سامنے پھینک دیا جائے اور اس کے خونخوار جبڑے دیکھتے ہی دیکھتے اس انسان کے کے چیتھڑے کردے اور اس کی چیخیں سمندری پانی کی لہروں میں گم ہوجائیں۔ 1999ءمیں ایک شخص ”سی ورلڈ“ کے تالاب میں مردہ پایا گیا اور اسے مارنے والا کوئی دوسرا نہ تھا بلکہ تالاب میں موجود وہیل مچھلی تھی، یہ ایک خوفناک موت تھی۔

مزید :

تفریح -