اسلام میں میراث کا نظام اور معاشرے میں خواتین کی حق تلفی (2)

اسلام میں میراث کا نظام اور معاشرے میں خواتین کی حق تلفی (2)
اسلام میں میراث کا نظام اور معاشرے میں خواتین کی حق تلفی (2)

  

بہنیں بھائیوں سے حق مانگیں اس کا ہمارے ہاں صدیوں سے رواج ہی نہیں ہے اس لئے جو بہن اپنا حقِ وراثت مانگتی ہے معاشرہ اس کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے جیسے اس نے بہت بڑا جرم کر لیا ہے، اس کا بھائیوں کی طرف سے سوشل بائیکاٹ کیا جاتا ہے اور بھائی بہن کے رشتے کو معطل کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے ایک کمزور بہن اس کی متحمل نہیں ہوسکتی کہ اس کے بھائی اس کا سوشل بائیکاٹ کردیں،لیکن عورت کا یہ شرعی حق قائم کرنے کے لئے کم از کم پڑھی لکھی عورتوں کو حق وراثت کی زبردستی معافی کے اس رواج کو اپنے پاؤں تلے روند کر قرآن کا شرعی حق بحال کروانا ہوگا۔ باپ کے فوت ہونے کے بعد اس جائیداد پر کسی ایک کا حق نہیں ہے بلکہ اب یہ امانت ہے ان وارثوں کی جن کو قرآن نے وارث ٹھہرایا ہے اس امانت کو جلد ازجلد اس کے وراثوں کے حوالے کریں اور وارث عورتوں کو ان کی جائیداد سے محروم نہ کریں کیونکہ اللہ کے ہاں یقیناًوہ ان کے حق میں پکڑے جائیں گے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کے غیر شرعی رسم و رواج کو ختم کرکے اللہ کی شریعت کو نافذ کرنے کی کوشش کی جائے اگر ملک میں سیاسی سطح پر اللہ کی شریعت نافذنہیں ہے تو کم ازکم ہم ان معاملات میں تو اللہ کے حکم کو نافذ کریں جہاں ہمارا اختیار چلتا ہے۔ وراثت کا حق عورت کا وہ حق ہے جو اس کے معاف کرنے سے بھی ساقط نہیں ہوتا وہ جب چاہے معاف کرنے کے بعد بھی دوبارہ اپنے حصے کا مطالبہ کرسکتی ہے۔ہماری دینی جماعتیں جو سسٹم کی تبدیلی کے لئے سیاسی جدوجہد کررہی ہیںیا اقامت دین کے لئے جدوجہد ہورہی ہے اور جہاں کہیں طاغوت کے خلاف جہاد ہورہا ہے اور علمائے دین مسجد کے منبروں سے معاشرتی برائیوں کے خلاف وعظ و نصیحت اور عوام کی تربیت کا بندوبست کررہے ہیں عورت کو اس کا حقِ وراثت دلانے کے لئے جدوجہد کریں۔

ہم سب پر یہ ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کا قرض ہے اورضرورت اس امر کی ہے کہ تمام اسلامی تنظیموں کے پلیٹ فارمز سے عوام کو اسلامی قانون وراثت کے مطابق حصوں کی شرعی تقسیم کا علم سکھایا جائے اور معاشرے میں ذرائع ابلاغ کے ذریعے یہ بات عام کی جائے کہ عورت کو اس کے حق وراثت سے محروم نہ رکھا جائے۔جو جائیداد آپ کووراثت میں ملی ہے اگرآپ نے اس میں سے پھوپھیوں اور بہنوں کا حصہ علیحدہ کرکے ان کے حوالے کردیا ہے اور اپنے بیٹوں کو تاکید کردی ہے کہ وہ اپنی بہنوں کو وراثت میں حصہ ضرور دیں تو آپ اللہ کا شکر ادا کریں لیکن اگر ابھی تک یہ سارے بوجھ آپ کی گردن پر ہیں تو آپ فکر کریں۔بیٹیوں کے جائز قرآنی حق کے مطالبے پر یہ کہتے ہوئے سوشل بائیکاٹ کر دیا کہ ہم نے آپ کی شادیاں کر کے اپنی ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں اب آپ سب کا جائداد میں کوئی حصہ نہیں ۔حالانکہ علم میراث پر نظر رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں عورت کی میراث کے بارے میں کس قسم کی تعلیمات ہیں تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ دین اسلام کا نظام میراث سب سے اچھا نظام ہے :اسلام سے قبل ، اور دیگر موجودہ سماجوں میں عورت کی میراث کی تقسیم کچھ اس طرح ہے :

1۔یہودی مذہب میں عورت کو میراث سے محروم رکھا گیا ہے:چاہے وہ ماں ، بہن ، بیٹی یا کوئی اور ہو۔ البتہ اگر کوئی مرد نہ ہو تو پھر اسے وراثت ملے گی ، جیسے اگر بیٹا موجود ہے تو بیٹی کو کچھ نہیں ملے گا، جب کہ بیوی کو شوہر کے ترکہ سے کچھ بھی نہیں ملے گا۔

2۔ رومیوں کے ہاں عورت کی میراث :ان کے ہاں عورت کو مرد کے برابر حصہ ملتا تھا۔ لیکن بیو ی کو اپنے شوہر کے ترکہ سے کچھ بھی نہیں ملتا تھا تاکہ اس خاندان کا مال دوسرے خاندان میں منتقل نہ ہوجا ئے ، اسی کا لحاظ کرتے ہو ئے اگر کسی عورت نے اپنے باپ سے میرا ث پا ئی ہو اور جب وہ مرجا ئے تو اس کے ترکہ سے اس کے بیٹے اور بیٹوں کے بجائے اس کے بھائیو ں کو حصہ ملتا تھا۔

3۔ سامی قوموں ( قدیم مشرقی قوموں ) کے نزدیک عورت کی میراث :اس سے مراد طورانی، سریانی ، شامی ، اشوری ، یونانی قومیں ہیں جو عیسی علیہ السلام کی ولادت سے قبل مشرق میں آباد تھیں۔ ان کے نزدیک میراث کا نظام یہ تھا کہ باپ کے بعد بڑا بیٹا باپ کی جگہ لیتا تھا ، اگر وہ موجود نہ ہوتا تو مردوں میں سب سے زیادہ ارشد مرد کو مقرر کیا جاتا ، پھر بھائیوں کی باری، ان کے بعد چاچا کی باری ہوتی تھی۔ ان کے ہاں عورتوں اور بچوں کو کلی طور پر میراث سے محروم کردیا جاتا تھا۔

4۔ قدیم مصریوں کے ہاں عورت کی میراث: ان کے ہاں میت کے تمام اقربا کو جمع کیا جاتا تھا جن میں اس کا باپ ، ماں ، بیٹے ، بیٹیاں ، بھائی ، بہنیں ، چاچے ، ماموں ، خالائیں اور بیوی سب شامل ہوتے تھے اور ہر ایک کو برابر برابر حصہ ملتا تھا۔ جن میں مرد ، عورت اور چھوٹے ، بڑے میں کوئی تمیز نہیں ہوتی تھی۔

5۔ زمانہ جاہلیت میں عربوں کے ہاں عورت کی میراث : اس زمانہ میں ان کے نزدیک تقسیم میراث کا کوئی مستقل یا خاص نظام نہ تھا ، وہ لوگ مشرقی دیگر اقوام کے طریقے پر چلتے تھے۔ وہ اپنی میراث کے حقدار صرف ہتھیار اٹھانے کے قابل مردوں کو سمجھتے تھے ، عورتوں اور بچوں کو اس سے کلی طور پر محروم رکھتے ہیں، چھوٹی بچیوں کو کبھی کبھار زندہ درگور کردیا جاتا تھا۔ اور اگر کوئی مرد مر جاتا تو اس کے گھرکے مرداس کی بیوی کے مالک اسی طرح بن جاتے جس طرح اس کے ترکہ کے مالک بن جاتے ، اس کے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے ساتھ شادی کرلیتے اور اسے کچھ بھی مہر نہ دیتے ، یا اپنی مرضی سے اس کی شادی کسی اور کے ساتھ کردیتے ،اور مہر خود کھالیتے ، یا اگر چاہتے تو عمر بھر اسے بغیر شادی ہی رہنے پر مجبورکرتے ، اور کبھی سوتیلا بیٹا بھی اس کے ساتھ جبری شادی کرتا تھااور اس کا مالک اسی طرح بن جاتا جس طرح اپنے باپ کے ترکہ کامالک بن جاتا تھا۔(جاری ہے)

مزید :

کالم -