محمدشاہ مینگل: دلچسپ شخصیت کے مالک تھے

محمدشاہ مینگل: دلچسپ شخصیت کے مالک تھے
محمدشاہ مینگل: دلچسپ شخصیت کے مالک تھے

  



ضلع نوشکی مردم خیز خطہ رہا ہے اس ضلع نے بلوچستان کی سیاسی پارٹیوں کو اہم شخصیات فراہم کی ہیں گل خان نصیر کا تعلق بھی کلی مینگل سے تھا وہ دانشور ادیب شاعر اور سیاست دان تھے۔ سابق چیف جسٹس امیرالملک مینگل کاتعلق مینگل قبیلے سے ہے۔جماعت اسلامی میں مینگل قبیلہ کی اہم شخصیات شامل ہوئیں مولانا عبدالمجید مینگل انتہائی ذہین اور قبائلی رسم ورواج سے آشنا تھے اور قبائلی تنازعات کے حل کرنے میں ان کا اہم کردار رہا ہے شاعر تھے ان کا مجموعہ کلام شائع ہوچکا ہے براہوی فارسی اور اردو پر ان کی گرفت تھی وہ نوشکی جماعت کے امیر رہ چکے ہیں نوشکی میں جماعت اسلامی کی جتنی اہم شخصیات تھیں ان سے میرا قریبی تعلق رہا ہے میراتعلق اس وقت اسلامی جمعیت طلبہ سے تھا اس لئے بلوچستان جماعت اسلامی کی اہم شخصیات سے ایک طرح کا دوستانہ تعلق رہا ہے۔

عبدالمجید مینگل سابق امیر جماعت اسلامی بلوچستان سے تو روز ملاقات ہوتی اس وقت وہ کوئٹہ میں تھے اور جماعت اسلامی کے رکن تھے ان کے ساتھ جماعت کے دفتر میں خوب محفلیں جمتی تھیں ان محفلوں میں ضیاء الدین ضیائی‘رشید بیگ‘ عبدالصمد خلجی مرحوم شامل ہوتے تھے چائے کا دور چل رہا ہوتا اور ہم مختلف سیاسی موضوعات پر خوب گرماگرم بحث کرتے تھے مولانا محمد شاہ مینگل سے بھی اسی دور سے قربت بڑھی اور آخری وقت تک ان سے ملاقاتیں رہتی تھیں پھر وہ جماعت اسلامی بلوچستان کی مجلس شوریٰ کے ممبر منتخب ہوئے چونکہ شوریٰ میں مجھے بھی منتخب کیا گیا تھا پھر ان کے ساتھ شوریٰ میں بیٹھنے کا موقع ملا ویسے تو ان سے میری شناسائی 1967ء سے تھی اور ان دنوں میں طالب علم لیڈر تھا اور تقریریں کرتا تھا 1970ء میں نوشکی میں جماعت کا جلسہ عام تھا میری تقریر بھی تھی مہمان خصوصی امیر جماعت میاں طفیل محمد مرحوم تھے یہ ایک بڑا جلسہ تھا مولانا مجید مینگل سے بھی دوستی تھی یہ دوست میری تقریر کو بہت پسند کرتے تھے اور میرا بڑا احترام کرتے تھے۔

مولانا محمد شاہ مینگل اس وقت جماعت کے کارکن تھے جب بلوچ علاقے میں جماعت کا کام کرنا دل گردے کا کام تھا مگر ان تمام لوگوں نے جن کا ذکر کررہا ہوں بڑی بے جگری سے جماعت کا ساتھ دیا جبکہ نیپ نے جماعت کی مخالفت پر اپنے آپ کو تیار کرلیا تھا اور اس کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام نے مولانا مودودی کے خلاف پروپیگنڈہ کا طوفان کھڑا کیا ہوا تھا جماعت اسلامی 1970ء سے ان مخالفین کے مدمقابل تھی نیپ کا الزام تھا کہ جماعت اسلامی امریکہ اور سرمایہ داروں کی ایجنٹ ہے اور جمعیت جماعت اسلامی پر صحابہؓ کے حوالے سے جھوٹ کاطوفان کھڑے کئے ہوئے تھی غلام غوث ہزاروی جلسہ عام میں انتہائی ناشائستہ زبان استعمال کرتے تھے۔

مولانا مجید مینگل مولانا محمد شاہ مینگل مولانا عبدالحمیدمینگل اور مولانا عالم مینگل نے میدان میں اس طوفان کا مقابلہ کیا یہ تاریخ کا زبردست ہاتھ ان کے ساتھ ہوا جو جماعت پر الزامات لگاتے تھے مولانا غلام غوث ہزاروی بھٹو کی موجودگی میں جمعیت علمائے اسلام کو چھوڑ کر پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے اور ان کے ساتھ مولانا غلام اللہ بھی شامل ہوگئے۔ قدرت کا کیا زبردست انتقام تھا جو ان سے لیا۔ جمعیت علمائے اسلام کے سرپرست اعلیٰ جناب مولانا سراج احمد دین پوری وزیراعظم بے نظیر بھٹو مرحومہ کے دور حکومت میں پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے۔ اور بیان میں کہا کہ ملک میں اسلام صرف پیپلزپارٹی لاسکتی ہے اور دوسری جانب قوم پرست جو امریکہ کے خلاف نعرے مارتے تھکتے نہیں تھے اور گلے پھاڑ پھاڑ کر کہتے تھے کہ جو امریکہ کا یار ہے غدار ہے غدار ہے۔ وہ بھی افغانستان میں امریکہ کے ہم رکاب بن گئے جب امریکہ اور نیٹو نے طالبان کی حکومت ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور حملہ کیا تو پاکستان کا۔ تمام لیفٹ اور قوم پرست امریکی کیمپ میں کھڑے نظر آئے مجاہدین کے ہاتھوں سوویت یونین کی شکست نے ان کے اعصاب شل کررکھے تھے اور پھر سنبھل نہ سکے۔ یہ تمام امریکی کیمپ میں کھڑے ہو گئے آج یہ سب استعماری سرمایہ داری کیمپ میں کھڑے ہیں۔

جماعت نوشکی کی تمام اہم شخصیات بڑی پامردی اور حوصلہ سے جدوجہد کرتی رہیں مولانا محمد شاہ مینگل بڑی خوبصورتی سے بلوچستان اور بلوچوں کے مسائل پربڑی مدلل گفتگو اور تجزیہ کرتے تھے ان کی معلومات مستند ہوتی تھیں۔عبدالحق بلوچ مرحوم مولانا محمد شاہ مینگل اور عبدالغفور بلوچ محفل کی جان تھے عبدالحق بلوچ اور مولانا محمدشاہ مینگل لطیفے بھی سناتے تھے اور خوب ہنستے تھے اور بعض دفعہ لطیفوں کی بھرمار ہوتی اور اس میں مولانا عبدالحق بلوچ کا مقابلہ مشکل سے کوئی کرتا تھا مولانا محمدشاہ مینگل نوعمری میں مولانا مودودیؒ کی محفل میں شریک ہوگئے وہ درس قرآن اور درس حدیث سننے جاتے تھے اور یوں وہ مولانا مودودیؒ سے متاثر ہوگئے اور پھر تمام عمر ان کے عقیدت مند رہے اور جماعت میں شامل رہے اور زندگی کے آخری لمحہ تک وابستہ رہے وہ جس قافلہ کے شریک سفر تھے ایک دن مستقبل میں یہ قافلہ اپنی منزل پر ضرور پہنچے گا اور پاکستان حقیقی معنوں میں اسلامی ریاست میں ڈھل جائے گا اللہ تعالیٰ انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے خطاؤں سے درگزر فرمائے۔

مزید : کالم