پریشانی کا نفسیاتی ا ور روحانی علاج

پریشانی کا نفسیاتی ا ور روحانی علاج

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سیّد کرامت علی شاہ بخاری
ازل ہی سے انسان اور پریشانی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جوں جوں انسانی آبادی میں اضافہ ہوا انسانی ضروریات ، اہداف اور مسائل بڑھتے چلے گئے۔ ان اہداف کے حصول کیلئے انسان کو اپنی توجہ مختلف اطراف و جوانب میں مرکوز کرنا پڑتی ہے جب انسان اپنی ترجیحات کا تعین نہیں کرتا تو وہ ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہوجاتا ہے۔ ذہنی دباؤ کے عوامل دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک داخلی اور دوسرے خارجی۔ داخلی عوامل کا تعلق انسان کی اپنی ذات سے ہوتا ہے ان عوامل میں خوف ، بے چینی، پریشان ذہنیت، چڑ چڑاپن، جلدغُصّے میں آجانا، بے لچک منفی سوچ، احساس کمتری، غیر حقیقی توقعات، ناکامی کا خوف اور طویل بیماری شامل ہیں۔ جبکہ خارجی عوامل میں خطرات ، زندگی کی اہم تبدیلیاں ، کام کی زیادتی ، معاشرتی، معاشی اور خاندانی مسائل شامل ہیں۔
ایک ہی قسم کے دباؤ میں مختلف لوگ مختلف طرز عمل ظاہر کرتے ہیں۔ مثلاً خطرے کی صورت میں خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہوجانا ایسی صورت میں انسان کا عضلاتی نظام متاثر ہوتا ہے مثلاً دل کی دھڑکن کا تیز ہونا، بلڈ پریشر (فشارِ خون) کا بڑھ جانا، تیز تیز سانس لینا ایسی حالت میں بعض کے جسم کی طاقت بڑھ جاتی ہے اور بعض کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں اور وہ کوئی رد عمل ظاہر نہیں کرسکتے۔ ایسے حالات میں مضبوط قوت ارادی کے ذریعے معاملات میں حقیقت کا ادراک اور طرز عمل میں توازن قائم کرکے ذہنی دباؤ پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
*پریشانی کا نفسیاتی علاج:۔
o ذہنی دباؤ اور پریشانی کا باعث بننے والی چیزوں کی نشاندہی کریں۔
oاپنے روزمرہ کاموں کی اپنی استعداد کے مطابق ترتیب دیں۔
oاپنی خوبیوں اور خامیوں کو مساوی اہمیت دیں۔
oپریشانی کی حالت کو زیادہ دیر تک اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں۔
oصرف تخیلاتی دنیا میں ہی نہ رہیں بلکہ اپنے اچھے خیالات کو عملی جامہ پہنائیں۔
oاپنی سوچ کو مثبت رکھیں۔
oاپنی معاشی پریشانیوں کو ذاتی زندگی میں خلط ملط نہ کریں۔
oاپنی ماضی کی ناکامیوں پر کُڑھنے کی بجائے مستقبل کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔
oاللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہیں اور روزانہ رات کو سونے سے پہلے اپنے دن بھر کے اعمال کا جائزہ لیں اچھے کاموں پر اللہ کا شکر کریں اور بُرے کاموں سے بچنے کا عہد کریں۔
oاپنے روزمرہ کاموں کو خوشی سے کریں۔
oجلد بازی نہ کریں کہ اس سے اکثر کام خراب ہوجاتے ہیں۔
oایک وقت میں ایک سے زیادہ کام کرنے سے اجتناب کریں۔
oمشکلات کو ذہن پر سوار کرنے کی بجائے ان کا حل تلاش کریں۔
oاپنی بھلائی کے ساتھ ساتھ دوسروں کی بھلائی کا بھی سوچیں۔
oکوئی نیا کام کرنے سے پہلے اس کے نتائج کے متعلق سوچیں اگر نتائج بہتر محسوس ہوں تو اس کام کے لیے خود کو تیار کریں۔
oاپنے مقصد کے ساتھ اخلاص ، اپنا اور دوسروں کا خیال رکھنا نئے مثبت نظریات کی تخلیق ، باہمی تعاون، اخوت، محبت، بھائی چارہ، ماحول سے مناسب ہم آہنگی اور یاد الہیٰ آپ کی ذہنی صحت کو بہتر بنا دے گی۔
* پریشانی کا رُوحانی علاج:
پریشانی اور تفکرات خواہ کسی بھی نوعیت کے ہوں اُن کا علاج تقویٰ (پرہیزگاری)، صبر، نماز، یاد الہٰی اعمال صالح اور اللہ تعالیٰ پر توکّل کرنے میں ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’اور جو پرہیزگار ہیں ان کی کامیابی کے سبب اللہ تعالیٰ اُن کو نجات دے گا نہ تو اُن کو کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ غمگین ہوں گے (الزمر61:39)
’’اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو اگرچہ یہ گراں ہے مگر (اللہ تعالیٰ کا)ڈر رکھنے والوں پر نہیں۔(البقرہ 45:2)
اَلاَبِذِکْرِاللّٰہِ تَطْمَءِنُّ الْقُلُوْبُo
(الرعد28:13 جزو)
’’سُن رکھو اللہ کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں۔‘‘
*پریشانی دور کرنے کی مسنون دعا:
حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوتے تو دایاں ہاتھ اپنے سر پر پھیرتے۔
اور یہ دُعا فرماتے:’’ بِسْمَ اللہِ الَّذِیْ لاَ اِلَہَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ الّٰلھُمَّ اَذْھِبْ عَنِّی الْھَمَّ وَ الْحُزْنَ‘‘
ترجمہ:’’ شروع اللہ کے نام سے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے، اے اللہ تو ہر فکر اور غم کو مجھ سے دور فرما‘‘
ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا دایاں دست مبارک اپنی پیشانی پر پھیرتے اور فرماتے:’’الّٰلھُمَّ اَذْھِبْ عَنِّی الْھَمَّ وَ الْحُزْنَ‘‘

مزید :

ایڈیشن 1 -