جس نے پیدا کیا ،وہی زندگی بہتر بنا ئے گا !

جس نے پیدا کیا ،وہی زندگی بہتر بنا ئے گا !

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

رانا شفیق پسروری
اللہ کی کبریائی کے بیان کے بعد ان گنت ، دروُد و سلام ، تحیات وتسلیمات سید الرُسل، سید البشر،سید وُلد آدم،محُسن انسانیت،امام ُ الانبیاء، احمد مجتبےٰ جناب محمدمصطفےٰ ؐ کی ذاتِ مُبارکہ پر،جن کی ہر بات،ہر فعل ہما رے لےئے قابلِ حُجت، واجبِ تعمیل اورسب سے بڑھ کر باعثِ نجات ہے۔
اللہ رب العزت نے حضرت انسان کو بڑے لاڈ اورچاؤ سے اپنے ہا تھ سے پیدا کیا ہے ، اور پھراِس کے اندر اپنی روح کو پھُو نکا ، اِس کو مسجودِ ملائک قرار دیا ۔اِنسان اللہ کی چہیتی مخلُوق اور ساری مخلوقات میں اشرف قراردی گئی،اللہ ربُ العزت نے اِس کی رہنمائی کے لیے خاتم النبیّن،سید الرُسل امام الانبیاء،محسُنِ اِ نسانیّت حضرت محمدﷺکو کاَ فّۃً للناّس کی حیثیت سے،رحمت للعا لمین کی حیثیت سے،سراجِِ مُنیرکی حیثیت سے ہادئی کامل کی حیثیت سے،رہبرِ اکمل کی حیثیت سے مبعُوث فرمایااور ساری کائنات کے لئے رحمت قرار دے کر ساری کائنات کے لےئے بہتری کا باعث قرار دے کر اور ساری کائنات کے رہنے والوں کے لیے دُنیا و آ خرت کی کامیابی وکامرانی کا ضامن ٹھہرا کر مبعوث فرمایا۔
آپ پر اُتاری گئی رسالت، آپ کی نبوّت ، آپ کے ذریعے آنے والی شریعت ، طریقت، انسان کی بہتری کے لیے ، انسانی مُعاشرے کی اصلاح کے لیے، انسانی ماحول کی تطہیر کے لیے،انسانی قلُوب کے تز کیہ کے لیے،انسانی ارواح کے تصفیہ کے لیے،انسان کو اللہ کے قریب کرنے کے لیے، اللہ کے قرب کے حصول کے لیے،دنیاوآ خرت کی کامیابی وکامرانی کے لیے، اللہ کے انعام و اکرامات سے آشنائی کے لیے اور اللہ کی رحمت و برکات کے سائے کے نیچے لانے کے لئے رسول اللہﷺ کو مبعوث فرمایا گیا۔
اِنسانی زندگی ، زندگی کے لمحات ، اس کے روز و شب ، اس کے لیل ونہار ان کوبہترکرنے کے لیے امن وسکون سے نوازنے کے لیے،آ رام واطمینان سے آشناکرنے کے لیے،اللہ کے رسولﷺ نے خود تکلیفیں اُٹھاکر،اپنے ساتھیوں کو شہیدکراکے ساری دُنیاکے رہنے والوں کے لیے امن وسکینت اور رحمت وبرکات کاباعث جودین ہے وہ ہم تک پہنچایا ہے،لیکن آ ج ہم خُود ہی اس رحمت سے نا آشنائی اختیار کئے ہوئے ہیں،ہم خود ہی امن و سکینت کے اِس ضامن سے قطع تعلّقی اختیار کر چکے ہیں ، آج ہم خود ہی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارتے ہوئے وہ رسالت و نبوّت جو ہماری بہتری کے لیے ، ہماری نجات اُخروی کے لئے ، اللہ کی طرف سے نازل کی گئی تھی ہم نے اسے پسِ پُشت ڈال دیا ہے۔ اور نتیجہ اُس کا یہ نکلا ہے کہ:۔
آج ہمارے دن ہم پر خوفناک عفریت کی صُورت مُنہ کھولے ہوئے ہیں ۔
آج ہماری راتیں بھیانک بلاؤں کی شکل اختیارکرگئی ہیں۔
آج ایک ایک لمحہ ہم کو ڈراتا ہے،دھمکاتا ہے۔
آج ایک ایک گھڑی ہمیں اپنے شکنجے کے اندرجکڑکرہمارے دل کا خُون کرتی چلی جارہی ہے۔
آج ہمارے گھر ہولناکیوں کا شکار اورہولناکیوں کی آماجگاہ بن چکے ہیں۔
آج ہمارے اپنے گلی کُوچہ ہمارے لئے عبرت کاسامان بنے ہوئے ہیں۔
آج ہمارے اپنے شہر،اپنے قصبات ، اپنے دیہات ، ہم پر مُصیبتوں کی بارش کررہے ہیں۔
وجَہ صرف ایک ہے کہ ہم نے اُس رسالت ونبوّت سے،اُس دین سے، اُس شریعت سے، اُس طریقت سے قطع تعلقی اختیارکر لیا ہے جو ہمارے لیے امن وسکینت کا باعث ہے،جو ہمارے لئے رحمت و برکات کاموجب ہے۔جو ہمارے لئے رحمت و اطمینان کی ضامن ہے،ہم نے اس شریعت کوپسِ پُشت ڈال کے اُس سے علیحدگی اختیار کر لی ہے ۔
آج ہم اپنے دُکھوں کا واویلا کرتے ہیں ۔
آج ہم اپنی مصیبتوں کا رونا روتے ہیں۔
آج ہم اپنے امراض کے علاج کے لئے کبھی جنیواء کی طرف دیکھتے ہیں،کبھی رُوس کی طرف اورکبھی امریکہ کی طرف نگاہیں اُٹھاتے ہیں۔
آج ہم کبھی کسی کاسہارا لینے کی کوشش کرتے ہیں،کبھی کسی کاسہارا ڈھونڈتے ہیں۔
آج کبھی کسی کے نعروں کی قیادت کے سائے میں جاکر اپنے لئے آرام و اطمینان کی بارش برسانے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی کسی کے دستُور کے نیچے جاکر ہم اپنے لئے امن وسکینت کی راہیں ڈھونڈتے ہیں، لیکن ہر رہبر نظر آنے والا ہمارے لئے رہزن کی صُورت اختیارکرچُکا ہے۔
آج ہم اپنی زندگیوں کو بہترکرنے کے لئے جس طرف لپکتے ہیں،اس کے پاس جاکر دیکھتے ہیں تو ہماری زندگیاں اور زیادہ تلخ ہو جاتی ہیں۔
وجہ صرف یہ ہے کے ہم نے اُس دامن کو چھوڑ دیا ہے جس دامن کی پناہ میں جانے کی وجہ سے ہمیں سب کُچھ مل سکتا ہے،سارے دُکھوں سے نجات حا صل ہوسکتی ہے،سارے دردوں کی دواء مِل سکتی ہے ساری مُصیبتوں سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔
اُس دامن کوچھوڑ کرہم نے اُن لوگوں کی طرف،اُن علاقوں کی طرف،اُن قوموں کی طرف،اُن دستو روں اور نعروں کی طرف لپکنا شروع کردیا ہے،جو ہمارے لئے سوائے زہرِ قاتل کے اور کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتے۔
جبکہ سچ یہ ہے کے ہمارے دلوں کے بھید جاننے والا ، ہمارے مُستقبل کے حالات کوجاننے والا اللہ ربُّ العزت سب سے بہتر ہمارے لئے دوائیں تشخیص کرنے والا ہے،سب سے بھتر ہمارے لئے دکھوں کا مداوا عطا کرنے والا ہے، سب سے بہتر ہمارے لئے امن وسکینت کی راہیں کھولنے والا ہے، سب سے بہتر ہمیں رحمت و برکات سے آشناء کرنے والا ہے۔
اللہ ربُّ العزت نے ہمارے لئے جو دین اتارا ہے اسی میں ہماری بہتری ہے اورکسی میں ہمارے لئے بہتری نہیں ہے۔
اِسی لئے اللہ نے ارشاد فرمایا ہے:
ترجمہ:
اُسی چیز کو اختیار کرو،جو اللہ نے تمہاری بہتری کے لئے اپنی طرف سے تم پر نازل کی ہے، اُسی کی اتباع کرو، اُس کے علاوہ کسی اورکو اپنا دوست نہ سمجھو،کسی اور کی پیروی نہ کرو۔اگر کسی دستور کو لائحہ عمل بنانا ہے تو وہی ہے جو اللہ کی طرف سے تمہاری بہتری کے لئے تم پر نازل کیا گیا ہے۔
آج صورتِ حالات کیا ہے،آ ج ہم اپنے پیدا کرنے والے کو کہ جو ہماری فطرت کو جانتاہے ہماری بنیادوں کاسمجھنے والا ہے،جو ہمارے دل کے رازوں تک سے واقف ہے،جو ہمارے مستقبل کا بخوبی علم رکھنے والا ہے۔
جتنا وہ ہمارے لئے ہمارے حالات کی بہتری کے لئے سامان مہیا کر سکتا ہے،کوئی اور نہیں کرسکتا۔
اُس کے احکامات کو چھوڑ کر ہم اوروں کے غلام ہو گئے ہیں،اور خصوصاًاُن کے احکا ما ت کے جن کے دِلوں میں ہمارے لئے سوائے نفرت اورکینے کے اورکچھ بھی نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ ربُّ ا لعزت نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:
ترجمہ:
’’اے ایمان والو(اِس بات کودلوں کے اندر راسخ کر لو) تم نے یہود اور نصارٰی کواپنا دوست نہیں سمجھنا‘‘ ،اپنا دوست نہیں بنانا،اپنا ہمدرد نہیں جاننا۔
وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں،تمہارے دوست ہرگز نہیں ہو سکتے،تمھارے لئے اُن کے دلوں میں سوائے نفرت کے،کینے کے اور بغض کے کچھ نہیں ہے،اور جو شخص اُن کو اپنا دوست سمجھتا ہے، جان لو وہ اُنہیں میں سے ہو سکتا ہے تمہارا ساتھی نہیں ہوسکتا۔
آج کے اپنے حا لات کو دیکھیں ، پھر تاریخ کی ورق گردانی کیجئے۔
کِسی دورمیں آپ یہ نہیں پائیں گے کہ کبھی کسی یہودی نے،کبھی کسی عیسائی نے،کبھی کسی غیر مسلم نے مُسلما نوں سے تعاون کیا ہو۔مسلمانوں کا ساتھ دیا ہو،لیکن جگہ جگہ آپ کو ایسے تماشے نظر آئیں گے کہ یہود و نصارٰی آپس میں اگرچہ ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں، عقیدتاً آپس میں زمین وآسمان کا بغض رکھتے ہیں۔ سارے کُفار اگرچہ آپس میں تِتر بِتر ہیں لیکن مسلمانوں اور اِسلام کے خلاف سارے کے سارے یکجاء ہو چکے ہیں،یک جان ہو چکے ہیں۔
اِسی لیے اللہ ربُّ ا لعزت نے ارشاد فرمایا تھا : ’’الکفرملۃ واحدۃ‘‘
ترجمہ:
مُسلمانوں یاد رکھو،کفرمسلمانوں کے خلاف ایک حیثیت رکھتا ہے،مسلمانوں کے مقابل سارے کُفّار،یہود ہو تب بھی،نصاریٰ ہو تب بھی،ہندو ہو تب بھی،اِن کے علاوہ ہے تب بھی سارے کے سارے مُسلمانوں کے خلاف یک جان ہو چکے ہیں لیکن پھر بھی ہماری نظریں اُٹھتی ہیں تو انہیے کی طرف اُٹھتی ہیں۔
اللہ ربُّ العزت نے فرمایا:
ترجمہ:
تم یہود ونصارٰی کو اپنا دوست نہ سمجھو،جو دوست سمجھتا ہے(جو اُن کی باتیں مانتا ہے،جو اُن کے وضع کیے ہوئے ا صُول و قواعد کو اپنے اُوپر لاگوُ کرنے کی کوشش کرتا ہے جو تم میں سے اُن کو اپنا ساجھی ،ساتھی اور ہمدرد سمجھتا ہے۔ وہ تم میں سے نہیں)وہ اُن میں سے ہے ‘‘مُسلمان کہلائے تب بھی وُہ تمہاراساتھی نہیں،اُنہیں کا ساتھی ہے۔ اس لئے اُن کے طور طریقوں کی پیروی کرنے اور ان کے نظریات و اصول اپنانے کی بجائے، اس خالق حقیقی کے، انسانی زندگیوں کی بہتری کے لئے اُتارے ہوئے دین کو اپناؤ، اللہ رب العزت ہی انسان کا حقیقی مالک اور مہربان ہے، اس سے بڑھ کر، انسان کی بہتری کا سامان اور کوئی نہیں دے سکتا، اس کے عطا کردہ دین ہی میں دُنیا و آخرت کی بہتری ہے اور کسی کے دیئے ازم، نظریہ اور طریقۂ کار میں نہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -