ثقافتی لسانیات اور یونیورسٹیوں کا کردار

ثقافتی لسانیات اور یونیورسٹیوں کا کردار

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم( وائس چانسلر
یونیورسٹی آف گجرات )
انسانی معاشرہ ایک ایسی ہئیتِ اجتماعی کا نا م ہے جو انسانی تنوع کو ایک آہنگ میں پرو کر اجتماعی مقاصد کی طرف سفر کے عمل کو ممکن بناتی ہے۔ تاریخی طور پر یہ ہئیتِ اجتماعی اپنے داخلی آہنگ کو کئی بنیادوں پر استوار کرتی رہی ہے۔ تاریخ انسانی میں ایسے معاشرے بھی پائے جاتے ہیں جو خالص نسلی بنیادوں پر قائم رہے ہیں۔ آج بھی دنیا کے بعض علاقوں میں قبائلی نظام کی موجودگی اسی نسلی ثقافت کی یاد گار ہے ۔ جغرافیائی وحدت بھی بعض اوقات داخلی آہنگ کا تشکیلی عنصر رہی ہے۔ معاشی مفادات کی یکسانی نے بھی معاشرے کی تشکیل میں کردار ادا کیا ہے۔ اس طرح معاشرے مذہبی، اخلاقی اور روحانی بنیادوں کے علاوہ سیاسی اور ثقافتی اساس پر بھی قائم رہے ہیں۔ لسانی عصبیت نے بھی بعض اوقات معاشرتی اکائیوں کی تشکیل کو ایک انتہائی پیچیدہ عمل بنا دیا ہے۔ ثقافتی بنت کو کسی ایک پہلو تک محدود کرنا اب ناممکن ہو چکا ہے۔
ان منتوع عوامل کے باوصف مختلف معاشرتی اکائیوں میں طرزِ احساس کی وحدت کی بنیاد پر امتیاز کیا جا سکتا ہے۔ طرز احساس کی وحدت کی تشکیل میں لسانی ابلاغ اور ادبی اظہار بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ زبان و ادب کسی معاشرے کے ثقافتی، علمی، اخلاقی اور سیاسی سانچوں کی تشکیل کرتے ہوئے وحدت فکر و نظر اور یکساں طرز احساس پید اکرتے ہیں جو اس معاشرے کی شناخت کو تشکیل دیتا ہے۔
ثقافتی ابلاغ میں اضافہ نے دنیا کے مختلف معاشروں میں امتیاز کو بہت کم کر دیا ہے۔ جس کے نتیجہ میں شناخت کے بحران(crisis of identity)نے جنم لیا ہے۔ جس کے نتیجہ میں شناخت کے بحران نے شاخت پر اصرار کے رویہ کو بھی جنم دیا ہے۔ جس کا اظہار معاشرہ کے بارے میں مختلف النوع کلامیوں(Diverse Discourses)میں ہوتا ہے۔ کلامیوں کا تنوع معاشرہ میں رائج لسانی سانچوں اور ادبی اسالیبِ بیان پر اثر انداز ہوتا ہے۔ چنانچہ زبان و ادب کا مسئلہ اور اس کی ثقافتی اہمیت پہلے سے بڑھ کر نمایاں ہو جاتے ہیں۔ اس تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ زبان اور ادب کے معاشرہ سے تعلق کی نوعیت پر از سرِ نو غور کیا جائے اور اسے اجتماعی شعور کا حصہ بنایا جائے۔ بیسویں صدی کے نصف آخر کے آغاز سے ہی یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا کہ لسانی بنت کس طرح سماجی حقیقت کی تشکیل کرتی ہے اور کس طرح ثقافتی اور سیاسی مناقشے (conflicts)دراصل ضرورت اس امر کی ہے کہ زبان اور ادب کے معاشرہ سے تعلق کی نوعیت پر از سر نو غور کیا جائے اور اسے اجتماعی شعور کا حصہ بنایا جائے۔
بیسویں صدی کے نصف آخر کے آغاز سے ہی یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا کہ لسانی بنت کس طرح سماجی حقیقت کی تشکیل کرتی ہے اور کس طرح ثقافتی اور سیاسی مناقشے (conflicts)دراصل زبان کی بنت سے جنم لینے والے اور ادبی اسالیب اظہار میں تشکیل پانے والے بیانیوں (narratives)میں ہی تشکیل پاتے ہیں۔ بیانیوں کا ٹکراؤ ثقافتی لسانیات (cultural linguistics) اور تقابلی ادب (comparative literature)کا ایک اہم موضوع ہے۔ عالمی ابلاغ میں کوئی زبان کیا کردار ادا کرتی ہے اور عالمی بستی کی کسی گلی میں تشکیل پانے والا ادب دوسری گلیوں میں تشکیل پانے والے ادب سے کس طرح اثر پذیر ہوتا ہے اور اس ادب پر کس طرح اثر انداز بھی ہوتا ہے۔ معاصر دنیا میں ان سوالوں نے نئی اہمیت اختیار کر لی ہے اور کسی بھی معاشرتی تشکیل نو(social reconstruction)کے لئے ان سوالوں کا درست جواب جاننا ضروری ہے۔
ادب بنیادی طورپر کسی بھی معاشرتی یا ثقافتی اکائی کا موثر ترین اظہار یہ ہے۔ میتھیو آرنلڈ کی یہ رائے آج بھی خاصی اہمیت کی حامل ہے کہ ادب کسی معاشرہ کی ارفع ترین سوچوں اور اعلیٰ ترین مقاصد کو بیان کرتا ہے۔ کسی بھی معاشرہ کا اجتماعی طرزِ احساس ادب میں ہی تشکیل پاتا ہے اورادب ہی اسے قبول عام کے مقام پر فائز کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ ادب کی اصناف جہاں ایک معاشرہ میں رائج اسالیب اظہار کی نشان دہی کرتی ہیں وہیں وہ اس معاشرہ کی فکری و علمی اور سیاسی و ثقافتی تاریخ کی بھی عکاس ہوتی ہیں۔ مثلاً ہمارے ہاں ناول، آزاد نظم اور اس طرح کے کئی اسالیب بیان ہماری نو آبادیاتی تاریخ(colonial history)کا اشاریہ بھی ہیں۔
اس تناظر میں ادب،معاشرہ اور زبان کے باہمی تعلق کی کئی جہتیں سامنے آتی ہیں۔ اگر ایک معاشرہ کی زبان اپنی ثقافتی اقدار کو ادبی اظہار کی صورت دینے میں کامیاب ہو تو معاشرہ کا داخلی آہنگ مضبوط بنیادوں پر استوار ہو جاتا ہے۔ اور کسی بھی معاشرہ کے اندر پڑتی ہوئی غیر مرئی دارڑوں کا اظہار بھی سب سے پہلے اس معاشرہ کے اسالیب بیان میں ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ کسی بھی معاشرہ کی تشخیص کا ایک اہم پیمانہ اس معاشرہ میں تخلیق ہونے والا ادب ہے۔
نو آبادیاتی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے لوگ بخوبی آگاہ ہیں کہ ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں ثقافتی شناخت (cultural identity)کو نوآبادیاتی بیانیوں(colonial narratives)میں تشکیل دیا گیا اور پھر نظام تعلیم اور نصاب تعلیم کے ذریعہ اسے خود شناسی کا پیمانہ بھی بنا دیا گیا۔ آج اُن تمام معاشروں میں جو نو آبادیاتی تسلط کے تجریہ سے گزرے ہیں تعلیمی اداروں اور جامعات میں تخلیقی اُپچ کا بحران پایا جاتا ہے۔ دراصل نو آبادیاتی بیانیوں نے ہمیں یہ باور کرادیا کہ ہم تخلیقی صلاحیتوں کے فقدان کا شکار ہیں اور ہم محض نقالی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ آج بھی جب کہ ہم اپنی تاریخ کے اہم ترین دور سے گزر رہے ہیں ہمارے اکثر تعلیم یافتہ افراد کسی بھی طرح نو کی بنیاد رکھتے ہوئے ہچکچاہٹ کا شکار ہوتے ہیں ۔
زبان، ادب اور معاشرہ کے تعلق کو تخلیقی بنیادوں پر استوار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ نہ صرف اس تعلق کی نوعیت کی تفہیم کو عام کیا جائے بلکہ اپنے زبان و ادب کو نئی توانائی سے آشنا کیا جائے۔ زبان نہ صرف ثقافتی مبادلہ (cultural exchange)کا بہترین ذریعہ ہے بلکہ اگر مقامی ادب کو عالمی زبانوں میں اور عالمی ادب کو مقامی زبانوں میں تخلیقی انداز میں منتقل کیا جائے تو نہ صرف لسانی اور نادر احساسات بھی لسانی تجربہ کا حصہ بنتے ہیں۔ اگر ہمارے ادب کو عالمی زبانوں میں موثر انداز میں منتقل کیا جائے تو ہمارا ثقافتی بیانیہ جغرافیائی حدود سے آگے جا کر ہماری اقدار و روایات کو اقوام عالم کے لیے قابل فہم بنا دے گا۔ اسی طرح عالمی ادیبوں سے ہماری شناسائی ہمارے قلم کاروں، ادیبوں اور دانش وروں کے شعور کے کینوس کو بھی وسیع کرے گی اور اقوام عالم کے درمیان ربط و ارتباط کے امکانات میں اضافہ کا باعث بھی بنے گی۔
جامعہ گجرات کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ اس اہم ثقافتی ذمہ داری کا ادراک کرتے ہوئے ایک شعبہ شروع کیا گیا ہے جو مستقبل میں ہماری ثقافتی اور لسانی ضروریات کی تکمیل میں معاون ہو گا۔علوم ترجمہ کا ایک باقاعدہ مرکز جامعہ گجرات میں اپنے کام میں مصروف ہے اور ایسے ماہرین علوم ترجمہ کی تعلیم و تربیت کا کام جاری ہے جو آنے والے دنوں میں ہمای اس بنیادی ثقافتی ضرورت کی تکمیل میں مددگار ثابت ہوں گے۔
میری دانست میں پاکستانی جامعات کو ایک ایسے ثقافتی بیانیہ کی تشکیل میں قائدانہ کردا ر ادا کرنا چا ہیے جو ہماری درخشاں تہذیبی روایات کا بھی امین ہو اور ماضی قریب میں ہمارے معاشرہ میں در آنے والے انتہا پسندانہ رویوں کے مقابلہ میں کشادہ ذہنی اور روشن فکری کی ایسی فضا پید کرے جو ہمارے ثقافتی، سیاسی ، روحانی معاشرتی اور معاشی ارتقاء میں اہم کردا ر ادا کرے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے جہاں سائنس اورٹیکنالوجی کے میدان میں جامعات کے لیے معاونت کا ایک نظام وضع کیا ہے وہیں سماجی علوم اور بشری علوم(social sciences and humanities)یں بھی حوصلہ افزائی اور معاونت کا آغاز کیا ہے۔ اگر جامعات کی قیادت پورے خلوص اور دلجمی کے ساتھ دستیاب وسائل کو استعمال میں لائے اور تعلیمی عمل کو لسانی اور ادبی تناظر کے ساتھ علمی ثقافت پر استوار کرنے کی جدوجہد کرے تو امید کی جا سکتی ہے کہ ایک ایسی علمی و فکری قیادت ان جامعات میں تربیت پائے جو آنے والے زمانوں میں ملک و قوم کی تعمیر نو میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہوئے اسے بام عروج تک پہنچا دے۔

مزید :

ایڈیشن 2 -