ایجوکیشن راؤنڈاپ

ایجوکیشن راؤنڈاپ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

انٹرمیڈیٹ کے نتائج کے بعد کالجوں میں بی ایس آنرز اور بی اے/ بی ایس سی کے داخلے
پنجاب کے گرلز و بوائز کالجز میں دو سالہ بی اے بی ایس سی کورسز کو بحال کیا جائے
*گورنمنٹ کالج ٹاؤن شپ میں ایم اے فارسی کلاسز کا اجرا انٹرمیڈیٹ کے امتحانی نتائج کے اعلان کے بعد پنجاب یونیورسٹی، جی سی یو، ایف سی کالج اور دیگر سرکاری و نجی کالجوں میں بی ایس آنرز اور دو سالہ بی اے بی ایس سی کے داخلوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ رواں تعلیمی سیشن میں لاہور کے کچھ مزید بوائز اور گرلز کالجوں میں بی ایس آنرز کے داخلے شروع کئے گئے ہیں جن اداروں میں چار سالہ بی ایس آنرز کورس کا اجرا کیا جاتا ہے وہاں دو سالہ بی اے بی ایس سی کو ختم کر دیا جاتا ہے۔ گزشتہ سات سال سے والدین اور طلبا و طالبات کی طرف سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ جن اداروں میں چار سالہ آنرز کلاسوں کا اجرا کیا جاتا ہے ۔ وہاں دو سالہ بی اے بی ایس سی کو ختم نہ کیا جائے لیکن محکمہ ہائر ایجوکیشن کو اس مطالبے پر غور کرنے یا اس کی پذیرائی کے لئے کوئی فرصت نہیں اور اس کا فائدہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں اور اکیڈمیوں کو پہنچ رہا ہے جہاں بی اے بی ایس سی دو سالہ کورس میں ہزاروں طلبا و طالبات داخلہ لے کر ان اداروں کے مالی وسائل میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ گزشتہ 152 سال سے تعلیمی اداروں میں دو سالہ بی اے/ بی ایس سی کی اجازت تھیا ور مولانا محمد حسین آزادی علامہ اقبالؒ پطرس بخاری، فیض احمد فیض، صوفی تبسم، ناصر کاظمی، حفیظ ہوشیارپوری خاں صاحب قاضی فضل حق، ڈاکٹر سید عبداللہ، ڈاکٹر عبادت بریلوی الغرض تدریسی شعبے کے جتنے بھی بڑے نام ہیں انہوں نے دو سالہ بی اے کیا ہے سیاسی راہنماؤں، اعلیٰ عدلیہ اور عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ) کے جج صاحبان معروف ماہرین قانون یونیورسٹیوں سے ایم اے ایم ایس سی کرنے والے تمام طلبا و طالبات دو سالہ بی اے بی ایس سی کے بعد قانون اور پوسٹ گریجویشن کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں پنجاب یونیورسٹی، جی سی یو فیصل آباد سرگودھا اور گجرات کی سرکاری یونیورسٹیوں سے ملحقہ کالجوں اور پرائیویٹ طلبا کی ایک بہت بڑی تعداد دو سالہ بی اے، بی ایس سی کرتی ہے پھر کیا وجہ ہے کہ پنجاب کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے اساتذہ کی دستیابی کے باوجود دو سالہ کورس کو ختم کر دیا ہے جبکہ چار سالہ کورس کے لئے وسائل اور سہولیات بھی دستیاب نہیں ہیں۔ صوبائی وزیر اعلیٰ میاں محمد شہباز شریف اور صوبائی وزیر برائے ہائر ایجوکیشن محترمہ ذکیہ شاہنواز کو پنجاب کے سرکاری کالجوں میں بی اے بی ایس سی کے دو سالہ کورس کو بحال کرنا چاہئے اور مفصل کالجوں میں جہاں چار سالہ کورس نہیں ہے وہاں بی ایس آنرز کی کلاسوں کا اجرا کرنا چاہئے۔
محکمہ ہائر ایجوکیشن میں انتظامی عہدوں کی خالی آسامیاں
گزشتہ دنوں ایک طویل انتظار کے بعد محکمہ ہائر ایجوکیشن نے لاہور بورڈ کے چیئرمین کا تقرر کر دیا ہے تاہم ابھی تک انتظامی عہدوں پر بے شمار اہم آسامیاں خالی چلی آ رہی ہیں۔ ڈائریکٹر ایجوکیشن کالجز لاہور ڈویژن کے عہدے کے لئے ایک درجن سے زائد امیدواروں کے انٹرویوز کئے گئے تاہم ابھی تک احکامات کا اجرا نہیں کیا گیا۔ صوبائی دارالحکومت کے اہم کالجوں میں پرنسپل کی آسامیاں طویل عرصہ سے خالی چلی آ رہی ہیں جبکہ گریڈ بیس کے اساتذہ کثیر تعداد میں دستیاب ہیں۔ اگر آب گڈ گورنس چاہئے ہیں تو آپ کو خالی آسامیاں پر کرنا ہوں گے۔
گریڈبیس میں پروموشنز
گورنمنٹ کالج آف سائنس وحدت روڈ میں شعبہ آنگریزی کے راؤ ظفر اقبالا ور شعبہ اردو کے چودھریم حمد ایوب کو گریڈ بیس میں ترقی دی گئی ہے۔ گورنمنٹ وارث شاہ ڈگری کالج جنڈیالہ شیر خان کے پرنسپل محمد اقبال کو بھی گریڈ بیس میں ترقی دی گئی ہے۔ اسلامیہ کالج لاہور کینٹ کے پرنسپل محمد مختار حسین بھی گریڈ بیس میں ترقی حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں۔
گورنمنٹ کالج ٹاؤن شپ لاہور میں ایم اے فارسی کا اجرا
گورنمنٹ کالج ٹاؤن شپ میں ایم اے فارسی کلاسز کا اجرا کر دیا گیا ہے۔ شعبہ فارسی کو ایم اے کلاسز کے اجرا کے سلسلے میں شعبہ اردو اور شعبہ عربی کے اساتذہ کا تعاون بھی حاصل رہے گا۔
پروفیسر محمد رضوان الحق کی ریٹائرمنٹ
گورنمنٹ کالج ٹاؤن شپ کے صدر شعبہ اردو پروفیسر محمد رضوان الحق مدت ملازمت پوری ہونے پر ریٹائر ہو گئے ہیں۔ وہ پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچرز ایسوسی ایشن کے عہدیدار رہے انہوں نے گورنمنٹ اسلامیہ کلاج قصور گورنمنٹ کالج آف سائنس وحدت روڈ، گورنمنٹ دیال سنگھ کالج، گورنمنٹ ایف سی کالج اور گورنمنٹ کالج ٹاؤن شپ میں تدریسی خدمات سر انجام دیں۔ وہ گورنمنٹ کا ایف سی کالج میں ایک طویل عرصہ ہوسٹل سپرنٹنڈنٹ بھی رہے۔ پروفیسر محمد رضوان الحق کے اعزاز میں تمام شعبہ جات کی طرف سے الوادی تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔

مزید :

ایڈیشن 2 -