پاکستان کے عوام کرپشن پسند کرتے ہیں؟

پاکستان کے عوام کرپشن پسند کرتے ہیں؟
 پاکستان کے عوام کرپشن پسند کرتے ہیں؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

میری نظر میں یہ سوال بہت اہم ہے کہ کیا پاکستان کے عوام کرپشن پسند کرتے ہیں، یہ سوال بہت ہی محترم منوبھائی نے اپنے کالم میں اٹھایا، میں نے پورا کالم پڑھا تاکہ ان کی رائے سے آگاہ ہو سکوں کہ وہ بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے تحریک انصاف کے چئیرمین جناب عمران خان کی لنچ کانفرنس میں معزر اخبار نویس ساتھی کے حوالے سے یہ خیال بیان کیاکہ ’ پاکستان کے لوگ کرپشن پسند کرتے ہیں چنانچہ آپ کے دھرنے کے بعد آزاد کشمیر کے انتخابات میں مسلم لیگ نون جیت گئی‘۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف کے دھرنے میں شرکت اورجناب عمران خان کے بیانات کی حمایت ہی کرپشن سے نفرت ہے، جو لوگ مسلم لیگ نون کو ووٹ دیتے ہیں وہ کرپشن کی بطور نظام حمایت کرتے ہیں، اسے پسند کرتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ ایسا تاثر دینابھی فکری بدعنوانی کی ذیل میں آتا ہے۔


خان صاحب کے دھرنے کے بعد آزاد کشمیر کے انتخابات میں مسلم لیگ نون کی کامیابی کو کرپشن کی پسندیدگی کے جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ خان صاحب پاکستانی تاریخ کے طویل ترین دھرنے اور احتجاجی تحریک کے باوجود اپنا موقف قانونی اور عوامی عدالتوں میں ثابت کرنے میں ناکام رہے لہذا وہ تمام لوگ جو خان صاحب کا ساتھ نہیں دے رہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ کرپشن کو پسند کرتے ہیں بلکہ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ وہ کرپشن کے خاتمے کے لئے خان صاحب کی اہلیت اور قیادت پریقین نہیں رکھتے، وہ انہیں اور ان کی ٹیم کو ان کے ماضی کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخواہمیں کمزور کارکردگی کی وجہ سے شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اگر تمام پاکستانی خان صاحب کی نیت اوراہلیت پر یقین رکھتے ہوتے تو انہیں ووٹ سے نوازتے، وہ مسلسل ضمنی الیکشن ہار نہ رہے ہوتے،ا ن کے دھرنے مسلسل سکڑ نہ رہے ہوتے۔


کیا خان صاحب پاکستان کی تاریخ میں پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے کرپشن کے خلاف آواز بلند کی ہے، نہیں ، ایسی بات نہیں، یہ ہر فوجی ڈکٹیٹر کا پسندیدہ نعرہ رہا ہے، خان صاحب کی طرح ان فوجی آمروں کو بھی صرف اور صرف اپنے مخالف سیاسی رہنماوں کی کرپشن ہی نظر آتی رہی ہے ۔ جو ان کی تعریف کرتے ہیں وہ صاف ، شفاف ہونے کے سرٹیفیکیٹ حاصل کرتے رہے۔ یہ نعرہ ایوب خان کے دور سے لے کر آج تک سیاسی اور جمہوری عمل کو ڈس کریڈٹ کرنے کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے اور یوں رفتہ رفتہ یہ خیال جڑ پکڑتا جا رہا ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے روایتی دھوکے باز نعرے کی بجائے مسائل کے حل اور ترقی کے وژن کو اعتماد کی بنیاد اور ووٹ کے لئے ترازو بنایا جائے ۔مسائل کے شکار عوام کا اپنے مفاد میں فیصلہ فکری مغالطے کا شکار کر دیتا ہے ۔پانامہ لیکس میں بھی اپوزیشن کی طرف سے مخصوص مفادات کے حصول کے لئے گھسا پٹا فارمولہ اپنایا جا رہا ہے یعنی ایسے ٹرمز آف ریفرنسز جو کرپشن کی بجائے نواز شریف کو ٹارگٹ کر یں۔ کیا یہ بات درست نہیں کہ جب چالیس ارب روپوں سے لاہور اسلام آباد موٹر وے بن رہی تھی تو اس میں چار سو ارب روپوں کی کرپشن کا الزام عائد کیا جا رہا تھا، ابھی کل ہی کی بات ہے جب میٹرو پراجیکٹ بن رہا تھا تو ساڑھے تیس ارب روپوں کی بجائے اس پر ساٹھ سے نوے ارب روپے خرچ کرنے کی باتیں کی جا رہی تھیں، جب تمام ریکارڈ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کو دیا گیا اور اس تنظیم کی طرف سے محترم عمران خان اور جناب پرویز الٰہی کو خطوط لکھے گئے کہ وہ اپنے الزامات کے ثبوت دیں تو انہوں نے خطوط کے جواب دینا بھی پسند نہ کئے ۔ یوں تمام الزامات محض مفروضے ہی رہ گئے مگر موٹروے اور میٹرو پراجیکٹ ایک حقیقت کے طور پر عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔ بہت ہی احترام کے ساتھ سوال یہ ہے کہ اگر عوام الزامات کے ساتھ چلے جاتے اور منصوبوں کو مسترد کر دیتے تو آج ان کے پاس یہ سہولتیں بھی موجود نہ ہوتیں۔


مجھے سو فیصد یقین کے ساتھ کہنا ہے کہ پاکستان کے عوام کرپشن پسند نہیں کرتے، کرپشن کچھ کی مجبوری بنا دی گئی ہے اور کچھ قانون کی بالادستی نہ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ علم سیاسیات کے ماہرین کے مطابق کرپشن ہمیشہ مساوی قانون اور اچھی حکمرانی کے فقدا ن کی وجہ سے ہوتی ہے ، یہ فقدان ہمیشہ آئین پر عمل نہ ہونے اور احتساب کے عمل کی عدم موجودگی کے باعث ہوتا ہے یوں ہم بہت آسانی کے ساتھ کرپشن کے بہت پھیلے ہوئے درخت کی جڑوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ ہماری پاس بہت ساری شخصی گواہیاں اور واقعاتی شہادتیں موجود ہیں کہ خان صاحب کی دھاندلی اور کرپشن کے خلاف تحریک اصل میں اسٹیبلشمنٹ کے ایک مخصوص گروہ کی ملی بھگت کے ساتھ تھی، یوں جب عوام اس پوری تحریک اور اس کے محرکات پر غو ر کرتے ہیں تو وہ خان صاحب کی دل فریب باتوں میں نہیں الجھتے۔ وہ جانتے ہیں کہ اس ٹیم اور اس نعرے کا مقصد کرپشن کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک ایسے نئے دور کا آغاز ہے جس میں کرپشن کرنے والے چہرے بدل جائیں گے۔ یہاں ایک ضمنی سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر خان صاحب ناکام ہو رہے ہیں تو پھر جماعت اسلامی کو کامیاب ہونا چاہئے کہ ان کے پاس کرپشن کے الزامات سے پاک نیک اور دیانتدار لوگوں کی ٹیم موجود ہے مگر برا ہوا س تصور کا کہ جماعت اسلامی بھی عشرو ں سے اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم سمجھی جاتی ہے اور یوں آپ اس پیراگراف کو دوبارہ پڑھیں تو آپ کو جماعت اسلامی کے قیادت کی تمام تر نیک نامی کے باوجود اس کے مسترد کئے جانے کی وجوہات سمجھ آجائیں گی۔


اس تکلیف دہ حقیقت سے انکار نہیں کہ ہمارے معاشرے میں کرپشن نیچے تک در آئی ہے مگر یہ مچھلی بھی اپنے سر سے ہی گلنا سڑنا شروع ہوئی ۔اب سوال یہ ہے کہ اگر خان صاحب کے نعروں ، ٹیم اور طریقہ کار پر یقین نہیں تو پھر کرپشن کے خاتمے کا متبادل طریقہ کار کیا ہے ۔ بدقسمتی سے خان صاحب نے ووٹروں کے اعتماد کے حوالے سے پاکستان کی سب سے بڑی اور مقبول سیاسی جماعت کو کرپشن کی ایک علامت بنانے اور فکری مغالطے پیدا کر نے کی ایسی کوشش کی ہے ،ہمارے معزز اور محترم صحافیوں کے خیالات سے درست یا غلط مطلب نکالا جا سکتا ہے کہ خان صاحب کے دھرنوں کے باوجود مسلم لیگ نون کی کامیابی اصل میں عوام کی طرف سے کرپشن کو ناگزیر سمجھتے ہوئے اسے جائزیت عطا کرنا ہی نہیں بلکہ اسے پسند کرنا بھی ہے۔ کرپشن کا خاتمہ کسی تحریک کی بجائے آئین کی بالادستی،قانون کے نفاذ اور احتساب کے منصفانہ عمل میں چھپا ہوا ہے اور یہ تینوں مقاصد صرف اور صرف انتخابات کے بروقت اور منصفانہ انعقاد کے ذریعے حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ کیا ماضی قریب کی انتخابی تاریخ نہیں بتاتی کہ مسلم لیگ قاف اور پیپلزپارٹی کو انتخابی عمل کی صورت میں ہی موثر ترین احتساب کا سامنا کرنا پڑا، جو کام ضیاء الحق مرحوم گیارہ برسوں میں نہ کرسکے وہ پیپلزپارٹی کے اپنے پانچ برسوں کے یاسی اور جمہوری طورپر ہو گیا۔ مجھے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بیان کرنی ہے کہ ان کی امت کبھی برائی پر مجتمع نہیں ہوسکتی اور کرپشن برائی کی بدترین صورت ہے لہذا ہمیں یہ تصور نہیں کرنا چاہئے کہ عوام کے اعتماد کے حامل کرپٹ اور مسترد شدہ ایماندار ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو انتخابات کی صورت میں بہترین اور طاقت ور ترین فیصلے کر نے دیجئے، یہ فیصلے کرپشن کا خاتمہ کر کے رکھ دیں گے۔ مجھے محترم منو بھائی کا ایک فقرہ یہاں نقل کرنے کی اجازت دیجئے کہ رفتار موٹر کاروں کی نہیں ہوتی بلکہ ان سڑکوں کی ہوتی ہے جن پر یہ کاریں چلتی ہیں۔

مزید :

کالم -