ٹونٹی ٹونٹی میں کامیابی، اب آگے؟

ٹونٹی ٹونٹی میں کامیابی، اب آگے؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پاکستان کرکٹ ٹیم نے جزائر غرب الہند (ویسٹ انڈیز) کی ٹیم کو تینوں ٹی 20- میچوں میں ہرا کر وائٹ واش کر دیا بلاشبہ نوجوان کھلاڑیوں کی یہ ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ ٹی 20- کے کپتان سرفراز احمد کی قیادت میں یہ مسلسل چوتھی کامیابی ہے کہ انگلینڈ کے خلاف واحد میچ میں کامیابی سے یہ سلسلہ شروع ہوا تھا، ان میچوں میں کھلاڑیوں نے بلاشبہ متحد ہو کر کھیلا اور ہر شعبہ میں محنت کی۔ عماد وسیم کو مبارک کہ اُسے کارکردگی کا اچھا صلہ ملا، توقع کرنا چاہئے کہ اب یہ سلسلہ برقرار رہے گا اور آج (جمعتہ المبارک) سے شروع ہونے والی ایک روزہ انٹرنیشنل میچوں کی سیریز میں بھی ٹیم کامیابی حاصل کرے گی۔ ٹیم کے چناؤ میں محنت کی گئی اس کے باوجود نقاد حضرات کے پاس تنقید کے کئی پہلو ہیں۔ بورڈ کو دھیان رکھنا چاہئے۔ان میچوں میں فتح کے لئے سرفراز احمد کی تعریف بے جا تو نہیں، لیکن جس انداز سے تعریف کے پردے میں اُسے اٹھانے اور قومی ون ڈے ٹیم کا بھی کپتان بنانے کی مہم شروع کر دی گئی ہے وہ اِس نوجوان کے لئے مشکلات پیدا کرے گی کہ احساس ہوتا ہے، جو حضرات ایسا کر رہے ہیں وہ ٹی20- سے ٹیسٹ تک بھی ایک ہی نظریئے کے حامل حضرات کا قبضہ چاہتے ہیں ان کی طرف سے ایک بڑے شہر کے کھلاڑیوں کی تعریف اور حمایت اظہر من الشمس ہے۔ بہتر ہو گا کہ اِس حوالے سے صرف کھیل اور کارکردگی کو معیار رکھا جائے۔ یہ نہیں کہ اگر عمر اکمل کی واپسی ہو ہی گئی ہے تو اُسے کھڈے لائن لگا دیا جائے۔پاکستانی ٹیم کے کوچ بہت پُرامید ہیں کہ کھلاڑیوں میں لڑنے کا جذبہ ہے اور کارکردگی بہتر ہو گی۔ تاہم یہ دیکھنا ضروری ہے کہ عماد وسیم مل گیا تو محمد عامر اچھی نہیں بہترین باؤلنگ کیوں نہیں کر پا رہا، کوچ کو توجہ دینا ہو گی یہی مسئلہ یاسر شاہ کا ہے کہ شہرت کے بام تک پہنچ گیا، گوروں نے ان دونوں پر کام کر کے ان کو ناکام کیا، یہ گوروں کی بڑی کامیابی ہے۔ اب ضرورت ہے کہ ان دونوں کھلاڑیوں پر خصوصی توجہ دی جائے ان کی حوصلہ افزائی کے ساتھ بہترین رہنمائی اور تربیت بھی کریں کہ یہ بہتر ثابت ہو سکیں، جیت سے بڑھ کر کوئی شے نہیں، ہم پاکستان ٹیم کو مبارکباد دیتے اور اچھے مستقبل کی توقع رکھتے ہیں۔

مزید :

اداریہ -