ایل پی جی کی قیمت میں 5روپے فی کلو کا اضافہ کر دیا گیا

ایل پی جی کی قیمت میں 5روپے فی کلو کا اضافہ کر دیا گیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور ( کامرس رپورٹر)ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں نے اوگرا کے نوٹیفیکیشن کے بغیر ایل پی جی کی قیمت میں 5روپے فی کلو کا اضافہ کر دیا جس سے گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 60روپے اور کمرشل سلنڈر کی قیمت میں 240روپے اضافہ ہو گیا ہے۔ قیمتوں میں اضافہ بین القوامی منڈی میں ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ کو بنیاد بنا کر کیا گیا۔ انٹرنیشنل مارکیٹ میں 50ڈالر فی میٹرک ٹن اضافہ کے بعد قیمت 308ڈالر فی میٹرک ٹن سے تجاوز کر کے 358ڈالر فی میٹرک ٹن ہو گئی۔ اس اضافہ کے بعد کراچی میں فی کلو کی قیمت 85روپے گھریلو سلنڈر کی قیمت ،970روپے۔لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، فیصل آباد، جہلم، قصور، ساہیوال، سیالکوٹ، ڈسکہ، پشاور 90روپے فی کلو،1030روپے گھریلو سلنڈر۔ رحیم یار خان، صادق آباد، حیدر آباد، ، اٹک ، میرپور آزاد کشمیر95روپے فی کلو، 1090روپے گھریلو سلنڈر۔ راولپنڈی ، اسلام آباد، ایبٹ آباد،مظفر آباد، باغ، فاٹا، کوٹلی، ?آزادکشمیر، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو اللہ یار، میر پور خاص، عمر کوٹ، نواپ شاہ، منباری، ٹھٹہ، دادو، جام شورو، شکار پور100روپے فی کلو1150روپے گھریلو سلنڈر۔گلگت بلتستان، مری،نتھیا گلی، بالاکوٹ،110روپے کلو،1270روپے گھریلو سلنڈر ہو گئی ہے۔ ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی اور آگاہ کیا کہ لوکل پیداواری گیس اور درآمدی گیس میں 26ہزار فی میٹرک ٹن کا فرق ہے۔ حکومت نے سال 2016میں گیس کی قیمتوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا اور لوکل پیداواری گیس کو انٹرنیشنل مارکیٹ کی قیمتوں پر فروخت کر کے روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے کی ناجائز منافع خوری کی جارہی ہے۔ سردیوں میں قدرتی گیس میں کمی کے باعث کھپت میں 35 سے 45 فیصد اضافہ ہو جاتا ہے۔طلب و رسد کو پورا کرنے کے لیے ماہانہ50سے 60ہزار میٹرک ٹن گیس کی درآمد کی ضرورت ہے۔ اس بار سردیوں میں طلب و رسد کو پورا کرنے کے لیے 3لاکھ میٹرک ٹن مزیددرآمدی گیس کی ضرورت ہے۔ اگر یہ مقدار امپورٹ نہ کی گئی توسال 2014کی طرح ایل پی جی کی قیمت 250روپے فی کلو سے تجاوز کر جائیگی۔ ایل پی جی کی کھپت اتنی بڑھ گئی ہے کہ پچھلے تین سال میں ایل پی جی کی درآمدنے سب ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں اتنی ایل پی جی درامد نہیں ہوئی جتنی پچھلے تین سال میں کی گئی۔ پرائیوٹ سیکٹر نے گیس کی درآمد کو یقینی بنا کر طلب و ردسد کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سال 2014میں ٹوٹل ایمپور ٹ 62,117ٹن، لوکل پروڈکشن 440,115اور ٹوٹل سیل 502,232میٹرک ٹن ہوئی۔سال2015میں ٹوٹل 245,678میٹرک ٹن ایمپورٹ ، لوکل پروڈکشن 629,809 ٹن اور ٹوٹل سیل 878,087میٹرک ٹن ہوئی۔ 2016میں ابھی تک 3لاکھ 25ہزار ٹن ایمپورٹ اور ٹوٹل فروخت 7لاکھ 50ہزار میٹرک ٹن ہو چکی ہے۔ عرفان کھوکھر نے وزیر پیٹرولم سے درخواست کی کہ ایل پی جی کے شارٹ فال کو پورا کرنے کیلئے درامدی گیس کی درامد پر فیزیبل پالیسی بنائی جائے تاکہ ایمپورٹ وافر مقدار میں یقینی بنائی جا سکے اور لوکل پیداور ی اور ایمپورٹڈ گیس کی قیمتوں کے تعین کر کے قیمتوں کو مستحکم کرنے کی بہتریب پالیسی بنائی جائے تاکہ غریب صارفین سستی گیس سے مستفید ہو سکیں اور ناجائز منافع خوری ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو جائے۔
ایل پی جی

مزید :

علاقائی -