مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی
مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


وزیراعظم محمد نواز شریف نے پہلی بار کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ میں قوم کی امنگوں کے مطابق پیش کر کے پاکستانی قوم کی آواز دنیا کو پہنچادی ہے۔جب سے پاکستان آزا د ہوا ہے، مختلف حوالوں سے اقوام متحدہ میں پاکستان کے سربراہان مملکت اور نمائندے ایشوز کو پیش کرتے رہے ہیں اور اکثر مشرق وسطیٰ اور فلسطین کے مسئلے کا تذکرہ آخر میں آتا تھا،لیکن وزیراعظم محمد نواز شریف نے پہلی بار نہ صرف مشرق وسطیٰ کی تباہ کن صورتِ حال سے دنیا کو آگاہ کرتے ہوئے فلسطین کے مسئلے کا آغاز میں بند کر دیا، عرب دُنیا اور فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان شدید مشکلات ،شد ت پسندی اور دہشت گردی کا شکار ہونے کے باوجود نہ صرف یہ کہ عربوں کے ساتھ کھڑا ہے، بلکہ فلسطین کے مسئلے کو دنیا میں دہشت گردی ،معاشی نا ہمواری اور بے انصافی کا سب سے بڑا مسئلہ تصور کرتا ہے، کیونکہ فلسطین کے مسئلے کی وجہ سے ہی شدت پسندی شروع ہو ئی ہے اور اس مسئلے کو حل کرنا اب ضروری ہے ۔دوسری جانب جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی بھارتی ریاستی دہشت گردی نے جنوبی ایشیا اور دنیا کی آدھی آبادی کو جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے، اس کی بنیاد بھی مسئلہ کشمیر ہے، کیونکہ کشمیر کی وجہ سے پاک بھارت کشیدگی اور دو جنگیں ہوئی ہیں، اگر اس مسئلے کو حل نہ کیا گیا تو یہ مسئلہ آئندہ کے لئے بھی پاکستان بھارت نہیں، بلکہ پوری دُنیا کے استحکام کے لئے خطرہ رہے گا۔وزیراعظم نے اپنے خطاب میں جن نکات کا ذکر کیا، وہ اس لئے اہم ہیں کہ پہلی بار وزیراعظم نے کشمیر میں حق خود ارادیت کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ جیسے فورم سے اعلان کیا کہ کشمیر میں انتفادہ کا آغاز ہوچکا ہے جس کا مطلب ہے کہ پاکستان کا کشمیر کی موجودہ تحریک سے صرف اخلاقی اور سفارتی تعلق ہے، کشمیر کی نوجوان نسل اب خود اس تحریک کو آگے بڑھا رہی ہے اور یہ ایک مقامی تحریک ہے، اِس لئے دُنیا نے جس طرح فلسطین کے انتفادہ کی طرف توجہ دی تھی، اسی طرح کشمیر کے انتفادہ پر بھی توجہ دے ۔اگر اس جانب توجہ نہ دی گئی تو پھر ایسا وقت آ سکتا ہے کہ معاملات ناصرف بھارت کے ہاتھ سے نکل جائیں گے،بلکہ پاکستا ن کے ہاتھ سے بھی نکل جائیں گے۔ حالات کو کنٹرول کرنا اس وقت ضروری ہے،لہٰذا بھارت کشمیر میں ہونے والے مسائل کی طرف توجہ دے اور اس سے پہلے کہ یہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے، اس کو حل کرے ۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد نواز شریف نے مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں بے گناہ کشمیریوں کی شہادتوں پر فیکٹ فائنڈنگ مشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ وادی کو غیر فوجی علاقہ قرار دے اور اپنی قراردادوں کے مطابق کشمیر میں استصواب رائے کرائے ۔انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی عالمی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم سلامتی کونسل کو کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ثبوت دیں گے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر پاکستان اور بھارت میں امن نہیں ہو سکتا۔ بھارت نے مذاکرات کے لئے پیشگی شرائط رکھیں جومذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ امن اور کشمیر سمیت ہر مسئلے کے حل کے لئے مذاکرات چاہتا ہے، کیونکہ مذاکرات ہی دونوں ملکوں کے مفاد میں ہیں لیکن بھارت کی شرائط کے باعث مذاکراتی عمل شروع نہیں ہو سکتا۔وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کی نئی نسل بھارت کے قبضے کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے اور بھارت تحریک آزادی کو دبانے کے لئے وہاں مظالم کر رہا ہے، لیکن بھارتی مظالم سے کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے ۔بھارتی فورسز انسانیت سوز تشدد کر رہی ہیں۔بھارتی فورسز نے تحریک آزادی کے نوجوان لیڈر برہان وانی سمیت ہزاروں کشمیر یوں کو شہید کر دیا اور کتنے ہی زخمی اور نابینا ہو گئے، جبکہ برہان وانی کشمیری نوجوانوں کے لئے مثال بن گئے۔ وزیراعظم نے بے گناہ کشمیریوں کی شہادت پر عالمی کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج بے گناہ کشمیریوں پر پیلٹ گن استعمال کر رہی ۔تحریک آزادی دبانے کے لئے کرفیو نافذ کیاگیاہے۔کشمیریوں نے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل کا 70سال انتظار کیا ۔اقوام متحدہ وادی میں کرفیو ختم کرائے اور اسے غیر فوجی علاقہ قرار دے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو حق خود ارادیت سے محروم نہیں رکھا جا سکتا، ہم مقبوضہ کشمیر میں سلامتی کونسل کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ثبوت دیں گے۔عالمی امن ،استحکام اور ترقی میں اقوام متحدہ کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ امن ،خوشحالی اور آزادی کے فروغ کے لئے اقوام متحدہ کو مرکز و محور کی حیثیت سے اپنی ساکھ کو بحال کرنا چاہئے ۔

مزید :

کالم -