بھارتی ڈھٹائی سے سارک سربراہ کانفرنس کا التوا

بھارتی ڈھٹائی سے سارک سربراہ کانفرنس کا التوا
بھارتی ڈھٹائی سے سارک سربراہ کانفرنس کا التوا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


بھارت کی زیر سرکردگی 4ملکوں کی طرف سے سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت سے انکار کے بعد تنظیم کے قواعد کے مطابق کورم پورا نہ ہونے کے باعث اسلام آباد میں منعقد ہونے والی 19ویں سارک سربراہ کانفرنس ملتوی کر دی گئی۔بھارت اور بنگلہ دیش نے تنظیم کے موجودہ چیئرمین نیپال کو اپنی عدم شرکت سے آگاہ کر دیا۔ اطلاعات یہ ہیں کہ بھوٹان اور افغانستان بھی اس کانفرنس میں شرکت نہیں کر رہے تھے۔ سارک کے چارٹر کے تحت اگر کوئی رکن ملک اجلاس میں شرکت سے معذرت کرتا ہے تو اس صورت میں اجلاس کا انعقاد نہیں ہو سکتا۔ مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز نے سارک سربراہ کانفرنس ملتوی کئے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے افسوسناک قرار دیا اور کہا ہے کہ آئندہ سارک سربراہ کانفرنس جب بھی ہو گی پاکستان میں ہی ہوگی۔یہ سربراہ کانفرنس 9 اور 10 نومبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونا تھی۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے دہشت گردی کے روایتی نام نہاد الزام کی آڑ لیتے ہوئے کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ سارک سیکرٹریٹ کی طرف سے سربراہ کانفرنس کے التواء کے بارے میں ابھی تک پاکستان کو آگاہ نہیں کیا گیا۔ بھارت کی پیروی میں بنگلہ دیش نے بھی سربراہ کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ سارک میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ، خالصتاً اس کا اپنا ہے۔
سفارتی حلقوں کی پختہ رائے ہے کہ سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت نہ کرنا، بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف سفارتی جارحیت کا ایک اقدام ہے۔ نیپالی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت، افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان نے اجلاس کے لئے ماحول ناسازگار قرار دیا ہے۔ چاروں ممالک کے اعتراض کو سنجیدگی سے لیا گیا۔ بطور چیئرمین سارک کہتے ہیں کہ سربراہ اجلاس کے لئے ماحول سازگار بنایا جائے۔کانفرنس ملتوی کرنے کا فیصلہ بھارتی ڈھٹائی کے باعث کیا گیا۔ بنگلہ دیش کے جونیئر وزیرِ خارجہ شہریار عالم نے تصدیق کی کہ ان کا ملک اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ بنگلہ دیش کی جانب سے نیپال کو بھیجے گئے پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’ بنگلہ دیش کے داخلی معاملات میں ایک ملک کی بڑھتی ہوئی مداخلت کی وجہ سے ایسا ماحول پیدا ہو چکا ہے جو نومبر میں اسلام آباد میں 19ویں سارک سربراہ اجلاس کے کامیاب انعقاد کے لئے مناسب نہیں۔ اسی وجہ سے بنگلہ دیش سربراہ اجلاس میں شرکت سے قاصر ہے۔
یہ پہلی بار نہیں کہ بھارت نے سارک کانفرنس میں شرکت سے انکار کیا ہو۔ ایسا پہلے بھی ہو چکا۔ بھارت کم از کم 4 مرتبہ سارک کانفرنس میں شرکت سے انکار کر چکا ہے۔ سارک کانفرنس کے پلیٹ فارم کو متاثر کرنے کا بھارت کا ٹریک ریکارڈ ہے۔ بھارت ہمیشہ ہی سے سارک کانفرنس کی راہ میں روڑے اٹکاتا رہا ہے۔ سارک کانفرنس کے پلیٹ فارم کا بنیادی مقصد خطے کے عوام کی معاشی حالت بہتر بنانا ہے۔ بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث خطے کے پسے ہوئے عوام مزید پسماندگی کا شکار ہوں گے۔ بھارت کے منفی روینے کا مقصد دنیا کی توجہ کشمیر کی صورتحال سے ہٹانا ہے۔ بھارتی سرکار ڈھائی ماہ میں سو سے زائد کشمیریوں کو شہید کر چکی ہے۔ مقبوضہ کشمیر بھیجے گئے فیکٹ فائنڈنگ مشنز بھارت کے چہرے سے نقاب اتاریں گے۔
اس خطے کے سات ممالک نے دو طرفہ باہمی تعلقات بہتر بنانے، ایک دوسرے کے ساتھ اقتصادی تجارتی تعاون کو فروغ دینے اور روزمرہ کے باہمی تنازعات طے کرنے کے لئے 30 سال قبل سارک تنظیم قائم کی تھی جس کے بنیادی ارکان میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، مالدیب، نیپال اور بھوٹان شامل ہیں۔ گزشتہ سال افغانستان کو بھی اس تنظیم کی رکنیت دی گئی۔ اپنے منشور، ایجنڈے اور پروگرام کے ناطے یہ تنظیم اس خطے کی موثر نمائندہ تنظیم بن سکتی ہے اور تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ ساتھ علاقے کی بہتری اور اقتصادی ترقی و استحکام کے لئے بھی نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے، مگر بھارت نے علاقے کی تھانیداری کی حرص اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے تحت شروع دن سے ہی سارک سربراہ تنظیم کو یرغمال بنانے اور اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی بدنیتی کا اظہار شروع کر دیا اور پاکستان اور بھارت کے دیرینہ تنازعہ کشمیر کو سارک سربراہ کانفرنس کے ایجنڈے کا حصہ نہ بننے دیا۔ اس طرح بھارت نے علاقائی تعاون کی اس تنظیم کی افادیت ختم کرنے اور اسے اپنی خواہشات کا اسیر بنائے رکھنے کی کوشش کی جس کا سارک کے رکن خطے کے دوسرے ممالک میں ردعمل پیدا ہونا فطری امر تھا۔ بے شک سارک کے دوسرے رکن ممالک بھارت جتنی آبادی، رقبہ اور وسائل نہیں رکھتے مگر آزاد اور خودمختار ہونے کے ناطے انہیں بھارت کے مساوی حیثیت ہی حاصل ہے جو یو این چارٹر میں تسلیم شدہ ہے۔
اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے تحت بھارت چونکہ پاکستان کے علاوہ خطے کے دوسرے ممالک کی خودمختاری میں بھی مداخلت کی سازشیں بروئے کار لاتا رہتا ہے اور سارک کے سربراہ موجودہ چیئرمین نیپال کے خلاف تو اس نے گزشتہ سال سے گھناؤنی سازشوں کے جال پھیلانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ جس نے اپنے آئین میں بھارت کی بھجوائی گئی ترامیم شامل کرنے سے انکار کیا اور اسے اپنی خودمختاری بھارت کی جانب سے چیلنج کئے جانے کے مترادف قرار دیا۔ بھارت نے اس پر گزشتہ سال سے ہی نیپال کا اقتصادی طور پر ناطقہ تنگ کرنے کی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانا شروع کر رکھا ہے اس کے باوجود نیپال نے بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کے آگے سر تسلیم خم نہیں کیا اور اپنی خودمختاری مضبوط بنانے والے اپنے آئین کو ہی نافذ کیا ہے۔ اسی طرح بھارت سری لنکا، بھوٹان اور بنگلہ دیش کو بھی سکون سے نہیں بیٹھنے دیتا اور انہیں اپنی پالیسیاں ڈکٹیٹ کرانے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ تو اس کی شروع دن سے مخاصمت ہے جس کو اس نے آج تک ایک آزاد اور خودمختار مملکت کی حیثیت سے تسلیم نہیں کیا اور آج وہ پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کی سازشوں کی انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔ چنانچہ سارک تنظیم میں صرف افغانستان ہی وہ ملک ہے جو بھارتی کٹھ پتلی کا کردار ادا کر رہا ہے اور وہ پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کی بھارتی سازشوں میں بھی شریک رہتا ہے۔
بھارتی توسیع پسندانہ عزائم سے عاجز آئے سارک تنظیم کے دوسرے رکن ممالک کو اب سارک تنظیم کے پلیٹ فارم پر متحد ہو کر بھارتی عزائم کا توڑ کرنا ہو گا۔ اگر بھارت اپنی برتری کے زعم میں اور پاکستان کے ساتھ تنازعہ کشمیر پر جاری اپنی کشیدگی کو مزید بڑھانے کی خاطر سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت سے انکار کرتا ہے تو سارک کے دوسرے رکن ممالک اس بھارتی بدنیتی کو سارک تنظیم کی کمزوری نہ بننے دیں اور شیڈول کے مطابق سارک سربراہ کانفرنس کا انعقاد کرکے اپنی آزاد و خود مختار حیثیت کا بھارت کو احساس دلائیں۔

مزید :

کالم -