ثقافتی یلغار کو تو روکیں

ثقافتی یلغار کو تو روکیں
ثقافتی یلغار کو تو روکیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


بھارت کی اشتعال انگیز کارروائیاں تو جاری ہی ہیں۔کنٹرول لائن پر اس قدر فائرنگ کی گئی کہ دو پاکستانی فوجی جوانوں کی جان چلی گئی۔اس سے قبل بھارتی وزیراعظم نے اپنی تقاریر میں ہر وہ الفاظ استعمال کئے جو مشتعل کرنے کا سبب تھے۔موجودہ بھارتی وزیراعظم بھی پاکستان کا وجود برداشت کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔یہ بھارتی سیاست دانوں کی نفسیات کا حصہ ہے۔کشمیریوں کی جدوجہد آزادی ہو یا سکھوں کی تحریک ہو یا بھارت میں علیحدگی کے لئے چلنے والی دیگر تحریکیں ہوں، اس سے پاکستان کو کیا سروکار؟ لیکن بھارت ہے کہ بلوچستان ہو یا کراچی ، براستہ افغانستان پاکستان کے لئے مسائل ہی کھڑے کئے ہوئے ہے۔ پاکستان اور بھارت دنیا بھر میں انسانوں کی آزادی کی بات کرتے ہیں، انسانی حقوق کا رونا روتے ہیں جب بات کشمیر کی آتی ہے تو بھارت کو پاکستان کا ہاتھ نظر آتا ہے،حالانکہ بھارت 1948ء میں اقوام متحدہ میں کشمیر میں استصواب رائے کی قرارداد کی حمایت کر چکا ہے۔ اس پر عمل در آمد کے معاملے میں ہر بھارتی حکومت اور وزیر اعظم منکر ہی رہے ہیں۔ کشمیری مسلمان آزادی چاہتے ہیں وہ ان کا بنیادی انسانی حق ہے۔ اقوام متحدہ ہو یا امریکہ یا دیگر بڑے ممالک انہیں کشمیری مسلمانوں کا یہ حق نظر آتا ہے اور نہ ہی محسوس ہوتا۔ کشمیریوں کی قربانیاں رائیگاں کیوں جائیں گی۔ان کا خون ضرور رنگ لائے گا۔
بھارت کی حالیہ جان لیوا اشتعال انگیز کارروائیوں کا نتیجہ تو کیا نکلے گالیکن سوشل میڈیا پر الفاظ کی ایک جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ اس جنگ کو دیکھنے کے بعد میں یہ سوچ رہا تھا کہ اگر ہم اتنے ہی محب وطن ہیں تو پھر بھارت سے سمگل کیا ہوا سامان کیوں خریدتے ہیں۔ پاکستان کے بازاروں میں بھارت سے غیر قانونی طور پر لایا ہوا سامان کیوں موجود ہے؟ اور اس کے خریدار کون لوگ ہیں۔سمگلنگ تو ویسے ہی، خواہ کسی بھی ملک سے سامان غیر قانونی طور پر در آمد کیا جائے، پاکستانی معیشت کے لئے نقصان کا سبب بنتی ہے۔ پھر بھارتی فلمیں کیوں ہمارے ٹی وی چینلوں پر چلتی ہیں۔ کیبل آپریٹروں نے بھارتی فلموں کی بھر مار کی ہوئی ہے۔ اکثر چینل آپریٹر حضرات اپنے اپنے علاقوں میں بھارتی فلمیں اور ڈرامے چلاتے ہیں۔ کیبل آپریٹروں کو کس نے اجازت دی ہے کہ وہ چینل استعمال کریں۔ ان کا کام نشریات کی سہولت فراہم کرنا ہے نہ کہ چینل کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا۔ٹی وی پر چلنے والے کارٹون کے دو چینلوں سے بچے رغبت رکھتے ہیں۔ ڈزنی نام کے ایک چینل پر ایک کارٹون چل رہا تھا۔ ایک مکالمہ کچھ اس طرح کا تھا ۔ ’’ مجھے کوئی لڑکی بتاؤ جس کے ساتھ میں دوستی رکھ سکوں‘‘ سوال کیا گیا کہ شادی کرو گے ، جواب میں کہا گیا کہ شادی نہیں، دوستی رکھوں گا‘‘۔ نو عمر بچے یہ چینل دیکھتے ہیں، ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے ہیں۔ وہ اس میں اتنے کھو جاتے ہیں کہ انہیں اپنے ارد گرد کا بھی ہوش نہیں رہتا۔ یہ عمر ہی ایسی ہوتی ہے جس میں شوق کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا۔ کیا ہم اپنے بچوں کے شوق کی خاطر ان کے ذہن خراب کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ کارٹون کے دونوں چینل ڈزنی اور سی این کو توجہ کے ساتھ مانیٹرکیا جائے تو ہمیں اندازہ ہو جائے گا کہ پاکستانی بچوں کی کیا ذہن سازی ہو رہی ہے۔ بچوں کو دوستی اور شادی کا فرق بتایا جارہا ہے۔ ثقافتی یلغار ہے۔ جب آپ کا بچہ یہ کہے کہ چنتا نہیں کرو، یا یہ معلوم کرے کہ دادا کی ارتھی کب اٹھے گی تو کیسا محسوس ہوتا ہے؟ پاکستانی چینل بھارت میں دیکھے نہیں جا سکتے ہیں لیکن پاکستان میں کیبل آپریٹروں کی مہربانی سے گھر گھر بھارتی فلمیں دیکھی جاسکتی ہیں اور کارٹون کے چینلوں کو تو باقاعدہ اجازت ہے۔ کیا کارٹون چینلوں کو پابند نہیں کیا جا سکتا کہ وہ پاکستانی ثقافت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اُردو زبان میں ڈبنگ کریں جس کی بعد ہی نشر کرنے کی اجازت ہو۔ پیمرا نے اینا لاگ سسٹم کی جگہ دیجیٹل سسٹم متعارف کرنے کی مہم کا آغاز کیا ہے۔ اس سسٹم میں ڈیکوڈر دیا گیا ہے جس میں بھارت کے ساٹھ سے زائد چینل بھی موجود ہیں، کیا بھارت بھی اسی طرح پاکستانی چینلوں کو بھارت میں دیکھے جانے کی اجازت دیتا ہے۔ پیمرا نے حال ہی میں تمام ایف ایم ریڈیو کو ایک ہدایت نامہ ارسال کیا ہے جس میں تنبہہ کی گئی ہے کہ نشر کئے جانے والے مواد میں نشریات کے کل وقت کے دورانیہ میں صرف دس فیصد وقت کے دوران غیر ملکی مواد نشر کریں۔ اکثر ایف ایم ریڈیو بھارتی فلموں کے گانے نشر کرتے ہیں جو غالبا غیر ملکی مواد تصور کیا جاتا ہے۔ گانوں کے وہ اثرات مرتب نہیں ہوتے جو کارٹون یا فلمیں دیکھ کر ذہن پر مرتب ہوتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان رواجی جنگ کا امکان تو نظر نہیں آتا، ثقافتی یلغار ہی سہی۔اسمگلنگ ہی سہی۔ اس تماش گاہ میں جس چیز پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے وہ بچوں کی ذہن سازی کا معاملہ ہے۔ ہم تو آج تک اپنے بچوں کو یہ تربیت نہیں دے سکے یا یہ نہیں بتا سکے کہ دہشت گردی کیا ہوتی ہے، کیوں پیدا ہوئی ہے، اس کے ذریعہ پاکستان کو کیوں نقصان پہنچایا جا رہا ہے، دہشت گردی کی کارروائی کی صورت میں انہیں اپنے بچاؤ کے لئے کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے۔ نیشنل ایکشن پلان میں یہ خامی موجود ہے کہ اس میں ذہن سازی یا شہریوں خصوصاً بچوں کی تربیت کرنے کا کوئی نکتہ یا پہلو موجود نہیں ہے۔ کیوں نہیں محکمہ تعلیم کو یہ ذمہ داری ادا کرنا چاہئے۔ رواجی جنگ جس میں فوجیں آمنے سامنے ہوتی ہیں، کا دور بظاہر لد گیا ہے۔لیکن بھارت اس پر عمل کرتا نظر آتا ہے جیسا لائن آف کنٹرول پر ہو رہا ہے۔ بہرحال اس سے کہیں زیادہ اہم ذہن سازی ہے، ہمیں اس جنگ پر توجہ دینا چاہئے تاکہ پاکستانی بچہ اپنے والد سے دادا کی موت کے بعد یہ نہ پوچھے کہ دادا کی ارتھی کب اٹھے گی۔

مزید :

کالم -