مسئلہ کشمیر پر پاکستان بھارت موجود اختلافات کا پر امن طریقے سے حل تلاش کریں

مسئلہ کشمیر پر پاکستان بھارت موجود اختلافات کا پر امن طریقے سے حل تلاش کریں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


واشنگٹن ،بیجنگ(کے پی آئی) چین اور امریکا نے پاکستان اور ہندوستان پر زور دیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر دونوں ممالک کے درمیان موجود اختلافات کا پر امن طریقے سے حل تلاش کریں۔ چین کی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق چین کے نائب وزیر خارجہ نے کشمیر پر چین کیلئے پاکستان کے خصوصی مشیر کو بتایا ہے کہ 'چین، پاکستان اور ہندوستان سے امید رکھتا ہے کہ وہ مذاکرات کیلئے تعاون کو بڑھائیں گے، اختلافات کو حل کرنے کی کوشش کریں گے، دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنائیں گے اور مل کر خطے کے امن و استحکام کا تحفظ کریں گے'۔
چین کے نائب وزیر خارجہ لیو ژینمن نے خصوصی مشیر کو یہ بھی بتایا کہ چین کشمیر پر پاکستان کے مقف کی حمایت کرتا ہے۔خیال رہے کہ چین کے پاکستان سے مضبوط سفارتی اور عسکری تعلقات ہیں جبکہ وہ پاکستان کی معاشی مدد بھی کررہا ہے اور دونوں ہی ممالک ایک دوسرے کو بہترین دوست تصور کرتے ہیں۔خیال رہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اس وقت تعلقات مزید کشیدہ صورت حال اختیار کر گئے ہیں جب ہندوستان نے 19 ویں سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت سے انکار کردیا، جو 9 اور 10 نومبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے جارہی تھی، ہندوستان کے اس اعلان کے بعد کانفرنس ملتوی ہوگئی ہے۔دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق ہندوستان انڈس واٹر ٹریٹی کو معطل کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے جسے پاکستان نے جنگ قرار دیتے ہوئے اس کے مطابق رد عمل کا اظہار کرنے کا اعلان کردیا ہے۔وائٹ ہاس میں پریس بریفنگ کے دوران امریکا کے پریس سیکریٹری جوش ایرنسٹ نے پاکستان اور ہندوستان پر زور دیا کہ دونوں ممالک اختلافات کو پرامن طریقے اور سفارتی ذریعے سے حل کریں۔خطے کی موجودہ صورت حال پر امریکا کے موقف کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے جوش ایرنسٹ کا کہنا تھا کہ 'ہندوستان نے رواں سال کے اختتام پر ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس میں شمولیت سے انکار کردیا ہے'۔انھوں نے کہا کہ امریکا، پاکستان اور ہندوستان کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گا کہ دونوں ممالک اختلافات کو پرامن طریقے اور سفارتی ذریعے سے حل تلاش کریں، اور ہم تشدد کی مذمت کرتے ہیں، خاص طور پر دہشت گرد حملوں کی۔اس سے قبل اڑی حملے کو جواز بناکر گذشتہ روز ہندوستان نے اعلان کیا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والے سارک اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔جس پر پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کا اعلان غیر متوقع ہے اور اس حوالے سے ہم سے باضابطہ رابطہ نہیں کیا گیا۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان علاقائی تعاون اور امن کے ساتھ وابستہ رہنے کیلئے پر عزم ہے۔کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے لیے بیان کی گئی وجہ کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ 'دنیا جانتی ہے یہ ہندوستان ہی ہے جو پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کررہا ہے۔

مزید :

عالمی منظر -