حلب میں حملے روکو ورنہ بات چیت بند، امریکا کی روس کو دھمکی

حلب میں حملے روکو ورنہ بات چیت بند، امریکا کی روس کو دھمکی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

نیویارک(این این آئی)شامی شہر حلب کے دو ہسپتالوں پر بمباری کے واقعے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ فرانس نے شام میں امن معاہدے کی خلاف ورزی کے خلاف سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ امریکا نے روس کو براہ راست دھمکی دی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکا نے شام کے موضوع پر روس سے تمام تر رابطے منقطع کرنے کی دھمکی دی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے روسی ہم منصب سیرگئی لاوروف سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے حلب کے ہسپتالوں، پانی مہیا کرنے کے مراکز اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو روس اور شامی دستوں کی جانب سے نشانہ بنائے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ شامی شہر حلب میں سرگرم امدادی تنظیموں کے مطابق باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں قائم دو ہسپتالوں پرتازہ بمباری کی گئی۔شام کی امیریکن میڈیکل سوسائٹی نے بتایا کہ جنگی طیاروں نے ان ہسپتالوں کو براہ راست نشانہ بنایا ۔
اور اب مشرقی حلب میں صرف چھ طبی مراکز باقی بچے ہیں۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق بمباری میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق کیری نے روس کو الٹی میٹم دیا ہے کہ بنیادی ڈھانچے پر حملے فوری روکے جائیں ورنہ امریکا شامی تنازعے پر روس کے ساتھ تمام تر دو طرفہ سرگرمیاں ترک کر دے گا۔ کیری نے مزید کہا کہ اس میں شام میں انسداد دہشت گردی کی مجوزہ مشترکہ کارروائیاں بھی شامل ہیں۔کیری نے روس کو الٹی میٹم دیا ہے کہ بنیادی ڈھانچے پر حملے فوری روکے جائیں ورنہ امریکا شامی تنازعے پر روس کے ساتھ تمام تر دو طرفہ سرگرمیاں ترک کر دے گا،اسی دوران پوپ فرانسس نے بھی حلب میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے بقول عام شہریوں کا تحفظ فوری ذمہ داری ہے اور بمباری کے ذمے دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ پاپائے روم نے مزید کہاکہ بمباری کرنے والوں کو خدا کے آگے جواب دینا ہو گا۔ انہوں نے ان واقعات پر شدید تشویش اور گہرے دکھ کا اظہار کیا۔دریں اثناء فرانس شامی شہر حلب میں فائر بندی کے لیے سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کرنا چاہتا ہے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں مارک کے مطابق وہ ایک ایسی قرارداد پر کام کر رہے ہیں، جس میں حلب میں فائر بندی کا ذکر ہو گا اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی ملک کو جنگی مجرم سمجھا جائے گا۔ ان کے ایک بیان کے مطابق اس قرارداد کا مقصد یہ بھی ہے کہ حلب میں جنگ بندی کے حوالے سے تمام فریقین اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔ ژاں مارک کے بقول اگر کسی ملک نے اس قرارداد پر ہونے والی ووٹنگ میں حصہ نہ لیا، تو یہ خطرہ بھی ہو گا کہ اسے بھی جنگی جرائم کا مرتکب سمجھ لیا جائے۔دوسری جانب ترکی شام سے ملنے والی اپنی سرحد پر کنکریٹ کی ایک دیوار کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایک ترک اہلکار نے بتایا کہ نو سو کلومیٹر طویل یہ دیوار پانچ ماہ میں تعمیر کر لی جائے گی۔ اس بیان کے مطابق اس دیوار کی تعمیر کا مقصد شام سے ترکی میں غیر قانونی نقل مکانی کو روکنا ہے۔

مزید :

عالمی منظر -