ہنگو میں محرم الحرام کے دوران سیکورٹی کے سخت ترین پلان تشکیل

ہنگو میں محرم الحرام کے دوران سیکورٹی کے سخت ترین پلان تشکیل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ہنگو(بیورورپورٹ) محرم الحرام کے لئے سیکورٹی پلان تشکیل۔ مجموعی طور پر پولیس کے 3543 نفری، پاک فوج اور فرنٹیئر کور کی تین تین کمپنیاں جبکہ فرنٹیئر کانسٹبلری کے 4 پلاٹون سمیت 30 لیڈی کانسٹبلز سیکورٹی فرائض انجام دیں گے۔ نویں اور دسویں محرم کو موٹر سائیکل چلانے پر مکمل پابندی،موبائل فونز بند رکھنے کے ساتھ ساتھ یکم محرم الحرام سے شہر میں افغان مہاجرین کے داخلے پر پابندی اور شہر کو مکمل سیل کرنے کا فیصلہ۔ پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں بھی منسوخ۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ہنگو شاہ نظر نے اپنے دفتر میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام میں پائیدار امن بر قرار رکھنے کے لئے جامع لائحہ عمل مرتب کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی انتظامات کے تحت 3543 پولیس اہلکاران، پاک فوج اور فرنٹیئر کور کی تین تین کمپنیوں سمیت فرنٹیئر کانسٹبلری کے چار پلاٹوں اور 30 لیڈی پولیس اہلکار محرم دیکورٹی فرائض انجام دیں گے۔ ڈی پی او شاہ نظر نے کہا کہ 27 امام بارگاہوں میں سے 8 امام بارگاہ حساس قرار دئیے گئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر مرکزی جلوس سمیت 18 مجالس منعقد کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نویں اور دسویں محرم کو شہر کے داخلی اور خارجی اور قبائلی علاقوں سے متصلہ روٹس مکمل سیل کر کے شہر میں کسی کو داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ چیکنگ پوائنٹس پر مریضوں کی سہولت کے پیش نذر کسی بھی میڈیکل ایمر جنسی کی صورت میں مریضوں کی ہسپتال تک رسائی ممکن بنائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران آذان کے سوالاوڈ سپیکر کے بے جا استعمال کی ممانعت ہو گی جبکہ تاجر برادری نویں محرم الحرام کو تجارتی مراکز بند کرنے سے قبل پولیس کے زریعے دکانیں سیکورٹی سرچ کے پابند ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں ایمر جنسی انتظامات کے ساتھ ساتھ طبی امداد فراہمی کے سرکاری اداروں کو مکمل سیکورٹی فراہم کی جائے گی جبکہ دسویں محرم کو مرکزی جلوس کو متعین کردہ اوقات کے اندر مکمل کرنے سمیت شہر کی فضائی نگرانی بھی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا محرم الحرام امن اخوت اور ب?ائی چارے کا درس دیتا ہے اور مزہبی ہم آہنگی اور پائیدار امن کے لئے اہل سنت اور اہل تشیع کے علماء کرام امن کمیٹی کے عمائدین کا تعاون حاصل ہے اور امن و امان کی فضاء برقرار رکھنے کے لئے تمام تر وسائل بر وے کار لائے جائیں گے۔