بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اسپتال اچھی حالت میں نہیں ،جام خان شورو

بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اسپتال اچھی حالت میں نہیں ،جام خان شورو

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) سندھ اسمبلی میں جمعرات کو ایم کیو ایم کے رکن سیف الدین خالد کے توجہ دلاؤ نوٹس پر وزیر بلدیات جام خان شورو نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اسپتال اچھی حالت میں نہیں ہیں کیونکہ وہاں ضرورت سے زیادہ بھرتیاں کی گئی ہیں اور سارا بجٹ تنخواہوں میں چلا جاتا ہے ۔ اسپتالو ں میں دواؤں اور معمول کے بجٹ کے لیے پیسے نہیں ہیں ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اسپتالوں میں دواؤں کے لیے 17 کروڑ روپے کی گرانٹ دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو مالیاتی اور انتظامی اختیارات دیئے ہیں ۔ انہیں چاہئے کہ وہ اپنے وسائل کو بہتر بنائیں ۔ اگر وہ یہ اسپتال نہیں چلا سکتے تو محکمہ صحت حکومت سندھ یہ اسپتال چلائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ عباسی شہید بہت بڑا اسپتال ہے ۔ یہاں ہزاروں مریض روز آتے ہیں ۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی اسے نہیں چلا پا رہی ہے ۔ ہم یہاں ایک بورڈ قائم کرکے اس اسپتال کو چلانے پر غور کر رہے ہیں ۔ عباسی شہید اسپتال میں 599 اسامیاں خالی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک زمانے میں بلدیہ عظمیٰ کراچی حکومت پاکستان کو قرضہ دیتی ہے لیکن اب اس کی مالی حالت ٹھیک نہیں ہے ۔ ایم کیو ایم کے رکن سید انور رضا نقوی کے توجہ دلاؤ نوٹس پر وزیر بلدیات جام خان شورو نے کہا کہ کراچی کے علاقے شفیق موڑ بفرزون میں پل کی تعمیر کے منصوبے کو نظرثانی کے لیے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے پاس بھیجا گیا ہے کیونکہ ہم اس پل کو مزید وسیع کرنا چاہتے ہیں ۔ حکومت یہ کوشش کرے گی کہ اس پل پر کام جلد مکمل ہو ۔