شیطان پیروں کے در پر لٹنے والوں کی کہانیاں

شیطان پیروں کے در پر لٹنے والوں کی کہانیاں
شیطان پیروں کے در پر لٹنے والوں کی کہانیاں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

خادمہ نے بھید کھول دیا....مقصود احمد

اخبارات اور کیبل پر بہت سے پیروں اور عاملوں کے اشتہار چلتے ہیں ۔ان کے بارے میں یہ رائے عام ہوتی ہے کہ یہ دم درود اور جادوٹونہ کرنے کے نام پر جعل سازی کرتے ہیں ۔جن مخلوقات کو تسخیر کرکے یہ مسائل زدہ لوگوں کے کام کرانے کا دعویٰ کرتے ہیں انکے وجود کی کوئی صداقت نہیں ہوتی البتہ یہ لوگوں کے کمزورعقائد کا فائدہ اٹھا کر ایسا دھندہ کرتے ہیں اور ان کی کمزوریاں جان کرانہیں بلیک میل کرتے ہیں ۔ان اخباری عاملوں کے پاس زیادہ تر ایسے لوگ ہی جاتے ہیں جن کا مقصد ہی دوسروں کو تنگ کرنا ہوتا ہے ۔جائز کام کے لئے بنے کو کسی اللہ والے کے پاس جانا چاہئے مگر میں نے بہت کم عرصہ میں یہ جانا ہے کہ جس کسی نے کوئی غلط کام کرانا ہوتا ہے وہ نیک لوگوں سے دعائیں کرانے نہیں جاتا البتہ انہیں یہ جعلی نما عامل اور بازاری قسم کے پیر بہت پسند ہوتے ہیں۔آپ نے جن شیطان پیروں کی کہانیاں لکھی ہیں وہ تو مذہب کی آڑ میں چھپ چھپا کر یہ کام کرتے ہوں گے لیکن ہر شہر میں اوراخبارات میں چھپنے والے ان پیروں کو کوئی نہیں پوچھ رہا جو کھلے عام عورتوںکی عصمتوں سے کھیلتے ہیں ۔میں اب یہ کیا کہوں کہ ان میں سے زیادہ تر فراڈ ہوتے ہیں البتہ ان میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو شیطانی علوم کی مدد سے نہ جانے کیا کچھ کرتے ہیں کہ لوگ انکے قابو میں آجاتے ہیں۔
میں کچھ عرصہ تک ایک ایسے پیر کے ساتھ اسکے سیکرٹری کے طور پر کام کرتا رہاہوں جو ایک عامل تھا لیکن اس نے جب دیکھا کہ حکومت عاملوں کے خلاف قانون بنا رہی ہے تو اس نے کینچلی اتار کر سر پر دستار رکھ لی داڑھی بڑھاکر خود کو پہلے صوفی مشہور کیا پھر ہم جیسے مریدوں کو تربیت دیکر اسنے پیر سائیں کہلوانا شروع کردیا۔وہ کئی بڑے اخبارات میں اپنے اشتہار بھی استخارہ کے حوالے سے چھپوانے لگا ،نام بھی اس نے بدل لیا اور مقام بھی۔بہت سے لوگ جانتے تھے کہ یہ وہی صاحب ہیں جو پہلے کسی اور نام سے یہ دھندہ کرتے تھے لیکن اب نئے نام سے وہ شہر کے پوش علاقے میں اپنا آستانہ بنا کر لوگوں کو بے وقوف بنا رہے تھے مگر کوئی ان سے یہ سوال نہ کرتا۔اخبارات میں اشتہارات شائع ہونے کی وجہ سے کئی صحافی بھی اس کے پاس آنے لگے اور پھر اسکواپنی نیک نامی اور درویشی کو مقبول کرنے کا نیا گُرہاتھ آگیا۔اس نے بعض صحافیوں کو کچھ وظائف سکھائے اور انہیں کہا کہ وہ اب اسکے خلیفہ کے طور پر کام کرسکتے ہیں۔ایک روز میں نے جھجکتے ہوئے سوال کیا” سائیں یہ خلیفہ ہمیں مروا نہ دیں کسی دن۔کیا ان کا وظیفہ چل سکے گا“
” تمہیں نہیں پتہ یہ مرے ہوئے لوگ ہیں۔ہمدردی اخلاص اور روحانی قوت کے متلاشی ہوتے ہیں۔میں جانتاہوں کسی دوسرے پران کا دم کام کرے یا نہ کرے لیکن ان پر میرا دم لازمی کام کرے گا“ایسا ہی ہوا۔پیر صاحب انہیں ہر جمعرات کو بلاتا اور مختلف طریقوں سے انہیں ذکر کراتا لیکن ان میں سے نہ کوئی نماز پڑھتا نہ وضو کرکے وظائف پڑھتا۔
پیر صاحب کے پاس اب لڑکیاں اور مسائل میں الجھی عورتیں بھی آنے لگیں تو اس نے ان میں سے کئی لڑکیوں کو اپنی بیٹیاںبنا لیا ۔وہ پڑھی لکھی تھیں لیکن انہیں نوکری اور شادی جیسے مسائل کا سامنا تھا۔دیکھتے ہی دیکھتے ان میں سے تین لڑکیاں مستقل آستانے میں آنے لگیں۔صبح سے شام تک پیر صاحب کے دفتر کے کام کرتیں ۔مجھے پیر صاحب نے کہہ دیا تھا ” دیکھ مقصود۔ ہمیں دفتر میں نظام چلانے کے لئے لڑکیوں کی ضرورت تھی اور اسکا انتظام ہوگیا ہے۔ تنخواہ بھی نہیںدینا ہوگی اور اوپر سے آنے والوں پر اچھا تاثر بھی پڑے گا۔مارکیٹ میں بیٹھے ہیں تو سودا بیچنے کے لئے یہ کام تو کرنا ہوں گے “
پیر صاحب کو نام کا چرچا کرانے اور لوگوں سے کام اور دام لینے کا بہت اچھا طریقہ آگیا تھا۔وہ لڑکیاں مہمانوں کی تواضع کرتیں تو بہت سے امیر زادے اور بگڑے ہوئے لوگ آستانے پر آنے لگے۔ایک دن مجھے معلوم ہوا کہ ان میں سے ایک لڑکی کا پیر صاحب کے ایک قریبی مرید سے نکاح ہوگیا ہے۔دوسری لڑکیاں اس بات پر بہت خوش تھیں کہ پیر صاحب کی خدمت کرنے کی وجہ سے ان کا نصیب کھل گیا ہے۔چند دنوں بعد دوسری لڑکی کے بارے میں بھی مجھے یہی خبر ملی کہ اسکا فلاں پولیس والے سے نکاح ہوگیا ہے۔ پیر صاحب کا اسکے ساتھ گہرا تعلق تھا۔حیرت کی بات یہ تھی کہ جس دن ان لڑکیوں کے نکاح ہوئے میں چھٹی پر تھا اور یہ تقریب آستانے میں نہیں ہوتی تھی۔اس دوران پیر صاحب کی یہ ”کرامت“ مشہور ہوگئی کہ انکے دست شفقت کی وجہ سے لڑکیوں کی شادیاں ہوجاتی ہیں ۔ہمارے معاشرے کی تو یہ کمزوری ہے ،بیٹی والوں کو یہ روگ لگا رہتا ہے کہ ان کی بیٹیوں کے لئے کب کوئی اچھا رشتہ آئے اور وہ بیاہ دی جائیں۔ایسے بہت سے کمزور لوگوں کے لئے پیر صاحب بہت بڑی ہستی بن گئے تھے۔اس موقع سے میں نے ایک فائدہ اٹھایا۔پہلے تین میں سے ایک لڑکی سے میں نے شادی کرلی اور وہ بھی میرے ساتھ ہی پیر صاحب کی خد مت کرتی۔
پیر صاحب کی شہرت کا نتیجہ یہ نکلا کہ کئی اور لڑکیاں آستانے پر خدمت کے آگئیں۔پڑھی لکھی اچھے نین نقش اور دلکش روپ سروپ والی لڑکیاں .... ایک دن پیر صاحب نے مجھے کہا” یار میں بھی ایک اور نکاح نہ کرلوں “ پیر صاحب صاحب اولاد تھے ۔انکی دو بیٹیاں تھیں ۔” میں اولاد نرینہ چاہتا ہوں ۔یہ تو تم جانتے ہو اب پہلی بیگم سے یہ امید نہیں ہوسکتی“۔ان کی بیگم نے دوسری بیٹی کی پیدائش کے بعد زچگی میں پیچیدگی کی وجہ سے آپریش کرالیا تھا۔یہ پیر صاحب کا جائز اور شرعی حق بنتا تھا کہ وہ دوسری شادی کرلیتے لہذا انہوں نے ایک خدمت گار لڑکی سے شادی کرلی اور اسکا نکاح آستانے میں ہی ہوا۔پیر صاحب نے اسکو آستانے کے اوپر والے پورشن پر رکھا۔اللہ کا قانون بڑا سخت ہوتا ہے۔تقدیر خود ایسے بدخصلت لوگوں کو سزا دینے کا عمل شروع کرتی ہے۔
بخدا میں نہیں جانتاتھا لیکن یہ بات بہت جلد کھل گئی اور جونہی مجھے علم ہوا میں نے پیر صاحب سے جان چھڑوالی۔ہوا یوں کہ پیر صاحب کی دوسری بیوی کے پاس آستانے کی لڑکیاں بھی آنے جانے لگیں تو یہ ُعقدہ کھلنے لگا کہ پیر صاحب ہر لڑکی کو شادی کاایک ”خاص عمل “ سکھانے کے لئے اپنے دفتر میں اس وقت بلاتے تھے جب بظاہر وہ کوئی حاضری وغیرہ کے لئے تنہا ہوتے تھے۔ان کے کمرے میں مختلف طرح کی خوشبویات ہوتی تھیں جس سے لڑکیوں کے حواس مختل ہوجاتے تھے اور پیر صاحب اپنی شیطانی ہوس پوری کرتے تھے۔پھر انکی وڈیوز بھی بنالیتے تھے۔ان نئی لڑکیوں میں سے ابھی صرف ایک اس پراسس سے گزری تھی ۔اس نے پیر صاحب کی دوسری بیوی کو راز میں لیکر یہ بتایا تو بات کھلتی چلی گئی۔ایک روز میں اپنی بیوی کو لیکر گائنی کلینک پرگیا ہواتھا کہ اچانک وہاں میری اس لڑکی سے ملاقات ہوگئی جس کی سب سے پہلے پیر صاحب نے اپنے امیر مرید سے شادی کرائی تھی۔اس کا چہرہ ستا ہوا اور آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔پہلے سے کافی موٹی ہوگئی تھی۔
میں اسے دیکھ کر خوش ہوا اور اسے مبارک باد دی” ارے تم تو شادی کے بعد غائب ہی ہوگئی۔ ،مٹھائی بے شک نہ کھلاتی ۔ایک بار تو آستانے آجاتی ملنے“
اس نے عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھا” اتنے انجان کیوں بن رہے ہو.... تمہیں شرم آنی چاہئے مجھ سے ایسی بات کرتے ہوئے“
” کک کیا مطلب “ میں ذرا سنبھل کر بولا” بات کیا ہے؟“
” کیا تم نہیں جانتے تمہارے پیر کا دھندہ کیا ہے“ اس نے زہر خند ہوکر پوچھا۔
” وہی ہے جو تم نے بھی دیکھا تھا ۔اور کون سا دھندہ ہے؟“ میں نے حیرانی سے پوچھا۔
” وہ دلال ہے دلال.... سنا تم نے ۔اس بے غیرت نے پہلے مجھے برباد کیا پھر اپنے مرید کا دل لبھانے کے لئے اسکے ساتھ جعلی نکاح کردیا ۔تمہارے پیر کے وہ مرید اسکے دم درود اور درویشی کے عاشق نہیں ۔وہ پیر کی عیاشیوں میں اسکے ساتھی ہوتے ہیں ۔پیر ان سے اس کام کے پیسے بھی لیتا ہے۔تمہارا پیرغریب اور عاجز والدین کی بیٹیوں کو ان لوگوں کے ہاتھوں بیچتا ہے جو اس معاشرے کے کتےّ ہیں اور وہ تیرے پیروں جیسے ”محترم“ لوگوں کی حفاظت کرتے ہیں۔حیرت ہے تو اپنے پیر کے کرتوت نہیں جانتا؟۔تیری بیوی بھی تو اسکی خادمہ تھی .... کبھی اس سے پوچھنا....“ یہ کہتے ہوئے اس نے میری بیوی کی جانب دیکھا۔اسکی آنکھوں میں خوف اتر آیا،چہرہ زرد پڑگیااور اس نے سر جھکا دیاتھا ۔مجھے اس سے تصدیق کی ضرورت نہیں تھی اب۔

مزید :

بلاگ -