پاکستانی جوہری میزائل سسٹم بھارتی ہتھیاروں سے بہتر ہیں، طیارے واپس بھارت نہیں جاسکتے: تجزیہ نگار

پاکستانی جوہری میزائل سسٹم بھارتی ہتھیاروں سے بہتر ہیں، طیارے واپس بھارت ...
پاکستانی جوہری میزائل سسٹم بھارتی ہتھیاروں سے بہتر ہیں، طیارے واپس بھارت نہیں جاسکتے: تجزیہ نگار

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان نے لانگ رینج کے علاوہ شارٹ رینج میزائل سسٹم بھی بنارکھا ہے جو بھارت کے جوہری روایتی ہتھیاروں میں بھارت سے بہتر ہے۔ اس کے باوجود جنوبئی ایشیا پر ایٹمی جنگ کے خطرات منڈلاتے رہتے ہیں۔

روزنامہ خبریں کی رپورٹ کے مطابق بھارتی عسکری ماہرین اور تجزیہ کار تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے میزائل سسٹم اگنی میں ابھی وہ آگ نہیں جو پاکستان کا مقابلہ کرسکے۔ بھارت کا آکاش، ترشول اور پرتھوی میزائل سسٹم بھی مقابلتاً تکنیکی طور پر پیچھے ہیں۔ پاکستان کے ریڈار سرویلین سسٹم میں نظر آئے بغیر بھارتی فضائیہ کے طیارے پاکستان میں سرجیکل سٹرائیک کرکے واپس جانے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ ہندوستان کو پاکستانی میزائلوں سے چوکنا رہنا ہے۔ کسی جارحیت کی صورت مٰں پاکستان کی شکست کی نہیں ہندوستان کی بقا کا مسئلہ درپیش ہوگا۔ حتف میزائل کا سلسلہ غزنوی، ابدالی، غوری، شاہین، بابر سے ہوتا ہوا 2750 کلومیٹر رینج کے حامل شاہین 3 تک پہنچ چکا ہے جو بھارت کے مشرق میں خلیج بنگال تک مارکرسکتا ہے اور رعد کی بات کریں تو بحر ہند کے پانیوں میں پاکستان نہ صرف اپنے تحفظ کی اہلیت رکھتا ہے بلکہ سمندری حملے کی اتعداد بھی حاصل کررہا ہے۔

روزنامہ پاکستان کی خبریں اپنے ای میل آئی ڈی پر حاصل کرنے اور سبسکرپشن کیلئے یہاں کلک کریں
پاکستان کا میزائل پروگرام بیلسٹک اور لانچنگ دونوں لحاظ سے بہتر ہے۔ نیشنل کمانڈاتھارٹی اور سٹریٹجک پلاننگ ڈویژن کے اشتراک عمل سے کمانڈ اینڈ کنٹرول سپورٹ سسٹم وضع ہوچکا ہے۔ بھارت کو پاکستان کی ایٹمی صلاحیت پر شک بھی نہی ں ہپونا چاہیے۔ ان کے پاس گو ایٹمی ہتھیار مقدار میں زیادہ ہوسکتے ہیں لیکن پاکستان کے پاس بھارت کے تناظر میں ایٹمی ہتھیاروں کی کمی نہیں ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس کو بہتر طریقے سے استعمال کیا جاسکے۔

مزید :

لاہور -