کانگرس کی جانب سے خودمختار استثنیٰ ختم کرنے سے امریکہ اور تمام ممالک پر منفی اثر پڑیگا : سعودی وزارت خارجہ

کانگرس کی جانب سے خودمختار استثنیٰ ختم کرنے سے امریکہ اور تمام ممالک پر منفی ...
کانگرس کی جانب سے خودمختار استثنیٰ ختم کرنے سے امریکہ اور تمام ممالک پر منفی اثر پڑیگا : سعودی وزارت خارجہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک )سعودی حکومت نے کہا ہے کہ امریکی کانگرس کی جانب سے خودمختار استثنیٰ کو ختم کرنے سے امریکہ سمیت تمام ممالک پر منفی اثر پڑے گا ۔

سعوی عرب وزارتِ خارجہ نے امریکہ میں نائن الیون حملوں کے متاثرین کا سعودی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کرنے سے متعلق بل پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے تمام ممالک کیلئے منفی قرار دیدیا۔

برطانیہ کی عدالت  نے بھارتی امام مسجد کو قید کی سزا سنادی ، جرم جان کر آپ بھی کانوں کو ہاتھ لگائیں گے

یاد رہے اس بل کی مدد سے 11 ستمبر کو ہونے والے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ کو سعودی عرب کی حکومت پر مقدمہ دائر کرنے کا اختیار ملا تھا۔امریکی کانگریس نے بدھ کو متفقہ طور پر صدر براک اوباما کی جانب سے اس بل کو ویٹو کرنے کے فیصلے کو مسترد کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔
اس بارے میں براک اوباما کا کہنا تھا اس بل پر ان کے ویٹو کو ختم کر کے پارلیمان کے فیصلے نے ایک 'خطرناک مثال' قائم کی ہے۔”اس بل کو منظور کرنے سے صدر کی خود مختاری کے حق کا تصور ختم ہو جائے گا“۔

روزنامہ پاکستان کی خبریں اپنے ای میل آئی ڈی پر حاصل کرنے اور سبسکرپشن کیلئے یہاں کلک کریں

صدر اوباما نے بل کو ویٹو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس قانون سے سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات متاثر ہوں گے اور انہوں نے خبردار کیا تھا کہ افغانستان اور عراق جیسے ممالک میں امریکی افراد کو بھی ایسے مقدمات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
خیال رہے کہ نائن الیون کے حملے میں ملوث 19 ہائی جیکروں میں سے 15 کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔ اس حملے میں تین ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ امریکہ کے قریبی اتحادی سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ ان حملوں میں ملوث نہیں تھا۔دریں اثنا امریکی کانگریس کے رپبلکن رہنماو¿ں کا کہنا ہے کہ وہ اس قانون پر دوبارہ غور کرنا چاہتے ہیں۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

امریکی سینیٹ میں رپبلکن جماعت کے رہنما مچ میکونل نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ قانون ساز اس حوالے سے آنے والی ممکنہ مشکلات کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر کوئی ممکنہ فائدہ اٹھانے والوں کے بارے میں جانتا تھا لیکن حقیقت میں کسی نے اس بارے میں نہیں سوچا کہ اس سے ہمارے بین الاقوامی تعلقات پر منفی اثر پڑے گا۔

مزید :

عرب دنیا -