سٹڈی ویزہ اور امیگریشن چاہئے تو یہ کام کیجئے

سٹڈی ویزہ اور امیگریشن چاہئے تو یہ کام کیجئے
سٹڈی ویزہ اور امیگریشن چاہئے تو یہ کام کیجئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ایف آئی اے کے مطابق بیرون ملک جانے کے خواہشمندنوجوانوں کو بری طرح لوٹا جارہا ہے۔ایف آئی اے نے اب تک ایسے بہت ریکروٹنگ ایجنٹوں،کنسلٹینسی کے نام پر فراڈ کرنے والوں اور انسانی سمگلروں کو گرفتار کیا ہے جو لاکھوں روپے لیکر نوجوانوں کو روشن مستقبل جھانسہ دیتے ہیں۔زیادہ ترنوجوانوں میں سٹڈی ویزے کا رجحان فروغ پارہا ہے اور ایسے نوجوان حقائق جاننے کی کوشش نہیں کرتے اور جعلسازوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔

ملک کے معاشی حالات اور تعلیم کے بعد میرٹ پر نوکریاں نہ ملنے کی وجہ سے تقریباً ہردوسرانوجوان بیرون ملک جا کر وہاں کی شہریت حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ اسکو اپنے مقصد میں کامیابی مل جائے ۔بہت سے لوگ امیگریشن دلوانے والی کمپنیوں کے چنگل میں پھنس جاتے اور جمع پونجی لٹوا دیتے ہیں اور کئی انسانی سمگلروں کے ہاتھ چڑھتے ہیں اور قسمت سے ہی کسی یورپی ملک میں پہنچ پاتے ہیں۔گریجویشن کرنے کے بعدہمارے نوجوانوں میں سٹڈی ویزہ کے نام پر پر یورپی ملکوں میں جانے کا اشتیاق بڑھ جاتا ہے ۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ سٹڈی ویزہ ہونے کی صورت میں انہیں دیار غیر میں آسانی سے نوکری اور شہریت مل جائے گی۔نوجوان زیادہ تر حقائق کو نظر انداز کردیتے ہیں اور جذباتی ہوکر سوچتے ہیں کہ جب انہوں نے ماسٹرکرلیا ہے یا پروفیشنل ڈگری لے لی ہے تو انہیں ملازمت کیوں نہیں مل رہی۔حالانکہ دنیا کا کوئی بھی ایجوکیشن سسٹم یہ گارنٹی نہیں دیتا کہ آپ کو تعلیم کے ساتھ ملازمت بھی دی جائے گی ،البتہ کچھ ادارے ایسے ہیں جو سائنٹفک ٹیکنیکل ایجوکیشن میں وظائف دیتے اور بعد ازاں طالب علم کو اپنے ہاں ملازمت بھی دیتے ہیں ۔لیکن زیادہ تر تعلیمی اداروں کا مقصد آپ کو مطلوبہ تعلیم کا ہنر اور شعور دینا ہوتا ہے تاکہ آپ اس فیلڈ میں جاکر اپنی علمی اہلیت کے ساتھ ملازمت کرسکیں ۔جہاں تک بیرون ملک سٹڈی کے لئے جانے والے گریجویٹس کے خوابوں کا تعلق ہے تو وہ بڑے پُرامید ہوتے ہیں کہ اُس ملک میں جاتے ہی انہیں نوکری بھی ملے گی اورنیشنیلٹی بھی۔وہ سوچتے ہیں کہ وہاں شادی کرلیں گے یا سیاسی پناہ یا پھر جب اس ملک کی امیگریشن کھلے گی تو وہ سیٹل ہونے کی کوشش کریں گے ورنہ چوری چھپے جب تک کام چلتا ہے یا ورک پرمٹ پر گزارہ ہوتا ہے تو چلتا رہنے دیں گے۔
سٹڈی ویزہ پر یورپ جانے والے بہت سے لوگوں کے تجربات کی روشنی میں حالات کا جائزہ لیکر فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ کن حالات میں کیسا فیصلہ کرنا چاہئے اور شہریت کے لئے کون سا طریقہ اور ذریعہ زیادہ بہتر ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ سٹڈی ویزہ کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہونا چاہئے کہ آپ کو اس ملک کی شہریت بھی مل جائے گی ۔
ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ انہوں نے سٹڈی ویزہ کے لئے کنسلٹینسی فرم سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس سے کہا ” مجھے اس ویزہ کے سارے پراسس سے آگاہ کریں تاکہ مجھے اس میں کوئی ابہام نہ رہے“دوست کا کہناہے”میری باتوں پر وہ سیخ پا ہوئے اور کہا کہ انکی مدد کے بغیر کوئی بھی سٹڈی ویزہ پر پاکستان سے نہیں جاسکتا ۔میں نے ان سے پراسسنگ فیس واپس لی جو کہ ایک مشکل کام تھا ۔ اس دوران مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ جس ملک کے لئے وہ مجھے ویزہ دلوا رہے ہیں وہاں ایسے قوانیں موجود نہیں ہےں جو کسی غیر ملکی طالب علم کے لئے سہولت کا باعث بن سکتے ہیں۔ میں نے چھ ماہ تک مختلف ملکوں کی یونیورسٹیوں کو نیٹ کی مدد سے کھنگالا اور انکے پرا سس پر غور کیا تو علم ہوا ہر ایک یونیورسٹی کا لیگل پراسس انتہائی مشکل ہے اور یہ کسی غیر ملکی کے پورا کرنا مشکل ہے۔اسکے بعد میں نے سفارت خانوں کی ویب سائٹس پر جا کرسٹڈی ویزہ کے بارے میں قوانین کھنگالنا شروع کئے تو علم ہوا کسی سفارت خانے سے قانون کے تحت ویزہ لینا زیادہ مشکل ہے۔لہذا میں سوچنے لگا کہ کنسلٹینسی فرمیں تو فراڈ کرتی ہیں جس کی وجہ سے ایسے طالب علم پھنس جاتے ہیں جو سٹڈی ویزہ کے لئے ان کو لاکھوں روپے دیتے ہیں۔ایف آئی اے نے ایسی کئی فرموں کو فراڈ کیس میں پکڑ بھی رکھا ہے“
ہر ملک اپنی سہولت اور ضرورت کے تحت امیگریشن قوانین تبدیل کرتا رہتا ہے۔جو طالب علم کسی دوسرے ملک کی امیگریشن کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں انہیں انٹرنیٹ پر ایسے ملکوں کی کھوج لگاتے رہنا چاہیئے۔تھوڑی سی مشقت کے بعد انہیں اس ہنر پر عبور حاصل ہوجائے گا کہ انٹرنیٹ کی مدد سے کسی ملک کی امیگریشن پراسس تک کیسے پہنچا جاسکتا اور سٹڈی ویزہ کے لئے انہیں کیا طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔اپنی محتاجی ختم کرکے وہ ازخود یہ کام کریں گے تو انہیں آنے والے وقت میں زیادہ فائدہ ہوگا۔پاکستان کے بہت سے طالب علم اسطرح فائدے اٹھاتے ہیں ۔ایسا نہیں کہ انہیں جرمنی،فرانس،یوکے،امریکہ میں ہی داخلہ پر بضد ہوجانا چاہئے ۔دنیا بہت بڑی ہے۔ایک بار کسی اچھے ملک کی یونیورسٹی میں داخلہ مل جانے کی صورت میں انہیں مزید آگے جانے کا راستہ مل جائے گا۔یہاں میں اس بات کی وضاحت کردوں کہ جس ملک کی بھی امیگریشن چاہتے ہیں اس ملک کی ویب سائٹس پر جا کر انکے پراسس کو دیکھیں اور پھر اس پراسس کو مکمل کرنے کا طریقہ بھی ویب سائٹس پرہی تلاش کریں ،ان ملکوں کے متعلقہ اداروں سے ای میل پر رابطہ کریں تو اسطرح اس ملک کے امیگریشن میں آپ کی LIKING مارک ہوجائے گی۔اس طریقے سے آپ امریکہ کینیڈااور جرمنی کی امیگریشن اور یونیورسٹیز سے رابطے کرسکتے ہیں۔براہ راست رابطوں کی مدد سے آپ کے لئے ویزہ لینا آسان ہوجائے گا اور آپ کو کنسلٹینسی فرم کی مدد پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔میں ایسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جنہوں نے ڈائریکٹ ریسرچ کی اور سٹڈی ویزے حاصل کرلئے۔بس آپ اس مقولے پر عمل کرکے کام شروع کردیں” آپ چاہتے کہ دوسرے آپ کی مدد کریں تو سب سے پہلے خود اپنی مدد کرناشروع کردیں“ ۔اگر آپ کو اپنا مقصد عزیز ہے تو انٹرنیٹ پر اپنا ٹارگٹ فکس کریں اور شروع ہوجائیں۔سٹڈی ویزہ آپ کے گھر خود چل کر آئے گا۔

مزید :

بلاگ -