فاٹا عالمی اہمیت کا حامل ، نعرے لگانے والوں کی اکثریت کو قومی ترانہ بھی نہیں آتا،محموداچکزئی ،پی پی پی ٹی آئی کا شدید احتجاج

فاٹا عالمی اہمیت کا حامل ، نعرے لگانے والوں کی اکثریت کو قومی ترانہ بھی نہیں ...
فاٹا عالمی اہمیت کا حامل ، نعرے لگانے والوں کی اکثریت کو قومی ترانہ بھی نہیں آتا،محموداچکزئی ،پی پی پی ٹی آئی کا شدید احتجاج

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد (اے پی پی) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پاکستان کے نعرے لگانے والوں کی اکثریت کو قومی ترانہ بھی نہیں آتا،قبائلی علاقوں کی بین الاقوامی اور قومی اہمیت ہے، اس مسئلہ کو موجودہ حالات میں اٹھانا درست فیصلہ نہیں ، فاٹا کے عوام کی مرضی کے بغیر ہمیں کوئی حل قابل قبول نہیں ہوگا۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں فاٹا اصلاحات پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا فاٹا جیسے اہم مسئلہ پر عجلت کا مظاہرہ کیا گیا۔ قبائلی علاقوں کی قومی اور بین الاقوامی اہمیت ہے، ان حالات میں ان کو زیر بحث نہیں لانا چاہئے تھا۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان ایٹمی جنگ ہوئی تو کتنے لوگ لقمہ اجل بنیں گے اور خطے کا کیا حشر نشر ہوگا؟ ایسی تفصیلات سامنے آگئیں کہ جان کر’ ’مودی“ خود بھی گھبرا جائیں گے،تفصیلات کیلئے یہاں کلک کریں

 انہوں نے کہا ہم سب نے ملکی مفاد کو مقدم رکھنے کا حلف اٹھا رکھا ہے، کوئی اچھا سمجھے یا برا ہمیں سچائی کا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہئے۔ مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز جو کچھ کہا میں اس کی مکمل تائید کرتا ہوں۔ سب سے بدترین الزام غداری کا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ فاٹا کے علاقے انگریز نے پٹھانوں سے چھینے ہیں۔انہوں نے مختلف تاریخی کتابوں کے حوالے دیتے ہوئے فاٹا کی تاریخی حیثیت بیان کی اور کہاماضی میں بھی فاٹا کے کئی علاقے آزاد ریاستوں پرمشتمل تھے، ان پر کسی کا کنٹرول نہیں تھا۔انہوں نے کہا پشتون دہشت گرد ہیں نہ فرقہ پرست،یہ محب وطن لوگ ہیں۔ فاٹا کو ہم نے خود روس کے خلاف میدان جنگ بنایا۔فاٹا کامستقبل فاٹا کے عوام کی مرضی کے مطابق طے ہونا چاہئے۔
انہوں نے کہا یہاں پاکستان کے نعرے لگانے والوں کی اکثریت کو قومی ترانہ بھی نہیں آتا۔
خونخوار چیتے کا 9 سالہ بچی اور اس کے بھائی پرحملہ، ایسا واقعہ کہ جنگلی جانور کا رویہ آپ کو بھی سمجھ نہیں آئے گا ،تفصیلات کیلئے یہاں کلک کریں
دوسری جانب قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کی فاٹا اصلاحات کے حوالے سے تقریر پر پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے ارکان نے شدید احتجاج کیا۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ فاٹا ہمارے ملک کا حصہ ہے۔ اس کو بین الاقوامی ایشو کہنا درست نہیں ہے۔قومی اسبلی پاکستان کے داخلی مسئلے پر بات کر سکتی ہے۔جب اپنے لوگ اسے بین الاقوامی مسئلہ بنائیں گے تو بنے گا۔شازیہ مری نے نکتہ اعتراض پر کہامحمود خان اچکزئی کے خیالات سے ہم اتفاق نہیں کرتے تاہم اپنے خیالات کے اظہار کاان کو جمہوری حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہاہم فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنا چاہتے ہیں اور بامعنی ترقی کے خواہاں ہیں۔ کس کو ترانہ آتا ہے اور کس کو نہیں، ہمیں اس حوالے سے چیلنج نہ کیا جائے۔میر منور تالپور نے کہا محمود خان اچکزئی نے بلوچستان اور سندھ کے حوالے سے جو تاریخ بیان کی ہے ہم اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ سندھ اور بلوچستان افغانستان کی کبھی کالونیاں نہیں رہیں۔

مزید :

اسلام آباد -