پاکستان جنگ میں ملوث نہیں ہونا چاہتا، ایل او سی پر بھرپورجواب دیا ،عبدالقادر بلوچ

پاکستان جنگ میں ملوث نہیں ہونا چاہتا، ایل او سی پر بھرپورجواب دیا ،عبدالقادر ...
پاکستان جنگ میں ملوث نہیں ہونا چاہتا، ایل او سی پر بھرپورجواب دیا ،عبدالقادر بلوچ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد (صباح نیوز) وزیر ریاستی و سرحدی امور لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے جمعہ کو قومی اسمبلی میں واضح کیا ہے کہ بھارتی وزیراعظم سوچ سمجھ کربیانات دیں۔پاکستان جنگ میں ملوث نہیں ہونا چاہتا اور بھارت پاکستان کو جنگ پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔پاکستان قطعاً بھارتی اشتعال انگیزی میں نہیں آئے گا۔ایل او سی پر بھرپور جواب دیاگیا ہے۔ کوئی سرجیکل سٹرائیک نہیں ہوئی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلزپارٹی کی رکن نفیسہ شاہ اور دیگر اراکین کے نقطہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ لیفٹیننٹ جنرل(ر)عبدالقادربلوچ نے کہابھارتی سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ غلط ہے انہوں نے سرجیکل سٹرائیک کے طریقہ کار سے عوام کو آگاہ کیا اور کہا کہ وہ خود اہم فوجی پوزیشنوں پر رہے ہیں۔ ایل او سی پر بھی تعینات رہے۔ بھارت نے فائر ریڈ کیا ہے اور اسے سرجیکل سٹرائیک کہنے کی کوشش کر رہاہے۔

پاکستان کو منفی پروپیگنڈے سے دباﺅ میں نہیں لایا جا سکتا ، دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے : آرمی چیف ،تفصیلی خبر کیلئے یہاں کلک کریں

اپنی پوزیشن پر بیٹھ کر فائرنگ کی جسکاجواب دیا گیا توبھارتی فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ بھارت کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہاپاکستان کی افواج جدید طور پر مسلح ہیں۔ انتہائی مضبوط اور تجربہ کار ہے۔بھارت ایل او سی پرحملے کی جرات نہیں کر سکتا۔ اس نے یہ اشتعال انگیز کارروائی اڑی حملے کے حوالے سے بھارتی عوام کو مطمئن کرنے کیلئے کی اورپاکستان اڑی حملے کی تحقیقات کا باضابطہ مطالبہ کر چکاہے۔انہوں نے کہا ایل او سی پر فائرنگ کو اڑی حملے کا بدلہ لینے کاسرجیکل آپریشن قرار دینے کا دعویٰ غلط ہے۔ وزیر سیفران لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ یہ تاثر بھی غلط ہے کہ ایل او سی کی صورتحال پر حکومت اس ایوان کو اہمیت نہیں دے رہی۔ بدھ کو مشترکہ اجلاس ہو گا۔ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بھی منگل کو طلب کر لیا گیا ہے۔ وزرائے اعلیٰ کے ساتھ بھی خصوصی اجلاس ہو گا۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھارت کے سرجیکل سٹرائیک کے دعوے پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ مشیر خارجہ نے مجھے کہا کہ میں ایوان کو اس بارے میں آگاہ کر سکتا ہوں کہ سرجیکل سٹرائیک کیا ہوتی ہے۔ بنیادی طور پر دشمن فوج کی جانب سے سرحد یا ایل او سی کو کراس کر کے آگے آنے اور دوسرے کی پوزیشنوں پر حملہ کرنے، علاقے کو ڈسٹرب کرنے اور تباہی و بربادی کے بعد واپس چلے جانے کو سرجیکل سٹرائیک کہتے ہیں۔ پاکستان کا بچہ بچہ دفاع وطن کے لئے تیار ہے۔ بھارت کے لئے مشکل ہو گا کہ وہ پاکستان پر حملہ کرے۔ قبل ازیں نفیسہ شاہ نے قومی اسمبلی کو وزیر دفاع اور مشیر خارجہ کی جانب سے ایل او سی کی صورتحال پر باضابطہ طور پر اعتماد میں نہ لینے پر شدید احتجاج کیا اور کہا کہ ایوان کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ جنگی حالات ہیں۔بھارت نے سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ کیا ہے، پارلیمنٹ میں حکومت کی جانب سے خاموشی ہے۔

مزید :

اسلام آباد -