بستر مرگ پر موجود اس طالبعلم کی موت کا یقین ہونے پر جب ڈاکٹروں نے سپورٹ مشین بند کرنی چاہی تو اس نے ایسا کام کردیا کہ وہ دنگ رہ گئے

بستر مرگ پر موجود اس طالبعلم کی موت کا یقین ہونے پر جب ڈاکٹروں نے سپورٹ مشین ...
بستر مرگ پر موجود اس طالبعلم کی موت کا یقین ہونے پر جب ڈاکٹروں نے سپورٹ مشین بند کرنی چاہی تو اس نے ایسا کام کردیا کہ وہ دنگ رہ گئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کارحادثے میں زخمی ہونے والی طالب علم کی موت کا یقین ہونے پر جب ڈاکٹروں نے لائف سپورٹ مشین بند کرنی چاہی تو اس نے ایسا کام کر دیا کہ ڈاکٹر دنگ رہ گئے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق سام ہیمنگ نامی 22سالہ لڑکی اپنے دوست کے ساتھ کار پر جا رہی تھی کہ انہیں حادثہ پیش آ گیا جس میں وہ شدید زخمی ہوئی اور بے ہوش ہو گئی۔ اسے بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال لایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی زندگی بچانے کے لیے تگ و دو شروع کر دی۔ اس کا 6گھنٹے طویل آپریشن ہوا اور پھر لائف سپورٹ مشین لگا دی گئی۔

برطانوی خاتون شامی پناہ گزینوں کی مدد کرتے ہوئے ایک ایسے مسلمان لڑکے سے متاثر ہو گئی کہ اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ کر لیا
19دن بعد ڈاکٹروں کو اس کی ذہنی موت کا یقین ہو گیا اور انہوں نے لڑکی کے دل گرفتہ والدین کو اس کی موت کے صدمے کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہونے کو کہہ دیا اور اس کی سپورٹ مشین بند کرنے لگے۔ اسی دوران لڑکی نے اپنے پاﺅں کا انگوٹھا ہلا دیا جس پر ڈاکٹر ششدر رہ گئے اور اسے سپورٹ مشین سے ہٹانے کا ارادہ ترک کر دیا۔ مزید کچھ دن علاج کے بعد جب ڈاکٹروں نے سپورٹ مشین ہٹائی تو سام ازخود سانس لینے لگی۔ اب اس کی حالت بہت بہتر ہے اور وہ کھانے پینے لگی ہے۔ سام ہیمنگ کی 44سالہ والدہ کیرول کا کہنا ہے کہ ”میری بیٹی موت کے منہ سے واپس آئی ہے۔ وہ کارحادثے میں اس قدر زخمی ہوئی تھی کہ ہم اس کے بچنے کی امید ہی کھو بیٹھے تھے۔ اس کا روبہ صحت ہونا ایک معجزہ ہے۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -