اس عظیم مسلمان نے دوسری عالمی جنگ میں ایسے شاندار کارنامے سرانجام دئیے کہ آج بھی لوگ دنگ رہ جاتے ہیں

اس عظیم مسلمان نے دوسری عالمی جنگ میں ایسے شاندار کارنامے سرانجام دئیے کہ آج ...
اس عظیم مسلمان نے دوسری عالمی جنگ میں ایسے شاندار کارنامے سرانجام دئیے کہ آج بھی لوگ دنگ رہ جاتے ہیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) خداداد خاں 20اکتوبر 1888ءمیں پنجاب کے شہر چکوال میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان افغانستان کی سرحد کے قریب قبائلی علاقہ جات سے یہاں آ کر آباد ہوا تھا۔ وہ پہلی جنگ عظیم میں 129 بلوچی رجمنٹ میں شامل تھے اور پہلے ہندوستانی نژاد مسلمان فوجی تھے جنہیں ان کی مثالی بہادری کے باعث حکومت برطانیہ کی طرف سے”وکٹوریہ کراس“ کا اعزاز ملا۔ برطانوی سامراجی دور میں خداداد خان فوج میں ایک سپاہی کی حیثیت سے بھرتی ہوئے۔ وہ ڈیوک آف کناٹ 129بلوچی رجمنٹ میں شامل ہوئے اور مشین گن چلانے پر مامور تھے ۔اکتوبر 1914ءمیں انہیں دیگر 20ہزار ہندوستانی فوجیوں کے ہمراہ برطانیہ کی تھکی ہاری فوج کی مدد کے لیے بیلجیئم بھیجا گیا۔یہ دستہ فرانس میں بولون اور بیلجیئم میں نیو پورٹ کے مقامات کو جرمنوں کے قبضے سے بچانے کے لئے تعینات کیا گیا تھا۔

چینی ارب پتی نے اپنے ملک کے بارے میں ایسی بات کہہ دی کہ سن کر آپ بھی شدید پریشان ہوجائیں گے
خدادادخان نے بیلجیئم کے گاﺅں ہولبیک کے محاذ پر بہادری کے جوہر دکھائے تھے۔ وہاں صورتحال بہت خراب تھی، خندقوں میں پانی بھرا تھا اورگرنیڈ اورخاردار تار ناکافی تھے اورفوج کی تعداد بھی اس قدر کم تھی کہ 5جرمن فوجیوں کے مقابلے میں 1برطانوی فوجی آتا تھا۔ جرمنوں نے 30 اکتوبر کو حملہ کیا اورمتعدد ہندوستانی فوجی جاں بحق اور زخمی ہوگئے۔ ایسے میں خداداد خان اپنی مشین گن پر موجود تھے اور ان کے ساتھ عملے کے چند اور اہلکار۔ انہوں نے لڑائی جاری رکھی۔ حتیٰ کہ جرمن ان پر بھی غالب آ گئے اور سب کو مارڈالا۔ اب صرف خدادادخان اکیلے زندہ رہ گئے تھے۔ انہوں نے مردہ ہونے کی اداکاری کی اور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے واپس رینگنا شروع کر دیا اور اپنی رجمنٹ سے جا ملے۔
31اکتوبر 1914ءکوہولبیک کے مقام پرجنگ جاری تھی۔ اس ہندوستانی دستے کے پاس دو مشین گنیں تھیں اور ایک برطانوی افسر ان کی قیادت کر رہا تھا۔ لڑائی میں وہ افسر شدید زخمی ہو گیا اور ایک مشین گن بھی شیل لگنے سے ناکارہ ہو گئی۔ اب صرف خدادادخان کی مشین گن چل رہی تھی۔ وہ زخمی ہونے کے باوجود اپنے دیگر پانچ ساتھیوں کے ساتھ ڈٹے رہے مگر جرمن افواج کی شدید گولہ باری کے باعث ان کے پانچ ساتھی بھی کچھ ہی دیر میں کام آ گئے۔ اب خداداد خان اکیلے ہی لڑ رہے تھے۔ انہوں نے اس وقت تک جرمن فوج کو پیش قدمی سے روکے رکھا جب تک کہ برطانوی اور ہندوستانی فوج کی کمک وہاں نہیں پہنچ گئی۔ نئی پہنچنے والی فوج نے مورچے سنبھال کر جرمن فوج کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔

تھائی لینڈ : ماڈل کا ٹوٹی سڑکوں پرحکلمرانوں کی توجہ دلانے کے لئے منفرد احتجاج، سڑک پر بیٹھ کرغسل
اس لڑائی میں خدادادخان شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں برطانیہ پہنچایا گیا جہاں برائٹن کے ایک ہسپتال میں ان کا علاج کیا گیا۔ صحت یاب ہونے کے بعد ان کے لیے وکٹوریہ کراس کا اعلان کیا گیا جو بکنگھم پیلس میں کنگ جارج پنجم نے خود ان کے سینے پر آویزاں کیا۔ خداداد خاں اس کے بعد انڈین آرمی میں خدمات انجام دیتے رہے اور تقسیم کے بعد پاکستان آ گئے اور یہیں 1971ءمیں 83سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کا نام ہائیڈ پارک کارنر، لندن میں میموریل گیٹس پر بھی کندہ ہے اور آرمی میوزیم راولپنڈی میں ان کا ایک مجسمہ بھی موجود ہے۔ ان کی اولاد میں سے کچھ لوگ اب بھی برطانوی شہر لیڈز میں آباد ہیں۔واضح رہے کہ برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم میں لگ بھگ 13لاکھ ہندوستانی فوجیوں کو لڑنے کے لیے بھیجا تھا جن میں تقریباً4لاکھ مسلمان تھے۔اس جنگ میں 50ہزار ہندوستانی فوجی زخمی اور ساڑھے 8ہزار جاں بحق ہوئے تھے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -