تھر میں کوئلے کی نقل و حمل , ہندوخواتین خاندان کے سہارا کیلئے ڈرائیور بننے لگیں

تھر میں کوئلے کی نقل و حمل , ہندوخواتین خاندان کے سہارا کیلئے ڈرائیور بننے ...
تھر میں کوئلے کی نقل و حمل , ہندوخواتین خاندان کے سہارا کیلئے ڈرائیور بننے لگیں

  

تھرپارکر (ویب ڈیسک)خطے میں سی پیک کی تعمیر اور علاقے سے بڑی مقدار میں نکالے جانے والے کوئلے کی ٹرانسپورٹیشن کے کام نے روزگار کے نئے در کھولے ہیں۔کوئلے کی نقل وحمل کیلئے ہندو خواتین خاندان کا سہارابننے کیلئے ڈرائیوربننے لگیں۔پاکستان کے کوئلے سے مالامال صحرائے تھر میں خواتین نے مستقبل سنوارنے اور اپنیے گھر والوں کا سہارا بننے کیلئے ڈرائیور کی نوکریاں کر لیں۔

رپورٹ کے مطابق صوبہ سندھ کے پسماندہ ترین علاقے تھر کی رہائشی 3بچوں کی ماں 25سالہ ہندو خاتون گلاباں نے زندگی میں کامیابی کا مصمم ارادہ کر کے ٹرک چلانا سیکھا تواس کی دیکھا دیکھی علاقے کی دیگرخواتین نے بھی ڈرائیونگ سیکھ لی۔گلاباں نے کہا کہ شروع شروع میں اس نے روزی کمانے کیلئے 60ٹن وزن لیجانے والاٹرک چلا یا، ا?غاز میں اسے کام کرتے گھبراہٹ محسوس ہوتی تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ اس کی روٹین بن گئی۔انہوں نے کہاکہ علاقے کی خواتین کے جذبے کو دیکھتے ہوئے سندھ اینگرو کول کی معاونت سے 30خواتین کو ڈرائیونگ سیکھائی گئی۔

6بچوں کی ماں 29سالہ روما نے کہا کہ جب ہم نے گلاباں کو ٹرک چلاتے دیکھا تو ہماراحوصلہ بڑھا اور ہمارے دل میں بھی گاڑی چلانے کا شوق پیدا ہوا حالانکہ معاشرتی رکاوٹیں خواتین کو ایسی ملازمت کرنے کی اجازت نہیں دیتیں۔گلاباں کے خاوند ہرجیلا نے کہاکہ جب اس کی بیوی گاڑی چلاتی ہے تو لوگ اسے تحقیر آمیز نظروں سے دیکھتے ہیں اوراسے بیوی کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا دیکھ کر ہنستے اور مذاق اڑاتے ہیں۔ لیکن گلاباں ان باتوں کی پرواہ کئے بغیر اپنے کام میں مگن ہے۔

گلاباں نے کہاکہ وہ جب دوسری ڈرائیور خواتین کو دیکھتی ہیں تو ایسالگتاہے کہ ان کی زندگیوں میں واضح تبدیلی آگئی ہے ،اسے پورا یقین ہے کہ مستقبل اس سے کہیں زیادہ سنہری اور خوبصورت ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ علاقہ ہندو آبادی پر مشتمل ہے جہاں ساڑھیوں اور روایتی لباس میں ملبوس خواتین کو ایسے کام کی عموماً اجازت نہیں دی جاتی۔

مزید : تھرپارکر