فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 227

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 227
فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 227

  


وہ بڑے میدان کے سامنے ایک مکان کی بالائی منزل پر رہتی تھیں۔ اس گھر میں ہم نے کئی بار چائے پی تھی۔ کھانا کھایا تھا۔ شعرو شاعری کی باتیں کی تھیں۔ ہمارے شاعر دوست عالم تاب تشنہ اس زمانے میں لاہور اومنی بس کے بڑے افسر تھے۔ وہ میرٹھ میں ہمارے سکول فیلو اور سیّد کمال کے کلاس فیلو رہے تھے۔ ہمیں تو یاد نہ تھا مگر جب انہوں نے تفصیل بتائی تو یاد آگیا۔ کمال بھی اس زمانے میں لاہور ہی میں مقیم تھے اور ہیرو تھے۔ دراصل وہی عالم تاب کے کلاس فیلو اور دوست تھے مگر کچھ عرصے بعد عالم تاب تشنہ ہمارے ساتھ شیرو شکر ہوگئے۔ کمال سے ان کی بس نام کی دوستی رہ گئی تھی۔

عالم تاب تشنہ چپکے چپکے شاعری کرتے تھے۔ بڑے اور مشہور شاعر تو وہ کئی سال بعد کراچی جا کر بنے تھے۔ اس زمانے میں ہم ان کی شاعری کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ وہ کہتے ’’یار سوفی‘ کسی فلم کے گانے لکھوا لو مجھ سے۔‘‘

ہم کہتے ’’بھائی آپ بسیں چلائیں۔ شاعری آپ کے بس کا روگ نہیں ہے‘‘

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 226  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

یار فلموں میں شاعری کی ضرورت کب ہوتی ہے۔ بس تُک بندی ہوتی ہے۔ میں تو پھر شاعر ہوں کہو گے تو تُک بندی بھی کر دوں گا۔

تشنہ کی فلمی دنیا میں کچھ اور لوگوں سے بھی ملاقات تھی اور انہوں نے چند فلموں کے گانے بھی لکھے تھے۔ 1970ء کی دہائی میں وہ کراچی چلے گئے تھے اور پھر وہیں رہے اور وہیں ایک دن اچانک مشاعرے سے واپس آ کر رات کو ہارٹ فیل ہونے سے انتقال کر گئے۔ بہت دلچسپ ذہین اور دوستوں کے دوست تھے۔

عالم تاب ایک بار ہمارے ساتھ صابرہ سلطانہ کے گھر گئے وہاں شعرو شاعری ہوتی رہی۔ صابرہ سلطانہ نے فوراً اپنا کلام لا کر تشنہ صاحب کے سپرد کر دیا اور انہوں نے اصلاح بھی شروع کر دی۔

صابرہ سلطانہ کے والد خود بھی فکر سخن کرتے تھے۔ بیٹی کے شوق و ذوق سے بھی واقف تھے۔ انہوں نے تشنہ صاحب سے درخواست کی کہ وہ صابرہ کو اپنی شاگردی میں لے لیں اور اس کے کلام کی اصلاح کر دیا کریں۔ تشنہ کو بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا ۔اس طرح صابرہ سلطانہ نے شاعری میں عالم تاب تشنہ کی شاگردی اختیار کر لی۔

پہلے تو ہم نے سوچا کہ عالم تاب سے مشورہ کریں اور انہیں درمیان میں ڈالیں کہ صابرہ سے یہ تذکرہ چھیڑ کر دیکھیں۔ مگر عالم تاب نے فون پر ہماری بات سنتے ہی زور دار قہقہہ لگایا اور بولے ’’سوفی تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے؟ یار صابرہ کو صبیحہ کی ماں بناتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آئے گی‘‘۔

’’بالکل نہیں‘‘

’’تو پھر تم خود ہی بات کر لو‘‘

’’بھائی استاد کا بڑا حق ہے‘‘ ہم نے کہا اور وہ بڑے وضعدار لوگ ہیں۔ تمہاری بات ہرگز نہیں ٹالیں گے‘‘

’’بات تو وہ تمہاری بھی نہیں ٹالیں گے۔ ہاں اگر اسے ہیروئن بنانا ہو تو کہو‘ میں بات کر لیتا ہوں۔‘‘

ہم نے ان کی شان میں ایک چھوٹا سا قصیدہ عرض کیا اور پھر فیصلہ کیا کہ خود ہی صابرہ سے بات کرلیں۔ زیادہ سے زیادہ معذرت ہی کرلیں گی نا۔

’’کیا ہو رہا ہے؟‘‘ ہم نے ان کے گھر جاتے ہی پوچھا

’’ مابدولت آرام فرما رہے ہیں۔ آج کوئی شوٹنگ نہیں ہے‘‘ ان کے والد اور والدہ بھی ڈرائنگ روم میں آگئے تو ہماری ہمّت بالکل ہی جواب دے گئی۔

صابرہ نے کہا’’مابدولت آپ سب کیلئے چائے بنا کر لاتے ہیں اتنے میںآپ ابو سے باتیں کیجئے۔‘‘

چائے بھی پی لی مگر ہماری ہمت نہیں پڑی۔ سوچا چھوڑو۔ جانے دو کوئی ضروری ہے کہ صابرہ سلطانہ ہی یہ کردار کریں۔ کوئی اور کیریکٹر ایکٹریس تلاش کر لیں گے۔ مگر پھر خیال آیا کہ صابرہ اس کردار میں بہت اچھّی لگیں گی۔ واقعی وہ اور صبیحہ ماں بیٹیاں نظر آئیں گی۔

صابرہ ہمیں باہر تک رخصت کرنے آئیں تو ہم نے موقع پا کر کہا ’’صابرہ آپ سے ایک فرمائش کرنی تھی۔‘‘

’’فرمائش؟ کیسی فرمائش؟‘‘

’’ہماری فلم میں صبیحہ خانم کی ماں کا کردار ہم چاہتے ہیں کہ آپ کریں۔‘‘

’’صبیحہ خانم کی ماں کا؟‘‘ مگر وہ تو خود محمد علی اور وحید مراد کی ماں ہیں۔‘‘

’’مگر ان کی بھی تو کوئی ماں ضرور ہوگی۔ ورنہ وہ دنیا میں کیسے آتیں!‘‘ ہم نے کہا۔

وہ بولیں ’’یعنی محمد علی اور وحید مراد کی نانی؟‘‘

ہم نے کہا ’’فلم کے آغاز میں ہی یہ چار پانچ سین کا کردار ہے مگر بہت جاندار کردار ہے۔ کوئی چھوٹی موٹی اداکارہ اس کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتی۔‘‘

ہمارا خیال یہ تھا کہ وہ فوراً ٹکا سا جواب دے دیں گی مگر ہم حیران رہ گئے جب انہوں نے کہا ’’آپ ذرا مجھے کہانی تو سنائیں‘‘

’ابھی سن لیں‘‘ ہم الٹے پاؤں واپس ان کے گھر میں چلے گئے۔ مختصر الفاظ میں ہم نے انہیں کہانی کا خلاصہ اور ان کے کردار کی نوعیت کے بار ے میں بتایا۔

وہ سن کر سوچ میں پڑ گئیں۔ پھر بولیں ’’کردار تو بہت اچھا ہے مگر آفاقی صاحب لوگ کیا کہیں گے اور اگر میں ایک بار صبیحہ خانم کی ماں اور محمد علی اور وحید مراد کی نانی بن گئی تو پھر سب فلم ساز مجھے بوڑھی عورت کے کردار میں ہی لیا کریں گے۔ ‘‘

ہم نے کہا ’’آپ غور کر لیں کوئی زبردستی تو نہیں ہے۔‘‘

انہوں نے کہا ’’مابدولت کو سوچنے کا موقع تو دیں‘‘

ہم نے کہا ’’سوچ لیں مگر یہ بلا وجہ کا تکلف ہوگا۔‘‘

دوسرے دن ہم ناشتا کر رہے تھے کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری جانب صابرہ سلطانہ بول رہی تھیں۔

’’آفاقی صاحب! آپ کی شوٹنگ کب ہے؟‘‘

ہم نے انہیں بتایا۔ انہوں نے چند لمحے کے توقف کے بعد کہا

’’ٹھیک ہے آپ دو دن پہلے مجھے پھر یاد دلا دیجئے گا۔‘‘

ہم مارے خوشی کے ان کا شکریہ ادا کرنا بھی بھول گئے۔

سٹوڈیو جاتے ہی ہم نے طارق صاحب کو یہ خوشخبری سنائی تو وہ حیران رہ گئے۔ وہ تو یہ تجویز دے کر بھول ہی گئے تھے۔ جب ہم نے اس کی تصدیق کر دی تو انہیں خوشی سے زیادہ حیرت ہوئی۔

’’صابرہ مان گئیں؟‘‘ انہوں نے بے یقینی سے پوچھا۔

’’بالکل!‘‘

’’کمال ہے!‘‘ پھر وہ ہنس کر کہنے لگے۔‘‘ آپ پتا نہیں کیا پڑھ کر پھونکتے ہیں کہ کوئی آرٹسٹ آپ کی بات ہی نہیں ٹالتا‘‘

اس طرح صابرہ سلطانہ نے ہماری فلم ’’کنیز‘‘ میں ایک مختصر سا کردار ا دا کیا اور نہایت عمدگی سے ادا کیا۔ سفید بالوں اور ہلکے سے میک اپ کے بعد وہ پرانے زمانے کی ایک نواب بیگم ہی لگتی تھیں اور صبیحہ بھابھی کے ساتھ ان کی مشابہت اتنی زیادہ تھی کہ ہماری اماں نے جب فلم دیکھی تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ واقعی وہ دونوں ماں بیٹی ہی لگتی ہیں۔ کیا وہ سچ مچ میں آپس میں رشتے دار ہیں؟

صابرہ نے اپنے کردار کے ساتھ واقعی انصاف کیا تھا۔

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 228 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اسلم پروز کو بھی ہم نے دو سین کے کردار کے لئے منتخب کیا تھا۔ وہ اس زمانے میں ہیرو تھے مگر ’’شکوہ‘‘ میں ویلن کا کردار کر کے بھی خوب داد سمیٹ چکے تھے۔

(جاری ہے )

مزید : فلمی الف لیلیٰ


loading...