وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر80

30 ستمبر 2017 (14:38)

شاہد نذیر چودھری

اسٹیڈیم کے اندر باہر سخت حفاظتی انتظامات تھے۔ چالیس ہزار سے زائد تماشائی رستم زماں کا معرکہ دیکھنے کے لیے موجود تھے۔ اسی وقت پاکستان کے ہائی کمشنر ایس کے دہلوی اور سفارتخانے کے عملہ کے علاوہ انگلینڈ بھر سے پاکستانیوں کا جم غفیر موجود تھا اور سب کی نظریں اکھاڑے پر جمی ہوئی تھیں۔ اکھاڑہ اسٹیڈیم کے وسط میں زمین سے تقریباً پانچ فٹ بلند تھا۔ یہ چوکور تخت سے بنا ہوا تھا جس پر ایک وزنی گدا بچھا ہوا تھا اور اس پر دبیز کپڑے کا سفید غلاف چڑھا دیا گیا تھا۔ یہ کشتی فری سٹائل تھی۔ صبح کے نو بج چکے تھے۔ اناؤنسر نے بے تاہیوں کو ہوا دی اور اعلان کیا کہ بھولو پہلوان اکھاڑے میں پہنچنے والا ہے۔ اعلان سنتے ہی تماشائی سیٹوں پر کھڑے ہو گئے اور پاکستانی شاہ زور کے لئے نعرہ اور تالیاں بجانے لگے۔
چند منٹ بعد بھولو پہلوان اکھاڑے میں وارد ہوا۔ جوش مسرت سے اس کا چہرہ تمتما رہا تھا۔ آنکھیں حیرت انگیز چمک سے بھرپور تھیں۔ اس نے دھیمے سے مسکراتے ہوئے اپنے ہاتھ اوپر اٹھائے اور تماشائیوں کو سلام پیش کیا۔ تارکین وطن اپنے رستم کو دیکھ کر فلک شگاف نعرے مارنے لگے۔ جواب میں بھولو پہلوان اپنا مکا ہوا میں لہراتا رہا۔

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر79 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
تھوڑی دیر بعد ہنری پیری بھی آدھمکا۔ سرخ وسپید رنگت، نیلی آنکھیں، بھورے بھال اور متناسب قوی ہیکل بدن کا مالک ہنری پیری ایک جی دار تھا۔ وہ پہلا مردبچہ تھا جس نے تمام بڑے شاہ زوروں کے دبک جانے کے بعد بھولو کی للکار کا جواب دیا تھا۔تماشائیوں نے اس کے حق میں بھی دل و جان سے تالیاں بچائیں۔
بھولو پہلوان اور ہنری پیری نے مصافحہ کیا اور ریفری کے پرے ہٹتے ہی اپنے اپنے رنگ میں جاکر اپنے بازو کھولنے لگے۔ اس وقت9بج کر دس منٹ ہو چکے تھے۔ بھولو پہلوان اپنے رنگ سے پلٹ کر ہنری پیری کی طرف متوجہ ہوا جو اس وقت گدے پر کسی چھلاوے کی طرح اچھل رہا تھا۔ بھولو پہلوان آگے بڑھا اور تین بار’’ یا علی‘‘کا نعرہ مارا۔ بھولو کے نعروں کی گونج سے اسٹیڈیم کی زمین تھرا گئی ا ور پاکستانی شائقین کے دلوں میں جیسے ہلچل مچ گئی۔ ہرطرف سے اسلام زندہ باد، پاکستان زندہ باد ،بھولو زندہ باد کے جوش بھرے نعرے گونجنے لگے۔
ہنری پیری اچانک بوکھلا گیا۔ اس نے آج تک ایسا ماحول اور حریف نہ دیکھا۔ چند سکینڈ میں تک وہ شائقین کو دیکھتا رہا اور پھر پلٹ کر بھولو کی طرف وحشیانہ انداز میں بڑھا۔ اس کی برق رفتاری اور فنکاری میں جوش اضطراب تھا، اس کا حملہ اتنا بھرپور تھا کہ دیکھنے والوں کو یقین ہی نہ آیا کہ یہ کیا ہو گیا ہے۔
چھریرے بدن کا ہنری پیری مہلک تیر کی طرح اپنے ہدف پر گرا تھا۔ بھولو کو اپنے کہنہ مشق حریف سے ایسی ہی توقع تھی۔ ہنری نے بھولو پہلوان کو فلائنگ کک ماری تھی۔ صرف دو قدم کے فاصلے سے کک ایک غیر متوقع حملہ ہوتا ہے۔ بھولو نے اس طوفانی ریلے کو اپنی چھاتی پر برداشت کرلیا۔ حریف کا ایک بھرپور حملہ اس کے قدم تک نہ اکھیڑ سکا۔ یہ زوروں میں انتہا کو پہنچی مشق کا نتیجہ تھا کہ بھولو حریف کے سامنے چٹان کی مانند منجمد رہا تھا۔
ہنری پیری کو توقع تھی کہ بھولو پہلوان کک کھانے کے بعد نیچے گرے گا تو اسے اپنے حصار میں قید کرلے گا۔ مگر نتیجہ اس کی توقع کے مطابق نہیں نکلا تھا۔ وہ اب دوسرے داؤ کے لیے الٹے قدموں پیچھے ہٹا اور بھولو کے گرد چکر کاٹ کر دوسرا حملہ کرنے کے لیے پر تولنے لگا۔ اسی اثناء میں پاکستانی اور ہندوستانی تماشائیوں کے نعرے گونجنے لگے۔بھولو پہلوان نے شان بے اعتنائی سے اپنا بازویوں ہوا میں لہرایا جیسے کہہ رہا ہو۔
’’ہاں میں تمہارے نعروں کا مان رکھوں گا اور آج دنیائے شاہ زوری کے میدان میں اپنا اور اپنے خاندان کے بڑے نام کا جھنڈا گاڑ کر رہوں گا۔‘‘
ہنری پیری نے گہری نظروں سے بھولو پہلوان کے استقلال کو توڑنے کی کوشش کی۔ ایک بار پھربھرپور حملہ کردیا۔ مگر اس بار بھولو اپنی جگہ سے ایک قدم بائیں ہٹا اور حریف کے قریب پہنچتے ہی اس کی گردن کے گرد اپنا دایاں بازو زنجیر فیل کی طرح حمائل کر دیا۔ بھولو نے ہنری کی گردن اس کمال کے ساتھ جکڑی لی تھی کہ وہ تکلیف کے مارے اپنے پاؤں پٹخنے لگا تھا۔ اسی لمحہ بھولو پہلوان نے اپنے بائیں گھٹنے سے ایک زور دار ضرب اس کے سینے پر دے ماری۔ ہنری پیری کی آنکھوں میں تارے ناچ گئے۔ وہ ہوا میں اچھلا اور ایک دھماکے سے اکھاڑے میں گرا۔ یہ داؤ بھی کیا عجیب تھا۔ دیسی کشتی کی ایک جدید پٹھی تھی جو بھولو نے ولائتی پٹھی کے روپ میں اپنے حریف پر آزمائی تھی۔ ہنری اکھاڑے میں چاروں شانے چت پڑا تھا۔اگر دیسی کشتی ہوتی تو حریف چند سکینڈ کے بعد ہی رسوا ہو چکا ہوتا مگر یورپی سٹائل کی کشتی میں اس انداز کی کوئی اہمیت نہ تھی۔
ہنری فوراً اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ اس نے برق وباراں بن کر بھولو پر حملہ کر دیا۔ یہ بھی بھرپور حملہ تھا۔بھولو نے اس بار بھی ہنری کی گردن بازو میں دبائی اور گھٹنے سے سینے کو سینک دیا۔اب کی بار ہنری چار فٹ تک بلند ہوا اور اچھل کر اکھاڑے کی رسیوں سے جاٹکرایا مگر ہنری بھی لچکیلے بدن میں ڈھلا ہوا تھا۔ وہ فوراً اٹھا اور دونوں بازو پھیلا کر غرانے لگا۔ اس بار بھولو آگے بڑھا اور حریف کے گرد ایک چکر کاٹنے لگا پھر یکدم اسے اپنے بازوؤں پر یوں اٹھالیا جیسے کوئی گڈا اٹھاتا ہے۔بھولو نے ہنری کو ہاتھوں میں اٹھا کر آڑا ترچھا ہوا میں لہرایا۔اگر وہ چاہتا تو حریف کو اوپر سے گرا سکتا تھا بھولو کے خون میں انسانیت کا احترام شامل تھا۔لہٰذا اس نے یہ عمل نہ کیا۔ہنری بھولو کے ہاتھوں میں مچل رہا تھا۔ بھولو نے اسے آرام سے اکھاڑے پر پچھاڑ اور ساتھ ہی اپنا دایاں گھٹنا درمیان میں حائل کرکے گویا اس کی کمر کو جکڑ لیا تھا اور پھر اپنی ٹانگ کو نجانے کیا حرکت کی کہ ہنری دوفٹ کے فاصلے پربھولو کے مقابل گرا اور ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگا۔
ون۔۔۔ٹو۔۔۔تھری۔۔۔ریفری نے گنتی شروع کر دی تھی۔اسٹیڈیم میں تماشائیوں کا ہیجان ریفری کی آواز میں دب چکا تھا۔ دلوں کی دھڑکنوں میں انتشار بڑھ رہا تھا۔ بھولو حریف سے چند قدم پر کولہوں پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا۔ گنتی مکمل ہوئی اور ہنری پیری کی تڑپ ختم نہ ہوئی۔ ریفری نے بھولو کا ہاتھ لہرا دیا۔ اسٹیڈیم نعروں اور تالیوں کے شور سے تھرا گیا۔لوگ دیوانہ وار پاکستان زندہ باد، اسلام زندہ باد، بھولو زندہ باد،نعرہ تکبیر اللہ اکبر۔۔۔کے نعرے مار رہے تھے۔
اسی اثناء میں پاکستان کے ہائی کمشنر ایس کے دہلوی اکھاڑے میں داخل ہوئے، مسٹر وہیلن ان کے ہمراہ تھا۔ اس نے ہاتھوں میں عالمی چیمپئن شپ کی پیٹی اٹھا رکھی تھی۔ اس نے پیٹی ایس کے دہلوی کو تھمائی اور انہوں نے آگے بڑھ کر بھولو کی کمر سے باندھ دی۔
آج ایک انتظار شکن عہد اختتام کو پہنچا تھا۔1910ء کے بعد1967ء میں بھولو نے اپنے تایا گاماں پہلوان کے گاڑے ہوئے عالمی رستم کے جھنڈے کو دوام بخش دیا تھا۔اس نے بڑیے والہانہ انداز میں پیٹی کو چوما اور پھر اپنے حریف ہنری پیری کو جوا ابھی تک اکھاڑے میں چت پڑا تھا اس کی طرف بڑھا۔اس نے ہنری کو اٹھایا اور اس کا شانہ تھپتھپا کر واپس آگیا۔
بھولو پہلوان کی فتح کی دھوم دنیا بھرمیں مچ گئی تھی۔وہ فتح و کامرانی سے جب ارض پاک پہنچا تو عقیدت مندوں کا ایک ہجوم بیکراں استقبال کے لیے امڈ آیا تھا۔ بڑے اداروں اور حکومت نے بھولو کی کامیابیوں پر دعوتیں اور انعامات دیئے۔
بھولو پہلوان کے رستم زماں بننے سے اب وہ تمام منہ بند ہو گئے تھے جو کہا کرتے تھے بھولو صرف اپنے بھائیوں کے دفاع کی وجہ سے خود کو رستم سمجھتا پھرتا ہے۔ بھولو کا فن گواہ تھا کہ اس نے ہمیشہ اپنے درجے کے بڑے پہلوانوں کو بڑی آسانی سے چت کر دیا تھا۔ رستم زماں کا مقابلہ صرف چوبیس سکینڈ میں اختتام پذیر ہوا تھا۔ یہ فقط کہنے کی بات ہے مگر بھولو پہلوان کی چابکدستی اور فنکاری کا کمال تھا کہ اس نے ایک بہت بڑے اعزاز کو صرف چند سکینڈ کے مقابلہ کے بعد جیت لیا تھا مگر حقیقت تو یہ ہے کہ اس کے پیچھے انیس سال کی ریاضت کا جوالا مکھی چھپا ہوا تھا۔
بھولو ایک عام پہلوان نہیں تھا۔وہ اوصاف میں قلندر اور شاہ زوری میں سکندر تھا۔کبھی اس کی ریاضت پر غور کریں کہ وہ کیا طوفان تھا۔بھولو پہلوان ہمیشہ رات کے دو بجے بیدار ہوتا تھا۔ سب سے پہلے نوافل ادا کرتا اور پھر ٹھنڈائی پیتا جس کے اجزاء میں صندل بورا، زرشک، آملہ،گل ،نیلوفر، خشک کاسنی اور الائچی خورد ہوتی تھی۔ پھر وہ امام بخش رستم ہند اور رستم زماں گاماں پہلوان کی نگرانی میں باقاعدہ ریاضت شروع کرتا۔پہلے وہ پانچ ہزار سپاٹے اور چار ہزار ڈنٹر پلیتا۔پھردومن وزنی ڈمبلوں کی جوڑی پھیرتا۔اس دوران نماز فجر کا وقت ہو جاتا تو نماز ادا کرتا۔ اس کے بعد اپنے کلب میں ہاتھوں کی مدد سے دوڑلگاتا۔اس کے بعد وہ بکرے کا گوشت جو آدھا سیر مکھن میں بھنا ہوتا بطور ناشتہ کرتا۔پھر وہ تین گھٹنے کی نیند لیتا اور بارہ بجے دودھ گھی سے تیار شدہ ربڑی نوش کرتا۔ اس کے بعد ایک گھنٹہ ریت کی کھدائی ہوتی پھر دوپہر کے کھانے کا وقت ہو جاتا جس میں اڑھائی سیر گوشت شامل ہوتا تھا۔ کھانے کے بعد نیند لیتا۔چار بجے اٹھ کر اکھاڑے کا رخ کرتا اور اپنی ورزشوں کا آغاز کرتا۔ یہ ریاضت بھولو پہلوان کے آخری دور کی ہے۔ اس سے قبل کی ریاضت تو بے انتہا ہوتی تھی۔
بھولو رستم زماں کا تاج پہننے کے بعد اپنی کسرت سے غافل نہ ہوا۔ اس میں احساس ذمہ داری دو چند ہو گیا تھا۔اس اعزاز کے دفاع کے لیے وہ خود کو فٹ رکھنا چاہتا تھا۔مگر حد سے بڑھی کسرت اور خوراک نے فصیل جاں میں دراڑیں ڈالنا شروع کر دیں۔1970ء میں جب بھولو پہلوان کی عمر صرف اڑتالیس برس تھی، اس کا پہلا آپریشن ہوا۔بھولو کے پتے میں خرابی پیدا ہو گئی تھی۔ ڈاکٹروں نے آپریشن تو کر دیا مگر جسم پر مسیحاؤں کے نشتر کا کیا چلنا تھا کہ پھر تو جیسے اسے عادت سی ہو گئی۔چند سال ہی گزرے تھے کہ اپنڈکس کی تکلیف شروع ہو گئی۔ پھر آپریشن ہوا۔مگر اب ساتھ ہی مختلف عوارض،شوگر اور بلڈپریشر نے طاقت و توانائی کے پہاڑ کو چاٹنا شروع کر دیا۔ڈاکٹروں نے رستم زماں کو کسرت میں اعتدال کی نصیحت کی مگر بھولو پہلوان کسی مشورے اور ہدایات کو خاطر میں نہ لایا نتیجہ یہ نکالا کہ جولائی1974ء میں پہلوان کو دل کا دورہ پڑ گیا۔

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر81 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
بھولو پہلوان ان دنوں کراچی میں تھا۔خبرآناً فاناً پھیل گئی۔ شائقین اپنے رستم کی بیماری پر افسردہ ہو گئے۔ ڈاکٹروں نے علاج معالجہ کے بعد رخصت دی۔بھولو نے دل کی بغاوت کے بعد احتیاط برتنی شروع کر دی تھی۔
(جاری ہے )

مزیدخبریں