گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 37

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ ...
گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 37

  


سرشادی لال اس وقت چیف جسٹس تھے۔ وہ وکلاء میں سے منتخب کئے گئے تھے کیونکہ وہ ایک نہایت کامیاب وکیل تھے۔ ایک آئی سی ایس افسر مسٹرولسن جانسن نے جو جہلم میں ڈپٹی کمشنر تھے، ایک دن مجھے بتایا کہ وہ اور سرشادی لال آئی سی ایس کے امتحان میں ایک ہی ساتھ شریک ہوئے تھے۔ وہ پاس ہوگئے اور شادی لال فیل ہوگئے۔ اب شادی لال ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے اور یہ بے چارے صرف ڈپٹی کمشنر۔

1920ء کے بعد کے برسوں میں لاہور ہائیکورٹ کے ایک جج مسٹر عبدالرؤف تھے۔ خاصے معمر تھے۔ ان کا تبادلہ الہ آباد سے لاہور ہوا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ کے مسلمان وکلاء کو ہندو چیف جسٹس سے یہ شکایت تھی کہ انہیں اور خاص طور پر سرمحمد اقبال کو نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ اس زمانے میں جب کہ میں محض ایک نوجوان وکیل تھا، گو صوبائی پارلیمنٹ کا ممبر بھی تھا۔ جج صاحبان میرے یہاں کھانے کی دعوتوں میں شرکت کرکے مجھے سرفراز کرتے رہتے تھے۔ ایک بار مسٹر جسٹس رؤف نے بھی میرے یہاں کھانے کی دعوت قبول کرلی لیکن مہمانوں کی آمد سے کوئی آدھ گھنٹہ قبل انہوں نے فون کیا اور کہا بہت تھکا ہوا ہوں۔ مجھے غیر حاضری کے لئے معاف فرمائیں۔ وہ خاصے بوڑھے تھے۔ میں نے ان سے کہا’’ آپ کی خوشی میری خوشی ہے اور میری خواہش ہے کہ آپ کی طبیعت جلد بحال ہوجائے‘‘ لیکن مجھے مایوسی بہت ہوئی کیونکہ ہائی کورٹ کے ایک جج کا ایک نوجوان وکیل کو اس طرح سے سرفراز کرنا، ایک نادر تقریب ہوتی۔ یہ ایک ایسا سبق تھا، جسے میں نے اپنی آئندہ زندگی میں کبھی فراموش نہیں کیا۔ دعوت نامہ قبول کرنے کے بعد میں اپنے وعدہ پر ہمیشہ ثابت قدم رہتا۔ بالخصوص ان دوستون کے ساتھ جو نسبتاً کمتر حیثیت کے مالک ہوتے۔ ہمارے ملک میں لوگ اس طرح کے وعدوں کو نہایت آسانی سے فسخ کردیتے ہیں اور اس طرح لازمی طور پر بدمزگی پید اہوتی ہے۔ بعض لوگ سوچتے ہیں کہ میزبان چونکہ اپنا عزیز دوست ہے اس لئے ان کی غیر حاضری کو محسوس نہیں کرے گا۔ یہ بات غلط ہے۔ ایک باروالد نے مجھ سے کہا تھا کہ تمہاری بہترین توجہ بہترین احباب کے لئے وقف ہونی چاہیے، تاکہ دوستی کا رشتہ پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو۔

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 36 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک بار سرعبدالقادر کو ایک بہت دلچسپ مقدمہ ملا۔ وہ سینئر وکیل تھے اور میں ان کا مددگارتھا۔ ہوا یہ کہ ایک انگریز افسر نے ایک دولت مند اور اہم سردار کو اس کے عجیب و غریب رویہ کی بناء پر صوبہ سے نکال باہر کیا تھا۔ وہ ہمارے پاس آیا اور اپنے اور انگریز افسر کے مابین صلح و صفائی کے لے ہماری خدمات حاصل کیں اور وعدہ کیا کہ اسے جو ہدایات دی جائے گی بے تامل بجالائے گا۔ اس نے سرعبدالقادر اور مجھ سے رازداری کے انداز میں پوچھا کہ جب وہ لڑکا خود آمادہ ہے اور وہ اسے خوش کرنے کے عوض اچھا خاصا معاوضہ ادا کررہا ہے تو اس بات سے آخر انگریز کو کیا تکلیف ہورہی ہے اور وہ اس سے ناراض کیوں ہے؟

سرعبدالقادر نے اپنے حکمت آمیز پیرائے اور دلنشیں مسکراہٹ کے ساتھ اس شخص کو گناہ کے گھناؤنے پن کا قائل کردیا۔ سرعبدالقادر کا حافظہ نہایت قوی تھا اور اپنے مقدمہ کے حقائق و واقعات کے ساتھ نمٹنے کی صلاحیت ان میں غیر معمولی تھی۔

چیف جسٹس سرشادی لال ہندو تھے۔ ایک بار ایک صاحب وزیر ہند ماسٹرمانیٹنگ سے ملاقات کے لئے گئے اور اعلیٰ عہدوں میں مسلمانوں کی کمی کی شکایت کی۔ وزیر ہند نے کہا کہ میں نے حال ہی میں ایک مسلمان سرشادی لال کو لاہور ہائیکورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا ہے۔ مسلمان اس سے زیادہ آخر اور کیا چاہتے ہیں؟ ہندوستان کے معاملات میں لندن کے انڈیا آفس کی بے خبری اپنی حدود انتہا کو پہنچی ہوئی تھی کیونکہ انڈیا آفس میں بیشتر ایسے لوگ متعین تھے، جنہوں نے ہندوستان میں کبھی خدمات انجام نہیں دی تھیں۔

بعض چھوٹے چھوٹے واقعات یاد آتے ہیں تو میں اب ہنس پڑتا ہوں، پرنس آف ویلز (جو بعد میں شاہ اینڈورڈ ہشتم ہوئے) 1921ء میں ہندوستان آئے۔ میں اس استقبالیہ کمیٹی میں شامل تھا جس نے ان کے قیام لاہور کے سلسلہ میں انتظامات کئے تھے۔ پنجاب کے تمام سرکردہ معززین منٹو پارک میں تعارف کی خاطر صف بستہ کھڑے تھے۔ قطار کے سرے پر ایک ایسے بزرگ بھی تھے جن کی لمبی سی سرخ داڑھی تھی اور سفید قبا کے چاک ہوا میں لہرارہے تھے۔ شہزادہ نے ان سے مصافحہ کیا۔ اس معزز ہستی نے کہا کہ ’’میں ڈبل نائٹ ہوں‘‘ یعنی مجھے نائٹ کے خطاب سے دوبار نوازا گیا ہے۔ شہزادہ نے سرمانٹیگ بٹلر (جو آر اے بٹلر اور لارڈ بٹلر کے والد تھے) سے دریافت کیا کہ یہ صاحب کیا کہہ رہے ہیں؟ تعارف کی خدمات وہی انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے اس خیال سے کہ بڑے میاں کو خفت نہ ہو جواب دیا کہ ’’سر !یہ کہتے ہیں اُمید ہے کہ آپ نے ان کے ملک کو پسند فرمایا ہوگا۔‘‘

سائمن کمیشن جس میں سرجان سائمن، پارلیمنٹ کے رکن مسٹر کیڈوگن اور لارڈ برنہم شامل تھے، 1929ء میں پاکستان آیا۔ یہ لوگ اس ملک میں مزید سیاسی اصلاحات کی خاطر مشورے د ینے کے لئے آئے تھے، لیکن افسوس ہے کہ ناکام واپس ہوئے کیونکہ ہندوکانگریس نے کمیشن سے تعاون نہیں کیا اور مسلمانوں کی ایک تعداد نے بھی اس رویہ کا مظاہرہ کیا۔ ہندوستان کے اکثر شہروں میں سرجان سائمن کا خیر مقدم اس نعرہ سے کیا گیا تھا ’’سائمن واپس جاؤ‘‘ یہ نعرہ کانگریس کا تھا۔ تاہم لاہور میں کمیشن کا خیر مقدم ہوا اور اس کا سہرا سرفضل حسین کے سرتھا۔ ریلوے سٹیشن کے سامنے ایک زبردست ہجوم اکٹھا ہوگیا تھا۔ اس میں کچھ لوگوں کا رویہ دوستانہ تھا اور کچھ کا غیر ہمدردانہ۔ ایک مسلمان برگ سرجان سائمن کو ان کی قیام گاہ تک چھوڑنے کے لئے ان کی کار میں بیٹھ گئے۔ گاڑی جوں ہی باہر نکلی، مجمع میں سے کسی شخص نے ان پر آوازہ کسنا شروع کردیا ’’اودلے! او دلے!‘‘ بیان کیا جاتا ہے کہ ان صاحب نے حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے اپنے سر کو اقرار میں اس طرح جنبش دی جیسے خیر مقدم کے نعروں اور تہنیتی آوازوں کو بہ طیب خاطر قبول فرمارہے ہیں۔

سرجان سائمن نے ان سے پوچھا ’’اس لفظ کے کیا معنی ہیں؟‘‘ بزرگوار نے انہیں بتایا کہ پبلک کہتی ہے ہم آپ کو دیکھ کر بے حد خوش ہوئے ہیں۔ سرجان سائمن نے یہ لفظ یاد کرلیا اور بعد میں سرفضل حسین سے پوچھا کہ ’’دلے‘‘ کے کیا معنی ہیں؟ چنانچہ انہیں اس لفظ کے اصل معنی سے آگاہ کردیا گیا۔

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 38 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

شام کو عشائیہ پر جب سرجان سائمن کی ملاقات ان صاحب سے ہوئی جو صبح انہیں قیام گاہ پر چھوڑنے کے لئے گئے تھے۔ تو انہوں نے ان کے ساتھ مصافحہ کیا اور کہا ’’اودلے‘‘ وہ بزرگ یہ سوچ کر مسکرادئیے کہ سرسائمن تہنیتی الفاظ سے ان کا خیر مقدم کررہے ہیں۔

(جاری ہے )

مزید : فادرآف گوادر


loading...