کشمیریوں کی آزادی

کشمیریوں کی آزادی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


انسان ازل سے ہی دو گروپوں میں تقسیم چلے آ رہے ہیں۔ ایک گروہ امن، اتحاد،سلامتی،حق و صداقت اور انصاف پر یقین رکھتا ہے۔دنیا میں امن اور سلامتی کا خواہاں ہے اور دوسرا گروہ جسے شر، گمراہی، بدامنی اور تباہی پھیلانے والا شیطانی گروہ کہا جاتا ہے، جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے انبیائے کرام اور پیغمبران عظام کے پیغام کو اپنایا وہ مسلمان کہلاتے ہیں اور شیطانی عقائد اختیار کرنے والوں کو گمراہ طبقہ!شیطانی گروہ کہا جاتا ہے۔ اسلام دین حق ہے اور مسلمان ایک خدا ایک رسولؐ برحق، آخری الہامی کتاب قرآن پاک اور ایک قبلہ یعنی خانہ کعبہ پر یقین رکھتے ہیں۔

غیرمسلم اپنے اپنے باطل عقائد، تصورات اور رسوم و رواج کی وجہ سے بے شمار ذاتوں اور گروہوں میں تقسیم ہیں۔ قرآن پاک میں فرمایا گیا کہ کفار اور مسلمان دوست نہیں ہو سکتے،بلکہ مسلمانوں کے مقابلے میں تمام کفار اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ مسلمانوں نے اپنی زندگی قرآن و سنت کے مطابق گزارنے کے لئے اسلام کا جداگانہ طرز زندگی، جو پاکیزگی، ایمان اور سچائی کے اصولوں پر قائم ہے اور اسی پرکاربند رہے،جب کفار مکہ نے حق کو قبول کرنے سے صاف انکار کیا اور اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو قرآن پاک میں ارشاد فرمایا گیا کہ اے محبوبﷺ کفار سے کہہ دیجئے کہ تمہارے لئے تمہارا دین اور ہمارے لئے ہمارا دین، یعنی دو قومی نظریے کی بنیاد 1400(چودہ سو سال) قبل رکھ دی گئی تھی اور واضح طور پر مسلم اور غیر مسلم کو دو علیحدہ علیحدہ قومیں قرار دیا گیا تھا۔

برصغیر میں محمد بن قاسم سے لے کر محمود غزنوی، شہاب الدین غوری سمیت مغلوں نے تقریباً ایک ہزار سال تک حکومت کی اور یہاں اسلامی اصولوں اور مساوات کے مطابق رعایا کے ساتھ یکساں برتاؤ کرنے کی بے شمار مثالیں قائم کیں، مگر غیر مسلموں کی اکثریت اپنے عقائد پر کاربند رہی۔ برصغیر کے پہلے مسلم حکمران شہاب الدین غوری نے 1401-5ء میں ہندو مسلم اختلافات کو ہمیشہ کے لئے طے کرنے کے لئے ایک حل نکالا اور ہندو راجہ پرتھوی راج کو تجویز پیش کی کہ برصغیر میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی باہمی معرکہ آرائی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کا حل یہی ہے کہ دریائے جمنا کو حد فاصل بنا کر برصغیر کو تقسیم کر دیا جائے کہ مشرقی ہندوستان پر ہندوؤں اور مغربی ہندوستان پر مسلمانوں کا تصرف ہو جائے، تاکہ دونوں قومیں امن و امان سے زندگی گزار سکیں۔ یعنی ہندوستان کو دو حصوں میں تقسیم کرکے پنجاب، سندھ، سرحد، بلوچستان اور کشمیر کا علاقہ پاکستان کو دے دیا جائے اور باقی ماندہ ہندوستان ہندوؤں کے پاس رہے۔


قوم پرست شخصیات نے مختلف ادوار میں ہندوستان میں امن اور استحکام کے لئے ہندوؤں اور مسلمانوں کے علاقوں پر مشتمل دو علیحدہ ریاستوں کے قیام کی حمایت کی،پھر اسی نظریئے کو سامنے رکھتے ہوئے مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ نے 1940ء میں قرارداد منظور کرتے ہوئے مسلمانوں کے لئے الگ وطن پاکستان کا مطالبہ کیا تھا، چنانچہ پورے ہندوستان میں یہ نعرہ گونجنے لگا کہ مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اللہ…… لے کر رہیں گے پاکستان بن کر رہے گا پاکستان، بٹ کر رہے گا ہندوستان…… تحریک آزادی رنگ لائی اور حضرت قائداعظمؒ محمد علی جناح کی قیادت میں مسلمانوں نے آزادی کی جنگ جیت لی۔


قیامِ پاکستان کے فوراً بعد بھارت نے وادیء کشمیر پر جبراً قبضہ کر لیا اور 27اکتوبر 1948ء کو ہندوستان نے کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کرلیں اور ایسے تنازع کی بنیاد رکھ دی جو جنگوں کے باوجود حل طلب ہے۔ افسوس کہ اس ضمن میں عالمی ادارہ اقوام متحدہ نے بھی اپنا صحیح کردار ادا نہیں کیا۔ کشمیر کے مسئلے کے پُرامن اور پائیدار حل کے لئے اقوام متحدہ نے قراردادیں پاس کیں، مگر آج تک ان قراردادوں پر عمل درآمد نہیں کروایا گیا اور اقوام متحدہ اپنا بنیادی کردار ادا کرنے میں بُری طرح ناکام ہوا۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کا اختیار بذریعہ رائے شماری دیا جائے اور کشمیر میں غیر جانبدارانہ رائے شماری کا اہتمام کیا جائے کہ کشمیری عوام ہندوستان، پاکستان یا پھر آزاد حیثیت میں جو فیصلہ دیں،تمام فریق اور ادارے اسے تسلیم کریں۔


کشمیریوں نے اپنے نوجوان بچے بچیوں کی تنظیم بنائی ہے جو بے بہا قربانیاں دے کر مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھنے کی کوشش کررہی ہے اور اقوام متحدہ اور عالمی تنظیموں پر اپنا اثر رسوخ استعمال کررہی ہے کہ کشمیریوں کو ان کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا حق دیا جائے۔ وادی میں رائے شماری کرائی جائے۔ ہزاروں نوجوان اور رضاکار کوچہ کوچہ قریہ قریہ کشمیری مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں۔ سیمینار، ریلیاں اور کنونشن منعقد کرکے وکلاء، صحافی، علمائے کرام اور سیاسی، سماجی اور دینی رہنماؤں کو اپنے موقف سے آگاہ کرکے ایک تحریک چلا رہے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اپنے دورۂ امریکہ میں امریکی صدر سے ملاقات میں اور جنرل اسمبلی سے خطاب کرکے اس میں نئی جان ڈالی ہے اور دنیا کی سپرپاور کے سربراہ کو باور کرایا ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے لئے ان کی حمایت کررہا ہے، جبکہ ہندوستان نے ستر سال سے کشمیر پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور ہزاروں کشمیری نوجوان شہید ہو چکے ہیں، یعنی کشمیری بے پناہ قربانیاں دے رہے ہیں۔ امید کی جا سکتی ہے کہ حق خود ارادیت کے لئے کشمیریوں کی پکار سے اقوام متحدہ شائد اب بیدارہو جائے۔

اب یہ دوبارہ نئے سرے سے ایک تحریک بن کر سامنے آئے گی اور یہ ملک گیر تحریک جدوجہد آزادی کو ایک نیا رنگ دے گی۔ وادی کشمیر میں انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں اور غاصب بھارتی افواج کے مظالم میڈیا کے ذریعے عالمی برادری کے سامنے لانے سے بھارت کا اصل چہرہ سامنے آئے گا۔ صورت حال روز بروز ابتر سے ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ کشمیریوں کا طرز زندگی یہ نہیں تھا جو اب ہے۔ بھارت کی بدسلوکی،تعصب اور تسلط کے باوجود کشمیریوں کی تحریک کامیاب ہو رہی ہے اور روز بروز آگے بڑھ رہی ہے۔ کشمیریوں کے چہروں سے بھارتی فوجیوں کے خلاف نفرت عیاں ہے۔ کشمیریوں کے آنسو اور آہیں اقوامِ متحدہ سے انصاف کی طلبگار ہیں۔ کشمیری امن کے طلبگار ہیں اور انتظار میں ہیں کہ ان کو کب امن نصیب ہو گا۔ یہ جنگ ہے کشمیر کے رہنے والے باسیوں کی، محکوموں کی،مجبوروں کی، مزدوروں کی، متوالوں کی، بے کس معصوم بچوں کی اور مجبور کشمیری خواتین ماں بہنوں کی۔ ان شاء اللہ بہت جلدکشمیری یہ جنگ جیت کر آزادی حاصل کریں گے۔

مزید :

رائے -کالم -