اپنے جھگڑوں میں بچوں کو تنہا مت کیجئے

اپنے جھگڑوں میں بچوں کو تنہا مت کیجئے
اپنے جھگڑوں میں بچوں کو تنہا مت کیجئے

  


عائلی زندگی اگر ایک جانب بہت سی خوشیاں لے کر آتی ہے تو دوسری طرف کچھ وقت گذرنے کے بعد مسائل کے انبار بھی نظر آنے لگتے ہیں سب کچھ ہرا ہرا نہیں ہوتا ، کیونکہ شادی صرف دو افراد کے باہم رہنے کا ہی نام نہیں بلکہ ایک پوری نسل کے باہم جڑنے کا نام بھی ہے ۔

اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ خاندان میں شوہر اور بیوی ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے ہوں ، ہمارے ہاں کئی شادیاں خاندان میں کرنے سے بہت سے ایشوز سامنے آتے ہیں کہ لڑکا یا لڑکی کی پسند کو مدنظر نہیں رکھا گیا یا وٹے سٹے کی بنیاد پر ہونے والے رشتےجس میں بہت سی مجبوریاں آڑے آ جاتی ہیں ، وجہ بیوی کی بدزبانی یا پھوہڑ پن ہو ، خاوند کا بیوی کی موجودگی میں باہر دس دس معاشقے لڑانا ہو ، نان نفقہ پورا نہ کرنا ہو ، مار پیٹ یا گالم گلوچ ہو ، وجہ کوئی بھی ہو والدین کی طلاق یا علحدگی کی صورت میں سب سے زیادہ نقصان صرف اور صرف بچوں کا ہی ہوتا ہے ۔

کیونکہ والدین یا تو دوسری شادی کر لیتے ہیں اور اپنی الگ دنیا بسانے لگتے ہیں ، اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر یہ ہوتا ہے کہ اگر وہ تنہا رہتے ہیں تو ان کے بچے اذیت کا شکار ہونے لگتے ہیں کیونکہ چاہتے نہ چاہتے والدین کا رویہ اپنے ہی بچوں سے سخت ہونے لگتا ہے ، وہ انھیں ہی اپنی ازداواجی زندگی کی کامیابی میں رکاوٹ سمجھتے ہیں اور بات بات پر یہ احسان ضرور جتاتے ہیں کہ تمھاری ماں تمھیں چھوڑ کر گئی جو میں نے تمھیں پالا یا تمھارا باپ ایسا تھا جس کی وجہ سے میں تنہا رہ گئی ۔

میاں بیوی کے درمیاں ناچاقی ، علحدگی اور پھر آخری نوبت یعنی طلاق چاہے اسکی کوئی بھی وجہ ہو اس کا بچوں پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے اور یہ اثر کبھی بھی مثبت نہیں ہوتا کیونکہ بچوں کو ہمیشہ ماں باپ کے سہارے اور سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے ۔

ایسے بچے جن کے والدین طلاق یافتہ ہوں ان کی زندگی کبھی بھی پہلے جیسی نہیں ہو سکتی ، وہ عدم اعتماد اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں ۔ ان کی جذباتی نشو ونما رک جاتی ہے ، ان کی سماجی زندگی کا دائرہ کار مختصر ہونے لگتا ہے کیونکہ ان کے دوست احباب ، جاننے والے سب ہی انھیں والدین کی علحدگی کا طعنہ دیتے ہیں خاص طور پر یہ مسئلہ اور بھی گھمبیر ہو جاتا ہے جب والدین ایک دوسرے کے رشتہ دار ہوں ۔

ایسے بچے اگر چھوٹے ہوں تو ان میں خودسری اور ضد پنپنے لگتی ہے ، بیماری میں بھی وہ بہت چڑچڑے ہو جاتے ہیں جبکہ یہی بچے اگر ٹین ایج میں ہوں تو سوشل میڈیا کے منفی اثرات کو قبول کرتے ہیں کیونکہ گھر پر ان کی بات سننے کے لئے کوئی نہیں ہوتا تو وہ کسی بھی شخص کو اپنا خیر خواہ سمجھ کر سب رازوں سے پردہ ہٹا دیتے ہیں ۔

وقت سے پہلے میچیور ہونے کی وجہ سے ان میں بہت سی اخلاقی اور معاشرتی برائیاں بھی پیدا ہونے لگتی ہیں اور زیادہ افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ وہ اسے برا بھی نہیں سمجھتے ۔ ایسے نوجوان گھر سے بھاگتے ہیں کیونکہ وہاں کا ماحول ڈیپریشن زدہ ہوتا ہے اس پریشانی والی صورتحال سے فرار کے لئے نشہ آور ادویات ، شراب نوشی ، تمباکو نوشی ، نیند آور گولیاں کا استعمال بالکل عام ہونے لگتا ہے ۔

چھوٹی چھوٹی باتوں پر طیش آجانا معمول بن جاتا ہے اور اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے بچے بڑے ہو کر ٹھیک ہو جاتے ہیں ہر گز نہیں کیونکہ ان کے لاشعور میں ماں یا باپ دونوں یا کسی ایک کے لئے نفرت بھر چکی ہو تی ہے اور پھر وہ اپنی ازدواجی زندگی کا آغاز بھی درست طریقے سے نہیں کر پاتے ۔ وہ ہمیشہ اپنے زندگی کے ساتھی پر شک کرتے رہتے ہیں اسکے اخلاص پر ہمیشہ انھیں یقین نہیں آتا ۔

اسی طرح بے یقینی کا ایک اور لامتناہی سلسلہ شروع ہونے لگتا ہے ۔ اب ان سب مسائل کے حل کیطرف آئیں تو وہ آسان بھی ہیں اور پیچیدہ بھی ۔ سب سے پہلے تو والدین کو بچوں کی شادی بروقت اور بہتر انداز سے کرنی چاہیے ، یہ مت کہیئے کہ ہمارے زمانے میں ایسا شوہر تھا ہم سے تو پوچھا نہیں گیا اور ہم نے گذارا بھی کر لیا، آج کل کا زمانہ مختلف ہے آپ کا مختلف تھا ۔ اسی طرح ہر شخص دوسرے سے مختلف ہے ۔ زندگی سمجھوتوں کا نام تو ہے لیکن ہر بندہ ہر جیسا سمجھوتہ نہیں کر سکتا ۔

دوسرا اگر شادی ہو جاتی ہے تو والدین اسے بنھانے کی کوشش کریں ، میں نے بہت سے ایسے لوگ دیکھے جن کے درمیاں خود تو ناچاقی ہوتی ہے لیکن وہ بچوں کو کبھی ان حالات سے دوچار نہیں کرتے ، انہی کی خاطر نباہ کرنے لگتے ہیں ۔ جب میاں بیوی میں طلاق ہو جائے تو بچوں کی جذباتی نشوونما کا خاص خیال رکھیں ، نہ تو باپ انھیں ماں کے اور نہ ہی ماں انھیں باپ کے خلاف کرے بلکہ دونوں عدالت کے طے کردہ اوقات کے مطابق بچوں سے ملیں اور انھیں وقت دیں ۔

بچوں کے نفسیاتی مسائل حل کرنے کے لئے ان کے اچھے سے چائلڈ سائی کالوجسٹ سے سیشن کروائے جائیں اور سب سے آخر میں برداشت کا مادہ پیدا کریں ، جو معذرت کیساتھ نہ اکثر خواتین میں ہے نہ ہی مردوں میں ، اسی برداشت کے ذریعے سے ہی گھر بنتے ہیں ورنہ آشیانہ اجڑنے میں ایک پل نہیں لگتا ۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ


loading...