پنجاب  میں کیسی گورننس ہے؟

پنجاب  میں کیسی گورننس ہے؟
پنجاب  میں کیسی گورننس ہے؟

  


پنجاب میں ایک اچھی گورننس کی امید  دلائی گئی تھی۔   مگر  اچھی حکومت کا قیام دعوئوں وعدوں بیانات تقاریر سے ممکن ہوتا یا صرف سوچنے سے ہی اس کا امکان ہوتا تو وہ جو صدیوں کے بعد بھی تاریخ میں زندہ ہیں تاریخ ان کے ذکر اور خوبیوں سے اٹی ہوئی نہ ہوتی بلکہ شائد ان کا کوئی نام بھی نہ جانتا،قوم نے تحریک انصاف سے بہت امیدیں باندھی تھیں مگر کوئی ایک بھی بر نہیں آئی،اگر چہ تحریک انصاف کو اتنا زیادہ ٹائم نہیں ملا کہ وہ 70سال کا گند صاف کر پاتی مگر اس کیلئے ابتداء تو کی جا سکتی تھی مگر ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی آغاز دکھائی نہیں دے رہا،سندھ میں تو خیر سے پیپلز پارٹی کا سکہ چل رہا ہے اور یہ پارٹی آزمائی ہوئی ہے،وہاں اگر مسائل کا انبار ہے تو بات سمجھ میں آتی ہے،لیکن پنجاب میں تو تبدیلی کے دعویدار براجمان ہیں یہاں بہتری کا کوئی امکان کیوں دکھائی نہیں دے رہا ؟ شائد ان کے بھی ارمان ہیں کہ غریب شہر غریب تر اور امیر شہر امیر  ترین ہو جائے،پولیس اصلاحات کے شور شرابے میں جرائم کا گر اف دن بدن بلند ہو رہا ہے حالانکہ انسپکٹر جنرل پنجاب کیپٹن(ر) عارف نواز ایک منجھے ہوئے پولیس افسر ہیں،مگر روزانہ کوئی ایسی گھنائونی معاشرتی برائی سامنے آتی ہے جس کے بارے میں مہذب اور متمدن ممالک میں سوچنا بھی جرم تصور کیا جاتا ہے،اسی طرح چیف سیکرٹری پنجاب یوسف نسیم کھوکھر ایک جہاندیدہ افسر ہیں مگر ان دونوں کی لیاقت اور ذہانت کے ثمرات سے اہل پنجاب محروم ہیں۔

 سردار عثمان بزدار کی ذاتی شرافت،دیانت ( جس پر اب انگلیاں اٹھ رہی ہیں ) اپنی جگہ  مگر اس کا پنجاب کے غریب عوام کو کیا فائدہ،دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں تبدیلی اور اچھی حکومت میں بلدیاتی ادارے اہم کردار ادا کرتے ہیں،تحریک انصاف کا ویژن بھی اقتدار اور اختیار کی نچلی سطح پر منتقلی تھا مگر آج تک بلدیاتی نظام بھی ایک خواب ہی ہے،اور مستقبل قریب میں اس خواب کی تعبیر دکھائی نہیں دے رہی،سچ یہ ہے کہ اب تک تبدیلی کے دعویدار بھی اسی ڈگر پر بگٹٹ بھاگ رہے ہیں جس پر ان کے پیش رو چلتے رہے،تبدیلی لانے میں اہم ترین  کردار  سخت قوانین اور ان پر دیانتداری سے عملدرآمد کرانے والی مشینری کا ہوتا ہے مگر ایک سال سے زائد عرصہ میں نہ تو قوانین کی لائن لینتھ ٹھیک کی جا سکی کہ ہم آج بھی انگریز کے بنائے پینل کوڈ کے ذریعے ملکی نظام چلا رہے ہیں،اس نظام میں بھی برائی نہیں اگر اس پر عملدرآمد کرانے والے فرض شناس،قانون کا احترام کرنے والے،محب وطن لوگ ہوں،ماضی میں انگریز نے اسی نظام کے تحت کامیابی سے حکمرانی کی اس لئے کہ ان کے عمال دیانتدار تھے،مارکس کو اگر چہ ہم لیڈر نہیں مانتے مگر اس نے

 کہا تھا’’بد ترین نظام اگر دیانتدار لوگوں کے ہاتھ میں دے دو تو وہ  عوام کو تحفظ دے سکتے ہیں لیکن بہترین نظام اگر بد دیانت اور نا اہل لوگوں کے سپرد کر دیا جائے تو نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں نکل سکتا‘‘ہم ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں مگر ریاست مدینہ کے بانی اور ان کے پیروکاروں کے اخلاق کردار کو اپنانے پر تیا ر نہیں،ہم موت ایمان پر چاہتے ہیں مگر زندگی ایمانداری سے گزارنے پر آمادہ نہیں،ایسے میں ریاست مدینہ بھی ایک ایسا بے تعبیر خواب ہی ہے جو عوام کی آنکھوں میں سجا دیا گیاہے۔

امرتا  پریتم نے کہا تھا’’اٹھ درد منداںدیا دردیا ،اٹھ تک اپنا پنجاب،،،،،اج بیلے لاشاں وچھیاں ،تے لہو دی بھری چناب،،،،کسے ظالم پنجاںپانیاں   وچ دتا زہر رلا،،،،،اس وقت ہم جس سماج میں سانس لے رہے ہیں خاتون شاعر کی وارث شاہ کے حوالے سے یہ نظم اس کی بہترین ترجمانی کرتی ہے۔

  آج بھی رشوت کا چلن عام ہے،تھانہ ،کچہری،پٹوار،محکمہ مال تو اب بہت پیچھے رہ گئے جہاں چلے جائیں جس سرکاری دروازہ کو کھٹکھٹائیں آگے منہ کھولے شکاری ملیں گے،کوئی کام رشوت کے بغیر ممکن نہیں  یا پھر سفارش،آپ کے کسی ایم این اے ،ایم پی اے،یا حکومتی رہنماء سے تعلقات ہیں تو کام ہو جائے گا ورنہ    تاریخ پر تاریخ ملے گی یا جیب ڈھیلی کرنا ہو گی،اسے کوئی بھی اچھی حکمرانی کا نام نہیں دے سکتا،اچھی حکمرانی کیلئے عوام کا خادم بننا ضروری ہوتا ہے اور پنجاب کیا کہیں بھی ایسے خادم حکمران دکھائی نہیں دیتے،سادگی کی مثالیں دی جاتی ہیں مگر اب بھی اہم شخصیات کے آنے پر پروٹوکول لگتا ہے اور گھنٹوں عام شہری اپنی منزل کو جانے کیلئے انتظار کی سولی پر لٹکے رہتے ہیں ان میں جاں بلب مریضوں کو ہسپتال لے جانے والی ایمبولینس اور سکول کے بچوں کو تعلیمی ادارہ یا گھر لے جانے والی وین بھی ہوتی ہیں جن میں بچے کلبلا رہے ہوتے ہیں،آج بھی بارش چٹانوں پر ہو رہی ہے اور کھیتیاں ویران خشک پڑی ہیں،آج بھی استحقاق کی بنیاد پر کسی سرکاری ادارے سے کام نکلوانا خواب ہے،آج بھی تھانے رپٹ لکھوانا،ملزم کو گرفتار کرانا ایک مسئلہ ہے،عدالت سے انصاف لینا کار محال ہے،جرائم پیشہ افراد غنڈوں سے خود اور اہلخانہ کو محفوظ رکھنا کار  درد ہے،بچے ملاوٹ شدہ دودھ پینے پر مجبور ہیں،بڑے مضرصحت ناقص اشیاء کھاتے ہیں،نجی سکول والے جب چاہیں فیس بڑھا دیتے ہیں،ہر ماہ بجلی پٹرولیم مصنوعات،گیس کے نرخ میں اضافہ کر دیا جاتا ہے،تھانوں میں تشدد سے ہلاکتیں ہو رہی ہیں توتبدیلی کہاں ہے؟

دیانتداری سے کہا جائے تو چودھری پرویز الٰہی کا دور اس حوالے سے مثالی تھا،وہ ایک عوامی رہنماء ہیں اس لئے عوامی ضروریات اور نفسیات کو سمجھتے ہیںاس لئے اپنے دور میں انہوں نے عوام کی نبض پر ہاتھ رکھا اور عوام کیلئے سود مند منصوبے بنائے اب بھی وہ بطور سپیکر عثمان بزدار اور ان کی کابینہ کی رہنمائی کرنے میں بخیلی کا مظاہرہ نہیں کرتے،اگر بزدار کابینہ ان سے ہی مشورہ کر کے حکومت چلائے تو  بہت سے معاملات دنوں میں ٹھیک ہو سکتے ہیں، کہنا  پڑے گا  شہباز شریف کا دور بھی موجودہ دور سے بہتر تھا،کم از کم سرکاری ہرکارے ان سے خوفزدہ تو رہتے تھے،مگر اب تو نہ کوئی خوف کار فرما ہے نہ ہی کوئی ذہین دماغ جو ان کو بتائے کہ اچھی حکومت کیا ہوتی ہے کیسے کی جاتی ہے اس کے ثمرات کیا ہوتے ہیں اور عوام کی حقیقی ضرورت کیا ہے ۔ 

.

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ


loading...