مقننہ، عدلیہ،انتظامیہ اورصحافت ملک کے اہم ستون

مقننہ، عدلیہ،انتظامیہ اورصحافت ملک کے اہم ستون
مقننہ، عدلیہ،انتظامیہ اورصحافت ملک کے اہم ستون

  

کوئی بھی ریاست چار ستونوں پر مشتمل ہوتی ہے، جن میں مقننہ، عدلیہ،انتظامیہ اورصحافت شامل ہیں اور یہ چاروں اکائیاں اپنی اپنی حیثیت میں اہمیت کی حامل ہیں اور ان  میں سے کوئی  بھی اکائی اگر کمزور ہو تویہ کسی بھی ملک کے لئے نیک فال نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ دیکھا گیا ہے یہ چاروں اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے آزادانہ کام کرتے ہیں، مگر ترقی پذیر ممالک میں اس کے برعکس نظرآتا ہے۔ اگر ہم مقننہ کو لیں توہماری پارلیمنٹ میں اراکین باہم دست و گریباں ہونے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کرتے ہیں، جبکہ قانون سازی جو ان کا اصل کام ہے اس سے رو گردانی کا رحجان ان میں نمایاں پایا جاتا ہے۔ انتظامیہ کو لیں تو ا س میں حکومت اپنی من مانی کرتی نظر آتی ہے عدلیہ کو اس بحث سے استثنیٰ دیتے ہوئے چوتھے ستون صحافت کا جائزہ لیں تو یہ بھی ابتلاء و آزمائش میں گھری رہتی ہے۔

صحافت کی اہمیت کا اندازہ تو امریکہ میں وقوع پذیر ہونے والے اس واقعہ سے باآسانی لگایا جا سکتا ہے کہ واٹر گیٹ سکینڈل، جس کے تحت امریکہ کے37ویں صدر رچرڈ نکسن کو 9اگست 1974ء کو عہدہ صدارت سے استعفیٰ دینا پڑا،جس کا سہرا دو عامل صحافیوں کے سر ہے کہ انہوں نے صدر نکس کے غیرآئینی امور کو طشت ازبام کیا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں پریس کومکمل آزادی ہے اورمیڈیا خود مختار ہے مگروطن عزیز میں اعلانیہ اور غیراعلانیہ طورپرمیڈیا کئی پابندیوں کی زد میں رہتا ہے اور مالی مشکلات اس کے سوا ہیں اور معاشی تنگدستی ایسا عمل ہے جو ناصرف انسانی اعضا ان کی قوت استعداد، فکری سوتوں اورتخلیقی عمل کو بری طرح متاثر کرتا ہے بلکہ زہر قاتل ہے۔ کہنے کو تو میڈیا کی متعددتنظیمیں  ملک میں موجود ہیں اور وقتا فوقتا اپنے جائز حقوق اور مطالبات کے لئے جدوجہد میں رہتی ہیں، مگر ان کی آواز کو صرف صدائے صحرا سے تشبیہہ دی جا سکتی ہے۔ ا س حوالے سے اگلے روز کوئٹہ میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی فیڈرل ایگزیکٹوکونسل کا اجلاس ہوا جس کی میزبانی کے فرائض بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے ادا کئے، جس میں پی ایف یو جے کے منتخب اراکین کے علاوہ ملک بھر سے جرنلسٹس کے صدور اورسیکرٹریز نے شرکت کی، صدارت پی ایف یو جے کے صدر شہزاد ذولفقارنے کی جس میں کہا گیا کہ حکومت میڈیا دشمن پالیسی سے اجتناب کرے اوراپنی اپنی پارٹی کے منشور کے مطابق میڈیا کی آزادی کی ٹھوس ضمانت فراہم کرے۔ اجلاس میں تحریک انصاف کی حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ وہ میڈیا کو اپنے خطوط پر چلنے کے لئے مجبور کررہی ہے، جو صریحاً نا انصافی ہے۔ اجلاس میں بھی کہا گیا کہ حکومت نے اخبارات کے واجبات کی ادائیگی روک دی،جس کے پیش نظر اخبارات کو مالی پریشانیاں لاحق ہوئیں تو انہوں نے ملازمین میں تخفیف کر دی،کئی ایڈیشن بند ہو گئے،جس کا شکار عامل صحافی بنے جو تاحال مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر اخبارات کے واجبات جو 6ارب روپے ادا کرے، تاکہ اخبارات اپنے کارکنوں کے واجبات ادا کر سکیں اور عامل صحافیوں کو مالی مشکلات سے چھٹکارا حاصل ہو۔

پاکستانی آئین کی شق 19صحافیوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے، مگر اس کی خلاف ورزی حکومت کا معمول بن گئی ہے۔ مذکورہ اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ میڈیا انڈسٹری کے نمائندوں پی ایف یو جے، سی پی این ای، اے پی این ایس، پی پی اے، سول سوسائٹی جس میں ایچ آر سی بی اور بی بی سی کے ساتھ بیٹھ کر با ہمی افہام وتفہیم کے ذریعے میڈیا کودرپیش مسائل پر بات کرے اور ان کے حل کے لئے عملی اقدامات کرے اور پیمراکی طرف سے جاری کردہ ایڈوائس  فوری طورپرواپس لے۔

اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ آئے دن صحافیوں پرتشدد، دھمکیوں اوریہاں تک کہ ان کے قتل کے واقعات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں۔ ان واقعات میں ملوث بااثر شخصیات یاتو گمنام رہتی ہیں یا پھر اپنے اثر رسوخ کی بناء پر بری ہوجاتی ہیں۔ حکومت کوصحافیوں کے تحفظ کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ اخبارات کے اربوں روپے کے واجبات بھی فورا ادا کرنے چاہئیں۔ اس سے عام صحافی متاثر ہورہے ہیں اورصحافت ایک ایسا پیشہ ہے کہ اس کو اختیار کرنے کے بعد صحافی دوسرا کام بھی نہیں کر سکتا۔ اسے صرف صحافت ہی آتی ہے اور صحافی وہ سفید پوش طبقہ ہے کہ وہ دوسرے کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بھی قاصر ہے کہ اس کی عزت نفس اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ آئے دن ایسے مناظر سامنے آتے ہیں، جس میں میڈیا سے متعلق لوگ اخبارت اور دیگرذرائع ابلاغ کے باہر مظاہرے کرتے ہیں، مگر مالکان بھی مجبور ہیں کہ ان کی بھاری رقوم حکومت کے ذمہ واجب الادا ہیں۔

جہاں حکومت نے  اگر کرونا وباء کے پیش نظرحکومت کے احساس پروگرام کے تحت 900ملین امریکی ڈالر مستحقین کوادا کرسکتی ہے تو اس میں کیا امر مانع ہے کہ وہ میڈیاکے واجبات ادا نہیں کر رہی جو احساس پروگرام کے تحت دی گئی رقم سے کہیں کم ہے جن لوگوں میں 900ملین ڈالرتقسیم کئے گئے ان کی مخیر حضرات نے بھی اپنی اپنی حیثیت میں مالی اعانت کی مگر صحافی ایک قابل احترام حیثیت کے حامل ہیں ان کے لئے ایک بڑی بھاری مشکل ہے کہ وہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ حکومت کے اس عمل سے ورکنگ جرنلسٹ مجبوراًتقاضائے غم روزگار کے کٹھن مراحل کے پیش نظر اس راہ پرنہ چل نکلیں جو قانون کی نگاہ میں ناپسندیدہ ہوتی ہے اور حکومت میڈیا کارکنوں اور میڈیا ہاؤسزکو تحفظ بھی فراہم کرے تاکہ وہ بااثر شخصیات کے ظلم وستم سے محفوظ رہ سکیں۔ حکومت کی میڈیا کے واجبات کی ادائیگی میں تاخیر جو معنی خیز ہے اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ ملک کے معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان جو ایک قومی روزنامہ میں باقاعدگی سے کالم تحریر کرتے ہیں۔ پچھلے دو سال سے ان کو معاوضہ کی رقم انہیں ادا نہیں کی گئی،جو قابل ِ صد افسوس ہے اور ہمارے قومی ہیرو کے ساتھ یہ رویہ کچھ مناسب نہیں دکھائی دیتا۔

مزید :

رائے -کالم -