غیر محفوظ شاہراہیں 

 غیر محفوظ شاہراہیں 
 غیر محفوظ شاہراہیں 

  

شیر شاہ سوری نے اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں بنگلہ دیش سے افغانستان تک   جی ٹی روڈ کی تعمیر نو کروائی۔تاریخ فرشتہ میں  محمد قاسم فرشتہ لکھتے  ہیں کہ "اس پختہ سڑک کے ہر کوس  پر ایک سرائے،ایک کنواں اور ایک پختہ مسجد تعمیر کی گئی۔مسجدوں میں امام،قاری اور موذن مقرر کئے گئے اور ان کو وظیفہ سرکاری خزانے سے ملتا تھا۔ہر سرائے کے دو  دروازے تھے ایک دروازے پر پکا ہوا کھاناو جنس اور غلہ وغیرہ مسلمانوں کو اور دوسرے پر اسی طرح ہندوؤں کو تقسیم کیا جاتا تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔اس طرح ہر سرائے میں ڈاک چوکی کے دو گھوڑے موجود رہتے۔اس حسن انتظام کی وجہ سے سندھ اور بنگالے کی خبریں روزانہ بادشاہ کو ملتی رہتی تھیں۔سڑک کے دونوں طرف کھرنی، جاموں اور دوسرے میوہ جات کے درخت لگائے گئے۔تاکہ رعایا ان کے سائے میں آرام کے ساتھ سفر طے کر ے۔شیر شاہ کا عہد اتنا پر امن تھا کہ مسافر جنگل میں بھی بے کھٹکے اپنا سامان سرہانے رکھ کر  آرام اور اطمینان سے سوتے تھے بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ اگر ایک بڑھیا بھی روپے اور اشرفیوں کا گھڑا اپنے پاس رکھ کر سوتی تو اسے پاسبان کی ضرورت محسوس نہ ہوتی تھی"۔کوس اس قدیم دور میں لمبائی کا ایک پیمانہ تھا جیسا کہ آج کلومیٹر یا میل ہے۔ ایک کوس3کلومیٹر کے لگ بھگ ہوتا تھا۔چنانچہ شیر شاہ سوری اور مغل بادشاہوں نے ہر کوس پر چھوٹے چھوٹے مینار تعمیر کروائے تھے، تاکہ لوگ ان میناروں کی گنتی کے تناسب سے فاصلے اور جگہوں کا تعین کر سکیں۔کچھ کوس مینار آج تک موجود ہیں۔تاجروں اور  مسافروں کے متعلق شاہی فرمان یہ تھے کہ ان کے ساتھ شاہی مہمانوں جیسا سلوک کیا جائے۔

معاشرے میں انسداد جرائم کے لئے شیر شاہ سوری نے  جو قوانین بنائے، ان میں سے ایک قانون جو بڑا مؤثر ثابت ہوا،یہ تھا کہ مجرموں  مثلاً قاتلوں،رہزنوں،ڈاکوؤں اور چوروں وغیرہ کو گرفتا ر کرنا ان سے مسروقہ مال برآمد کرنا، گاؤں یا علاقے کے حکام اور زمینداروں کی ذمہ داری تھی۔یہ قرون وسطی کا دور تھا۔اس وقت نہ فون ہوتے تھے  نہ موبائل،سی سی ٹی وی اور انٹرنیٹ ناپید تھا۔غالباً 1997 کی بات راقم حیدر آباد  سندھ میں تعینات تھاجب ہمارے ایک افسر نے موٹروے پر سفر کیا اور آکر اس کی سہولیات کے بارے میں بتایا کہ موٹروے پر  بہترین  ریسٹورینٹ، پیٹرول پمپ اور سروس ایریا موجود ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سڑک کے دونوں اطراف  جنگلہ لگا ہوا ہے تاکہ کوئی جانور وغیرہ اچانک سڑک پر نمودار نہ ہو جائے۔ہمیں بھی موٹروے پر سفر کرنے کا شوق ہوا اور پہلی فرصت میں اس سفر سے لطف انداز ہوئے۔ پہلے ادوار میں دوران سفر سڑکوں پر کھانا مفت ملتا تھا لیکن ہماری سڑکوں پر عام شہروں کی نسبت کھانا مہنگا ملتا ہے۔پہلے مسافر  حکومت کے مہمان ہوتے تھے۔آج کل بر لب سڑک مسافر بھیڑیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔دعوے آسمانوں کو چھو رہے ہیں  اور عمل  کہیں نظر نہیں آ رہا۔کئی ہفتے گزر گئے پاکستان کے دل شہر لاہور کے قریب بنت ہوا کی عزت خاک میں ملا دی گئی اور  مرکزی ملزم تا دم تحریر فرار ہے۔صرف یہی ایک واقعہ نہیں ہماری شاہراؤں پر مسافروں کو شناخت کرکے اتارا جاتا ہے اور قطاروں میں کھڑا کر کے گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

کبھی پیٹرول کا ٹینکر لیک کرتا ہے تو قریبی گاؤں کے لوگ کین اور بالٹیاں لے کر پیٹرول بھرنے آ جاتے ہیں۔پھر کسی انجانے کی غلطی سے وہاں آگ بھڑک اٹھتی ہے اور چشم زدن میں تمام لوگ قصہ پارینہ ہو جاتے ہیں۔کبھی سکول کے بچوں کی ویگن میں سلنڈر پھٹنے سے آگ لگ جاتی ہے  اور کہیں ٹائر کے پھٹنے سے بس گہری کھائی میں گر جاتی ہے۔کبھی صبح کے وقت اٹھکیلیاں  کرتے معصوم بچوں کی وین کھلے پھاٹک کی وجہ سے تیز ی سے آنے والی ٹرین کا نشانہ بن جاتی ہے۔کبھی بارش میں پھسلن کی وجہ سے حادثہ ہو جاتا ہے تو کبھی لینڈ سلائیڈنگ  کی زد میں بس آ جاتی ہے۔دھند کے دنوں میں اکثر کئی کئی گاڑیاں آپس میں ٹکرا جاتی ہیں  تو کبھی تیز رفتاری جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔اور یہ بھی ہوتا  آیا ہے کہ پولیس کی وردی پہنے ڈاکو مسافربسوں کو سڑک سے ویرانے میں لے جاتے ہیں اور تسلی سے لوٹ کر آسانی سے فرار ہو جاتے ہیں۔ محکمے دیکھیں تو بیشمار،ذمہ داری کی بات آئے تو کہتے ہیں یہ علاقہ ہمارے   دائرہ کار   ( Jurisdiction) میں نہیں۔عام مسافر بے یارومدد گار سڑک پر پریشان کھڑا ہے اور ہمارا اہلکار جواب دیتا ہے کہ یہ علاقہ اس کی ذمہ داری میں نہیں آتا۔خدا کی پناہ۔پیسے بٹورنے کے لئے ٹول پلازے بنا دیے گئے لیکن تحفظ فراہم کرنے کے لئے  متعلقہ پولیس کو علاقہ تقسیم نہیں کیا گیا۔

متعلقہ محکموں،حکام اور اہلکاروں کو اپنے پروسیجر درست کرنے  کی ضرورت ہے۔اداروں کے باہمی رابطے کی ضرورت ہے۔ایمرجنسی کی صورت میں معاملات ہینڈل کرنے کی صلاحیت ہونی چاہئے۔بنت ہوا سڑک پر مدد کے لئے پکارتی ہے لیکن سننے والا مدد کی بجائے فون کا سہارا لیتا ہے۔ذمہ دار افسران متاثرہ خاندان کی خامیاں بیان کرتے ہیں  اور دوسری سڑک استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔موٹر وے ریپ کیس جیسے  واقعات امن و امان کے حوالے سے بڑا تاریک منظر نامہ پیش کرتے ہیں۔ ماضی میں ایسے واقعات پر قابو پا لیا گیا تھا‘ شاہراہیں محفوظ شمار ہونے لگی تھیں اور لوگ دن رات بلا خوف و خطر سفر کرنے کا حوصلہ رکھتے تھے؛ تاہم حالیہ دنوں کی مجرمانہ وارداتوں نے امن و امان کے حوالے سے عوامی اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔ مجبوری کے عالم میں لوگ سفر تو کرتے رہیں گے‘ مگر اعتماد اور حوصلہ قائم ہونے میں کئی سال لگ جائیں گے۔بات شیر شاہ سوری سے شروع ہوئی تو ہماری پاکستان کے موجودہ حکمرانوں کے درخواست ہے کہ آپ  سرائے،کوس مینار اور روہتاس جیسے قلعے تو نہ بنائیں کم از کم ہماری سڑکوں پر سفر تو محفوظ بنا دیں۔ 

مزید :

رائے -کالم -