…………وہ ہو گا؟

…………وہ ہو گا؟
…………وہ ہو گا؟

  

ہم نے دیکھا،کورونا کے اس معمولی وائرس یا بیکٹیریا نے ترقی یافتہ دُنیا کا غرور توڑ کو رکھ دیا ہے، اور مشرق و مغرب میں مکمل تبدیلی کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔کورونا درحقیقت جنگ کے بغیر جنگ ہے، باقاعدہ تیسری عالمی جنگ!یہ جنگ فطرت کے لافانی قوانین کے تحت معرضِ وجود میں آئی ہے۔ خدا جانے بصورت وبا یہ غیر اعلانیہ جنگ کب تک جاری رہے گی؟مستقبل قریب میں لیکن اس کے اثرات و ثمرات الحفیظ الاماں!…… بیس سال سے زائد کا عرصہ ہوتا ہے۔ایک منفرد اور بابصیرت نوجوان معلم، جو وجدان کی دولت سے بھی مالا مال تھا،نے لیکچر کے دوران اپنے طلباء سے کہا تھا کہ اگلے چند برسوں میں دُنیا کچھ سے کچھ  ہو جائے گی۔شاید سب کچھ اتھل پتھل کر دینے والی اچانک کوئی بیماری سر اٹھائے گی،اور کل وہ ہو جانے والا ہے،جس کے بارے میں آج کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔چہار سو خوف اور مرگِ ناگہانی کا رقص ہو گا۔ کلاس روم میں دفعتاً ایک قہقہہ جاگا: ”سر! آپ جاگتے میں کوئی خواب دیکھ رہے ہیں،یا خواب میں کوئی خیال“؟ نہیں،اُستاد نے دھیمی آواز میں جواب دیا:”یہ خواب و خیال کا قصہ ہے، نہ کسی دعوے کا ایک حصہ! تاریخ عالم میں ایسا ہوتا آیا ہے اور گردشِ لیل ونہار میں پھر کچھ ایسا ہی ہوتا دکھائی دیتا ہے“۔

یہ 1999ء کے آغاز کی بات ہے، جب ایک لیکچرر نے اپنے منفرد اسلوب تدریس میں بظاہر یہ انہونی بات پورے تیقن سے کہی تھی،جو مجھے اب یاد آئی،بلکہ یاد دلائی گئی!……مَیں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ اس روایت ساز استاد کو روحانیت یا غیب بینی کا دعویٰ نہیں تھا، ہاں،مگر تجزیاتی حدود میں وجدانی سرگزشت! لمحوں میں صدیوں کا سفر!! کورونا کا تسلط ہوا اور ان کی پیش گوئی کا سایہ ابھرا تو ہفتہ رفتہ مَیں ان سے پھر ملا اور پوچھا کہ آپ کی وہ بات تو سچ ثابت ہوئی۔ کاش غلط ٹھہرتی۔ کہا:قدرت نے بظاہر کچھ بھی نہیں کیا اور بباطن سب کچھ کر دیا۔ عذاب کے بغیر عذاب!…… اس کے بعد وقت کی نبض پر ہاتھ رکھ کر ایک عجیب و غریب اور ناقابل ِ یقین بات کہہ ڈالی: ”کورونا تو عرصہئ مختصر میں ایک ذرا سا امتحان ہے، جو امکانی طور پر2021ء کے آخر تک رفع ہوا چاہتا ہے،لیکن مستقبل قریب کی چادر میں ایک اور عذاب چھپا بیٹھا ہے۔

مَیں نے معلوم تاریخ میں جھانکا تو کھلا کہ اولادِ آدم کے لئے اجتماعی امتحان یا عذاب کا کوئی اٹل ثبوت نہیں ملتا۔وقتاً فوقتاً مختلف تہذیبوں، قوموں اور ممالک کو دست ِ تقدیر نے ضرور دبوچا، لیکن بیک وقت پوری دُنیا کو لپیٹ میں شاید ہی کبھی لیا گیا ہو، جبکہ حال ہی میں کورونا نے ایک ساتھ مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں اپنے خونیں پنجے گاڑ دیئے ہیں۔کون ہے جومرگِ ناگہانی کے خوف میں مبتلا نہیں ہوا۔پہلے کوئی وبا پھوٹتی تو اس کے اثرات مقامی نوعیت تک محدود ہوتے تھے، مگر جدید دُنیا ایک گلوبل ولیج کی صورت اختیار کر گئی ہوئی ہے، لہٰذا کریہہ الصورت مرض نے بھی یہاں وہاں ہر جگہ وحشت و دہشت پھیلا کے رکھ دی!

وہ کہہ رہے تھے…… یہ دُنیا اتھل پتھل ہونے جا رہی ہے، چاہے نہ چاہے انسان کی اُلٹی زقند لگ چکی۔ معکوس سفر کا آغاز بڑا ہی عبرتناک ہے۔ خدا جانے موجودہ نسل ِ انسانی اس کی ابتدا یا انتہا دیکھ پائے گی کہ نہیں۔ ہونا البتہ یہی ہے،ابتدا سے ہی ایسے ہوتا چلا آیا ہے اور آئندہ بھی ہو کر رہے گا،جو جتنا بڑا طاقتور ہے، وہ جلد اتنا ہی زیادہ کمزور ہو گا۔ مطلب؟ جو ہے، وہ نہیں ہوگا اور جو نہیں ہے، وہ ہو گا۔ نئی سرحدیں، نئے ممالک، طاقت کا نیا محور! پرانی دُنیا ڈوب اور نئی ابھر رہی ہے۔جلد بہت جلد ایک بالکل نیا منظر طلوع ہو گا۔ صدیوں میں نہیں، صرف اگلے چند برسوں میں ……یہ دُنیا2050ء تک جانے کیا سے کیا ہو جائے گی۔ایک اندازہ، گوشوارہ یا تخمینہ! امکانات و ممکنات کا  بر بنائے وجدان خلاصہ!! کل فی الواقع وہی ہو گا، جو کارخانہئ کائنات کو چلانے والے کی رضا و منشاء ہے۔ چشم بصیرت و دیدہئ فراست کو جانے کیا کیا دکھائی دے جاتا ہے؟ایک بھرپور سکوت کے سوا آخر چارہ ہی کیا ہے؟ حیرانی ہی حیرانی!

مزید :

رائے -کالم -