وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا 

وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا 
وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا 

  

 وفاقی حکومت نے 94جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں 9تا 262 فیصد تک اضافہ کی باقاعدہ منظوری دے دی،جس میں بخار، سردرد، امراض قلب، ملیریا، شوگر، سے لے کر زچگی کے بعد استعمال ہونے والی ادویات شامل ہیں۔ یہی نہیں گھی اور کوکنگ آئل سمیت متعدد اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکاہے۔ کوکنگ آئل 17 روپے فی لیٹر،  برانڈ گھی 4 روپے فی کلو۔برانڈ کے دودھ کے لیٹر کا پیک 5،جبکہ دودھ کے لیٹر کا پیک 147 سے بڑھا کر 152 روپے اور بچوں کے لئے سیریلز کی قیمت میں 20 سے 38 روپے تک اضافہ کردیا گیا ہے۔ دودھ، ٹی وائٹنر،برانڈ شیمپو کی قیمت میں 9 روپے سے 20 روپے تک اضافہ کیاگیا ہے کپڑے دھونے کے ڈٹرجنٹ کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے اور یہ اضافہ پہلی بار نہیں ہوا،بجلی بھی مہنگی کر دی گئی ہے، بات یہیں ختم نہیں ہوتی کراچی اور لاہور سیالکوٹ موٹروے پر ہونے والے سانحات کے بعد ایسے واقعات میں اور بھی اضافہ ہو چکا ہے تو جناب عمران خان صاحب آپ جیسے پختہ عزم وزیراعظم سے اگر ملکی مسائل حل نہیں ہورہے جرائم پر قابو نہیں پایا جا رہا اور مہنگائی کا جن بوتل میں بند نہیں ہو پا رہا تو عالیجاہ   ؎   

 وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا 

وزیراعظم صاحب آپ کی بائیس چوبیس سالہ جدو جہد کے نتیجے کی یہ ابتداء ہے تو انتہاء کیا ہو گی؟

قارئین کرام!کالم نویسوں کے ایک واٹس ایپ گروپ سے یہ تحریر ملی ہے کہ جناب وزیر اعظم جب آپکا یہ جملہ، آپ لوگوں نے بالکل گھبرانا نہیں ' سنتا ہوں تو مجھے کسی کتاب سے پڑھا ایک پرانا واقعہ یاد آ جاتا ہے۔ایک مرتبہ کابل کے شاہی دربار میں کسی نے بادشاہ سے درخواست کی کہ اسے ایسی توپ بنانے کی اجازت دی جائے جس کا گولہ سیدھا  ہندوستان جا کر پورے دہلی شہر اور مضافات  کو تباہ کردے۔بادشاہ سلامت نے خوشی سے اجازت کے ساتھ خرچہ بھی دے دیا۔اس بندے نے بڑی محنت سے توپ تیار کرلی تو بادشاہ سلامت سے درخواست کی کہ اب اسے دہلی پر داغنا چاہیے، بادشاہ اور وزراء سمیت بہت سے لوگ جمع ہو گئے بلاسٹ ہوا تو وہ توپ خود ہی اڑ گئی ہر طرف دھول مٹی اڑنے لگی تباہی سے چیخیں سنائی دینے لگی۔ بادشاہ نے گھبراہٹ کے عالم میں توپچی سے پوچھا کہ یہ کیا ہوا؟ توپچی نے فخریہ انداز میں سینہ تان کر کہا جہاں پناہ! آپ نے بالکل گھبرانا نہیں جب یہاں پر اتنی تباہی ہوئی ہے تو دہلی کا کیا حال ہوا ہوگا؟ پھر سوشل میڈیا پر گردش کرتا یہ لطیفہ بھی مجھ تک آ پہنچا ہے، جس میں چوہدری صاحب کسی تقریب میں اپنے ساتھ مراثی ’گامے‘ کو بھی لے جاتے ہیں چوہدری صاحب میزبانی کے فرائض ادا کرتے ہوئے گامے سے کھانے کی تقسیم کا کہتے ہیں پہلی دیگ کھلتے ہی جب چھوٹے گوشت کی خوشبو پھیلتی ہے تو گاما کھانا لینے والوں کی قطار میں جا کھڑا ہوتا ہے چوہدری صاحب گامے سے کہتے ہیں ’گامیاایدھر آجا توں میرے ذہن اچ ای آں‘’گامے ادھر آ جاؤ تم میرے ذہن میں ہی ہو‘ پھر دوسری دیگ کھلتی ہے گاما پھر قطار میں کھڑا ہوجاتا ہے چوہدری صاحب پھر کہتے ہیں ’گامیاایدھر آجا توں میرے ذہن اچ ای آں‘ دیگیں کھلتی اور ختم ہوتی جاتی ہیں جب آخری دیگ رہ گئی اور گوشت ختم ہوتا دیکھا تو گا ما پھر جا قطار میں کھڑا ہو ا اور چوہدری صاحب پھر گویا ہوئے‘ ’گامیاایدھر آجا توں میرے ذہن اچ ای آں‘ ’گامے ادھر آجاؤ تم میرے ذہن میں ہی ہو‘ تو گاما ہاتھ باندھ کر چوہدری صاحب سے کہتا ہے ’موتیاں والیو تُسی دو منٹ واسطے مینوں اپنے ذہن وچوں کڈھ نئیں سکدے’‘ جناب آپ دو منٹ کے لئے مجھے ذہن سے نکال نہیں سکتے، اس لطیفے کی شان نزول کے پیچھے سوشل میڈیا پر جناب عمران خان کو بتایا گیا ہے جو عوام کو سہانے خواب دکھاتے انہیں مہنگائی کی بھٹی میں جھونک چکے ہیں جس میں جلتے عوام کی چیخ و پکار پر اب حکمران کان دھرنے کو تیار نہیں، لیکن سچ تو یہی ہے کہ عوام کا مہنگائی۔ بے روزگاری۔

لاقانونیت سے براحال ہے اور وزیر اعظم سمیت حکومت کی فوج ظفر موج کا ہدف صرف اپوزیشن ہے ملکی مسائل سے انہیں کچھ واسطہ نہیں۔ ملک اپنے دفاعی اعتبار سے تو ناقابل تسخیر ہے اللہ کی مدد شامل ہے نبی کریمﷺ کی رحمتوں کی گھنی چھاؤں ہے افواج پاکستان دشمن کے سامنے سینہ سپر ہے، لیکن ملک کے اندرونی حالات دگر گوں ہیں عوام کے گھر کا بجٹ تہہ و بالا ہو چکا،جس گھر کے ماہانہ اخراجات تیس ہزار تھے وہ اسی ہزار تک جا پہنچے اور چار پانچ سو روپے روزانہ کمانے والا بھلا کیسے گذارا کرسکتا ہے؟ ایسے میں قوم کو اپنا مستقبل مخدوش دکھائی دیتا ہے میں سوچتا ہوں سپریم کورٹ سے تو ازخود نوٹس لینے کا کہا ہی جاتا ہے کیوں نہ ان مشکل حالات میں آرمی چیف صاحب سے عرض کی جائے کہ اب وہ عوام پر مسلط کئے جاتے مہنگائی کے عذاب کا سوموٹو ایکشن لیں کیونکہ فوج سے زیادہ ملک وقوم کا بہی خواہ شائد ہی کوئی ہو! مجھے ایک واقعہ یاد آگیا بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف شہری روڈ بلاک کرکے احتجاج کررہے تھے ٹریفک جام اور واپڈا کے خلاف نعرے بازی ہورہی تھی ایسے میں فوج کی گاڑی آتی ہے جس میں فوجی جوان سوار ہوتے ہیں مظاہرین نے فور ی راستہ دیا اور واپڈا کے خلاف نعروں کی جگہ پاک فوج زندہ باد کے نعروں نے لے لی شہریوں نے پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگاتے فوجی گاڑی کو رخصت کیا جیسے ہی فوجی گاڑی جاتی ہے پھر سے واپڈا کے خلاف نعروں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -