شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد……!

شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد……!
شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد……!

  

نیب کی یہ کامیابیاں تو ہم نے پہلے بھی دیکھی ہیں کہ وہ بڑے نام والے سیاستدانوں کو گرفتار کر لیتا ہے۔ اس بار بھی نیب نے عدالت عالیہ سے شہباز شریف کی عبوری ضمانت خارج ہونے پر انہیں گرفتار کیا ہے۔ تقریباً چار ماہ تک نیب اور شہباز شریف میں آنکھ مچولی جاری رہی، عدالتِ عالیہ سے عبوری ضمانت خارج نہ ہو سکی۔ بالآخر 28 ستمبر 2020ء کو نیب کے حق میں فیصلہ آیا اور شہباز شریف اس کی حراست میں آ گئے۔ منی لانڈرنگ اور آمدنی سے زائد اثاثے بنانے کے اس کیس میں نیب کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس انتہائی مضبوط شواہد موجود ہیں،جبکہ اس نے ریفرنس بھی پیش کر دیا ہے۔

کیا اس بار نیب گرفتاری سے آگے بھی کوئی کامیابی حاصل کرے گا؟ یا پہلے کی طرح شہباز شریف پھر رہا ہو جائیں گے اور نیب کے سب دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے؟ نیب کی اس حوالے سے ناکامیاں اتنی زیادہ ہیں کہ اب ہر گرفتاری ایک مذاق لگتی ہے، اسی وجہ سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نیب انتقامی کارروائیاں کر رہا ہے اور اس کا مقصد حکومت کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبانا ہے۔ سعد رفیق، احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی کو بھی نیب نے بڑے بڑے دعوؤں کے ساتھ گرفتار کیا تھا، اس وقت بھی ثبوتوں کے انبار لگائے گئے تھے، مگر وہ سب عدالتوں سے ضمانتوں پر باہر آ گئے، ان کے خلاف ریفرنس تک پیش نہ کئے جا سکے۔ خود شہباز شریف کو بھی 22 کمپنیوں اور صاف پانی کیس میں گرفتار کیا گیا تھا تو اسی قسم کی باتیں کی گئی تھیں، لیکن آج ان کیسوں کا کہیں نام و نشان تک موجود نہیں، شاید اسی وجہ سے شہباز شریف نے کہا ہے کہ نیب چاہے اڑھائی سو سال تک ان کے خلاف ثبوت ڈھونڈنے پر لگی رہے، ایک پائی کی کرپشن ثابت نہیں کر سکے گی۔

نیب نے شہباز شریف اور 16 دیگر ملزموں کے خلاف 25 ہزار صفحات پر مشتمل ریفرنس دائر کیا ہے تو اب اسے مکمل یکسوئی کے ساتھ احتساب عدالت میں ثابت بھی کرے۔ کہانیاں تو پہلے بھی بہت سنی جا چکی ہیں، اب عملاً کوئی سزا بھی ہونی چاہئے تاکہ یہ تاثر دور ہو سکے کہ نیب صرف سیاسی انجینئرنگ کے لئے استعمال ہوتا ہے، احتساب کرنا اس کا کام ہی نہیں۔ دنیا بھر میں کہیں بھی کوئی ایسا ملزم نہیں پایا جاتا جو اپنے جرم کا صرف اس وجہ سے اقرار کر لے کہ اس پر الزام لگایا گیا ہے، جرم کو ثابت کرنا ہی اصل کامیابی ہے اور اس حوالے سے نیب کی تاریخ کچھ زیادہ اچھی نہیں، نیب میڈیا کے ذریعے شہباز شریف کے خلاف الزامات کی تفصیلات سامنے لا چکا ہے،کس طرح منی لانڈرنگ ہوئی اور کس طرح ٹی ٹی کے ذریعے اربوں روپے کو مختلف اکاؤنٹس میں منتقل کیا گیا؟ اس کے دعوے بھی ثبوتوں کے ساتھ کئے گئے، کئی ملازمین اور شہباز شریف کے فرنٹ مینوں کی نشاندہی کے علاوہ گرفتاریاں بھی کی گئی ہیں، اگر یہ سب کچھ واقعی موجود ہے تو نیب کو سب کام چھوڑ کر پہلے اس کیس کو انجام تک پہنچانا چاہئے۔ اگر اب بھی نیب ایسا نہیں کرتا اور اس کیس کو بھی تاخیری حربوں کا شکار کر دیتا ہے تو اس کا مطلب یہی لیا جائے گا کہ نیب کو حکومت کے خلاف آنے والے دنوں چلنے والی تحریک کو ناکام بنانے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔

شہباز شریف کی گرفتاری پر مسلم لیگ (ن) کا ردعمل فطری ہے، تاہم مریم نواز نے فوری پریس کانفرنس کر کے اس کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر شبلی فراز اور شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس کر کے اس کا جواب ضرور دیا ہے، تاہم ان کی اس بات میں کوئی وزن نہیں کہ بھتیجی نے چچا کی سیاست میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔ خود مریم نواز نے تسلیم کیا ہے کہ شہباز شریف مفاہمت کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں، تاہم آخری فیصلہ نواز شریف کا ہی مانا جاتا ہے۔ ویسے بھی اگر شہباز شریف اپنی مفاہمت کی سیاست کو نوازشریف کی جارحانہ سیاست سے برتر سمجھتے تو آج ان کی گرفتاری نہ ہوتی۔ وہ مفاہمت کر کے اس سارے احتسابی عمل سے بآسانی بچ سکتے تھے، کیونکہ ایسی کئی مثالیں ہمارے ہاں موجود ہیں۔ شہباز شریف بھی یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ نوازشریف کی مسلم لیگ (ن) پر مکمل گرفت ہے،جو لوگ نوازشریف کو چھوڑ کر گئے ہیں، انہیں سیاست میں کوئی خاص پذیرائی نہیں ملی۔ خود چودھری نثار علی خان اس کی اہم مثال ہیں،جنہوں نے نوازشریف کی جارحانہ سیاست سے اختلاف کیا تو سیاست سے ہی آؤٹ ہو گئے۔ شہباز شریف کی گرفتاری سے الٹا یہ تاثر گہرا ہوا ہے کہ وہ اپنے بڑے بھائی کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے خلاف استعمال ہونے کو تیار نہیں۔ 

مریم نواز نے ش اور ن کے علیحدہ ہونے کو بھی صاف لفظوں میں مسترد کیا اور کہا ایسا سوچنے والوں کو منہ کی کھانا پڑے گی۔ انہوں نے یکطرفہ احتساب کی مثال دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ شہباز شریف کو تو ناجائز اثاثوں کے الزام میں گرفتار کر لیا جاتا ہے، لیکن جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو،جو ایک تنخواہ دار ملازم ہیں، اربوں روپے کے اثاثوں کی تفصیل سامنے آنے کے باوجود گرفتار کرنا تو کجا، تحقیقات کے لئے طلبی کا نوٹس تک نہیں دیا جاتا۔ نیب پر ایسے الزامات تو لگتے رہیں گے تاوقتیکہ وہ عدالت میں اپنے مقدمات کو ثابت نہ کر دے، وگرنہ تو یہی سمجھا جائے گا کہ نیب بوقتِ ضرورت گرفتاریوں کے لئے بطور آلہ کار استعمال ہوتا ہے، بعد ازاں ملزم عدم ثبوت کی بنا پر رہا ہو جاتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شہباز شریف کی گرفتاری سے ملک کے سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہو گیا ہے، اگر اب مسلم لیگ (ن) کی عبوری صدارت مریم نواز کو مل جاتی ہے تو اس درجہ حرارت کی حدت بہت بڑھ جائے گی، کیونکہ انہوں نے نوازشریف کا بیانیہ لے کر آگے چلنا ہے اور اس بیانیہ کے بارے میں وہ خود کہہ چکی ہیں کہ اس کا بوجھ صرف نوازشریف اور مریم ہی اٹھا سکتے ہیں، اصولی طور پر تو احتساب اور سیاست کو علیحدہ علیحدہ رکھنا چاہئے، مگر احتساب کا عمل ابھی تک اپنی شفافیت نہیں منوا سکا، اس لئے انگلیاں اٹھتی رہتی ہیں،اس بار بھی اگر شہباز شریف کی گرفتاری وقتی ثابت ہوئی اور نیب ان کے مقدمے کو عدالت میں ثابت نہ کر سکا تو نیب کی رہی سہی ساکھ بھی قصہئ پارینہ بن جائے گی۔

مزید :

رائے -کالم -