سو سال پہلے مجھے تم سے پیار تھا……

سو سال پہلے مجھے تم سے پیار تھا……
سو سال پہلے مجھے تم سے پیار تھا……

  

جناب عبداللہ عبداللہ افغانستان سے ایک ’امن مشن‘ کے سربراہ کے طور پر پرسوں کابل سے اسلام آباد پہنچے۔ ان کا تین روزہ دورہ آج ختم ہو رہا ہے اور آج وہ واپس چلے جائیں گے۔ امریکہ میں نومبر میں صدارتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور امریکہ افغانستان میں 20برسوں سے برسر جنگ اپنے فوجیوں کو واپس لے جانے کا تہیہ کئے ہوئے ہے۔ جب یہ امریکی ٹروپس افغانستان سے نکل جائیں گے تو جو کچھ ’باقی‘ بچے گا وہ افغانستان کے افغان ہوں گے۔ قارئین دوحہ (قطر) میں ہونے والے سہ فریقی مذاکرات کی تفصیل سے کافی حد تک باخبر ہیں۔ مجھے اس پر مزید کہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جس وقت یہ سطور لکھی جا رہی ہیں (منگل وار 29ستمبر) جناب عبداللہ عبداللہ اور ان کا امن مشن (ہائی پیس کونسل) وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتیں کررہا ہے۔ آف کورس، وزیر خارجہ ان سے پہلے ملاقات کر چکے ہیں اور ماحول بڑا خوشگوار بتایا جاتا ہے۔ افغانستان کے CEO کا یہ دورہ اس لئے بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ ان کا پہلا دورہ ہے۔ ان کے ماضی اور ان کی ’پاکستان دوستی‘ سے کون واقف نہیں لیکن یہ وقت رنج و الم کی پرانی داستانوں کو دہرانے کا نہیں بلکہ بقولِ غالب: ”یہ وقت ہے شگفتنِ گل ہائے راز کا……

افغانستان کو امن و سکون فراہم کرنے میں پاکستان نے جو طویل رول ادا کیا ہے اس کا اعتراف عبداللہ عبداللہ اور ان کے مشن نے برملا کیا ہے اور شاہ محمود قریشی نے بھی کہا ہے کہ ان کی یہ ملاقات دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات کا ایک نیا باب وا کرے گی۔ افغانستان کا اصل جھگڑا تو ’بین الافغان‘ جھگڑا ہے۔حکومتی اہلکاروں اور طالبان کے درمیان مل بیٹھنے کے جو مواقع پاکستان کے توسط سے حاصل ہوئے ہیں ان کا ذکر افغان حکومت تو کر رہی ہے لیکن افغانستان میں مقیم انڈین لابی کے سینے پر سانپ لوٹ رہے ہیں!…… جنوبی وزیرستان میں شکئی کے علاقے میں اتوار اور سوموار کی درمیانی شب پاکستان کی ایک گشتی پارٹی پر تخریب کاروں نے جو حملہ کیا اور جس میں لاچی ایریا(کوہاٹ) سے تعلق رکھنے والے پاک آرمی کے ایک نوجوان آفیسر کیپٹن عبداللہ ظفر شہید ہوگئے، اس شبخون کی پلاننگ کس نے کی اور وہ کون سے غیر ملکی عناصر ہیں جو افغانوں کو پاکستان کے خلاف ورغلا کر یہ حملے کروا رہے ہیں، یہ کوئی پوشیدہ راز نہیں۔

پاکستان ایک طویل عرصے سے اس کوشش میں ہے کہ افغانستان میں امن کی فضا بحال ہو تاکہ ان عناصر کی بھی بیخ کنی کی جا سکے جو ہماری مغربی سرحد پر ہماری سیکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردوں کو اکساتے، ان کو اسلحہ بارود فراہم کرتے، ان کی ٹریننگ کا اہتمام کرتے اور پاکستان دشمنی کی ان مہمات  کاخرچہ برداشت کرتے ہیں۔ آئے روز اگر پاک آرمی کے آفیسرز اور جوان شہید ہو رہے ہیں تو اس اٹریشن (Attrition)کا براہِ راست انتظام و اہتمام افغان طالبان نہیں کر رہے بلکہ وہ ان عناصر کے آلہ ء کار بن کر یہ کام کرتے ہیں جن کی پاکستان دشمنی بین الاقوامی اور ظاہر و باہر ہے۔…… جناب عبداللہ عبداللہ کی پاکستان میں موجودگی کے ایام میں پاک فوج کے کپتان کی یہ شہادت افغان امن مشن کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں ہو گی۔ آنے والے ایام میں پاکستان کا رول بین الافغان مذاکرات میں اس حادثے کے تناظر میں اور بھی اہم ہو گا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان کی مغربی سرحد، اس کی مشرقی سرحد سے زیادہ ”گرم“ ہے۔

مشرقی سرحد پر تو ہم نے غیر ملکوں کے سفارتی نمائندوں اور دفاعی اتاشیوں کا دورہ کر وایا اور ان کو بتایا ہے کہ بھارت LOC کے اس پار سے پاکستان کے خلاف کیا کیا کارروائیاں کر رہا ہے لیکن ایسا کوئی اقدام ہم نے مغربی سرحد پر نہیں کیا۔ مغربی سرحد پر شمال میں چترال سے لے کر جنوب میں گوادر تک آئیں تو یہ طول طویل سرحد، لائن آف کنٹرول سے بھی زیادہ پُرخار اور خطرناک ہے اور افغانستان سے پاک افغان پورس بارڈر کراس کرکے جو لوگ ہمارے شہری علاقوں میں تخریبی کارروائیاں کر رہے ہیں ان میں پاکستان کی سویلین آبادیوں اور سیکیورٹی فورسز کا جانی نقصان مشرقی سرحد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اپنی ہی مشرقی اور مغربی سرحدوں کے درمیان سینڈوچ ہو کر رہ گیا ہے۔ 

ہم نے اپنی مغربی سرحد پر چترال سے گوادر تک جنگلہ بندی شروع کی ہوئی ہے، بہت سے پورس مقاماتِ عبور کو ختم کر دیا ہے اور کئی ’جائز باڑہ مارکیٹیں‘ کھول دی ہیں تاکہ عشروں (بلکہ صدیوں) سے اس سرحد کے ذریعے جو سمگلنگ ہو رہی تھی اس کو روک دیں۔ لیکن ہمیں احساس ہونا چاہیے کہ 1947ء سے لے کر آج تک جو چار پاکستانی اور افغان نسلیں اس سرحد کی سمگلنگ سے فیض یاب ہوتی رہی ہیں اور جن کا ذریعہ ء معاش ہی یہی سمگلنگ تھا ان کو کسی اور کاروبار کا عادی بنانا کتنا مشکل ہوگا……

میں نے اپنی فوجی سروس کے کئی برس ان علاقوں میں گزارے ہیں۔ سوات، مالاکنڈ، درگئی، مردان، رشکئی، نوشہرہ، پشاور،  خوجک پاس، چمن، ژوب، کوئٹہ، نوشکی، تفتان، خضدار، آواران، تربیت اور گوادر میں آمد و رفت کے ’وسیع مواقع‘ ملے۔ نہ صرف افغان۔ پاکستان سرحد بلکہ ایران۔ پاکستان سرحد پر آنا جانا اور وہاں کی آبادیوں سے ہمکلام ہونا میرے لئے یوں بھی آسان تھا کہ میں ان کی زبانیں (دری، فارسی، پشتو) بڑی روانی سے بول اور سمجھ سکتا تھا۔ میرے رشتہ دار اور دوست اپنی بیٹیوں کی شادیوں پر جہیز دینے کے لئے مجھ سے فرمائشیں کیا کرتے تھے کہ چونکہ آپ ان ’سمگلنگ زدہ‘ علاقوں میں سروس کرتے ہیں اور وردی پوش بھی ہیں اس لئے غیرملکی کراکری، کٹلری، الیکٹرانکس کا سامان اور پارچہ جات منگوانے کے لئے فرمائشوں کا میلہ لگا رہتا تھا۔ ان علاقوں میں سروس کے دوران میں نے ہزاروں لاکھوں کا سامان ’سمگل‘ کرکے اپنے محلے داروں اور رشتہ داروں کی بہو بیٹیوں اور بہنوں کے جہیز کے لئے یہ ’کارِ نیک‘ انجام دیا۔ا ور مجھ پر ہی کیا منحصر ان علاقوں میں آج بھی جو آرمی آفیسرز ملازمت کرتے ہیں ان سے پوچھ کر دیکھ لیں۔ ویسے تو آج پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں باڑہ مارکیٹیں کھل گئی ہیں اور حیات آبادوں کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہی لیکن آج بھی سرحدی باڑوں کی خریداری، شہری باڑوں کی نسبت زیادہ دامنِ نگاہ کھینچتی ہے۔ ہم نے اس غیر ارادی سمگلنگ کی وجہ سے اپنی ملکی اور مقامی صنعتوں کو جو نقصان پہنچایا وہ ایک الگ باب ہے اور اس کا ذکر ایک ضخیم کتاب کا موضوع ہے لیکن میں تو آپ کو اس ’ثواب‘ کا حال بتا رہا ہوں جو بہو بیٹیوں کے جہیزوں کے نام پر کمایا گیا…… پیر وارث شاہ یادآ رہے ہیں:

کئی ہیر دی کرے تعریف شاعر متھے چمکدا حسن مہتاب دا جی

چلو لیلۃ القدر دی کرو زیارت، وارث شاہ ایہہ کم ثواب دا جی

انگریز بادشاہ نے ان علاقوں پر سو سال تک (1846ء تا 1947ء) حکومت کی۔ پاکستان کی مغربی سرحد، بالخصوص سابق فاٹا (FATA) پر برٹش انڈین آرمی کی لڑائیاں نہائت شدید اور سبق آموز ہیں۔آخر میں تھک ہار کر انہوں نے یہ لڑائیاں بند کر دیں۔ نجانے اپنے کتنے سفید فام سورما اور کتنے خاکی غلام سولجرز ہلاک کروا کر ان کو معلوم ہوا کہ یہ خطہ دنیا بھر میں نرالا ہے اور کسی کی غلامی قبول نہیں کرتا!

پہلی بار جب 1968ء میں میری پوسٹنگ، پنجاب رجمنٹ ٹریننگ سنٹر، مردان میں ہوئی تو اس کے آفیسرز میس کی لائبریری میں برطانوی افسروں کی تصنیف کردہ درجنوں تواریخ کو کھنگالنے کا موقع ملا۔ میں، ان ایام میں دفتر سے دوپہر کو میس (Mess) میں جاتا، دوپہر کا کھانا کھاتا، ایک گھنٹہ گھر آکر آرام کرتا، چار بجے سپورٹس کی لازمی ڈرل سے فارغ ہوتا، پھر گھر جاتا، غسل کرتا اور میس کی لائبریری کا رخ کرتا اور رات گئے تک ان سرحدی مہمات کی داستانیں پڑھتا رہتا جو امیر حمزہ کی داستانوں سے زیادہ حقیقی، دلچسپ اور معلوماتی تھیں۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد گھر جاتا تو ایک دو کتابیں بغل میں ہوتیں اور رَت جگے کا سامان بنتیں۔ میں نے تقریباً دو برس اس رجمنٹ سنٹر میں گزارے اور کوئی رات ایسی نہ گزری جب میری بیڈ سائڈ ٹیبل پر فاٹا کے ان علاقوں اور فرنٹیئر میں لڑے جانے والے معرکوں سے متعلق کتابیں موجود نہ تھیں۔

ایک ایسی ہی تاریخ میں 1865ء سے لے کر 1870تک کے ان آپریشنوں کی تفصیل درج تھی جو برٹش آرمی کو ان علاقوں (فاٹا اور فرنٹیئر) میں پیش آئے۔ ان میں ’دیسی سپاہ‘ کے علاوہ کئی انگریز سولجرز اور آفیسرز مارے گئے…… خدا لگتی بات یہ ہے کہ برٹش سولجرز نے ان علاقوں میں اپنی حکمرانی قائم کرنے کی سرتوڑ کوششیں کیں اور جب ان کو کامیابی نہ ہوئی تو پھر ایک بڑی فورس ان علاقوں میں صف بند کرکے سرحدی چھاؤنیاں قائم کیں تاکہ ان کے عقب میں ان کے مفتوحہ علاقے (پنجاب سے لے کر بنگال تک) محفوظ و مامون رہ سکیں …… مالاکنڈ، رسالپور، نوشہرہ، پشاور، جمرود، طورخم، کوہاٹ، ٹل، فورٹ سنڈیمان (ژوب) اور اس طرح کی کئی چھاؤنیاں آج بھی اس حقیقت کی شاہد ہیں کہ ان علاقوں کے باسیوں نے انگریزوں کو ناکوں چنے چبوائے اور ان کی غلامی قبول نہ کی۔ جیسا کہ اوپر لکھا، میری پوسٹنگ 1968ء میں مردان میں ہوئی اور جس کتاب کا ذکر سطورِ بالا میں کیا ہے وہ 1865ء سے 1870ء کے درمیانی پانچ برسوں کے آپریشنوں کے حالات و واقعات پر مشتمل تھی…… اس کے صفحہ اول پر کسی من چلے پاکستانی آفیسر نے ایک انڈین فلمی گانے کا یہ مکھڑا لکھا ہوا تھا:

سو سال پہلے مجھے تم سے پیار تھا

آج بھی ہے اور کل بھی رہے گا

مزید :

رائے -کالم -