اسلام آباد میں کرونا سر اٹھانے لگا

اسلام آباد میں کرونا سر اٹھانے لگا

  

لوگ احتیاطی تدابیر سے غافل ہو گئے

وفاقی دارالحکومت میں حالیہ سیاسی کشیدگی میں مشغول حکومت اور اپوزیشن کی طرف سب کی توجہ مبذول ہے جبکہ اس تماشے کی اوٹ میں مہلک کورونا وائرس کی لہر دوبارہ سر اٹھانے لگی ہے اسلام آباد میں کورونا مریضوں کی تعداد میں یک دم اضافہ ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ تعلیمی اداروں کا کھلنا بھی ہو سکتا ہے، اگرچہ مکمل تعلیمی ادارے یکم اکتوبر سے کھلیں گے لیکن پہلے مرحلے میں جو سکول کھولے گئے وہ بھی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا باعث ہو سکتے ہیں حتیٰ کہ گزشتہ دنوں وفاقی دارالحکومت میں ایک میڈیکل کالج کو کورونا وبا کے باعث سیل کرنا پڑا۔ دوسری طرف شہریوں نے کورونا کے خلاف حفاظتی تدابیر کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے، حکومت کو چاہئے کہ تمام صورت حال کا ازسر نو جائزہ لے کر لائحہ عمل اختیار کرے۔ وفاقی دارالحکومت میں موسم بھی تبدیلی کے لئے کروٹ لے رہا ہے، رات کو موسم خوشگوار ہونے لگا ہے، لیکن سیاسی دراجہ حرارت میں ہر لمحہ حدت آتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس سے سابق وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کے خطاب سے لے کر اس کا اعلامیہ اور اے پی سی سے قبل پارلیمانی رہنماؤں کی ایک کے بعد ایک ملاقاتوں سے کئی قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں۔ اپوزیشن رہنما شہباز شریف، پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری سے لے کر جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے صاحبزادے کی عسکری قیادت سے ملاقاتیں اور ان سے ہونے والے مکالمہ کے بارے میں طرح طرح کے تبصرے سامنے آ رہے تھے۔ کوئی تنقید کے نشتر چلا رہا تھا تو کوئی وضاحتیں پیش کر رہا تھا۔

ابھی یہ طوفان تھما نہیں تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے یکے بعد دیگرے دو ملاقاتوں کا راز ڈی جی آئی ایس پی آر نے طشت از بام کر دیا، اس پر ایک نیا طوفان کھڑا ہو گیا، حکومتی حلقوں کی جانب سے الزام لگایا گیا کہ مسلم لیگ(ن) این آر او لینے کے لئے عسکری قیادت سے ملاقات کر رہی ہے، جبکہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے مقتدر حلقوں کے لئے سخت لب و لہجہ اپنانے پر انہیں بھی تنقید کا سامنا تھا۔ یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ نوازشریف نے مقتدر حلقوں کے حوالے سے ایک انتہائی موقف اپنا لیا ہے جس کی تائید شاید (ن) لیگ کے بہت سے رہنماؤں حتیٰ کہ اپوزیشن رہنما شہباز شریف کے لئے بھی ممکن نہ ہو۔مسلم لیگ (ن)  سے مسلم لیگ(ش) نکلنے کی حکومتی خواہش بھی دارالحکومت کی اقتدار کی غلام گردشوں میں گونج رہی تھی۔یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) سے بہت سے ارکان اسمبلی بھی کنارہ کشی اختیار کر جائیں گے۔ پنجاب سے ایک ایم پی اے کی جانب سے انحراف کا اعلان بھی سامنے آیا۔ درحقیقت نوازشریف کی جانب سے ایک سخت موقف اپنانے پر حکومتی صفوں میں خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حکومتی حلقوں کا خیال ہے کہ نوازشریف نے اپنے پیروں پر خود کلہاڑی مار لی ہے۔ اب مقتدر حلقوں کے پاس کوئی چوائس نہیں کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھائے۔ 

دلچسپ امر یہ ہے کہ مسلم لیگ(ن) کی صفوں میں بھی نوازشریف کے مزاحمتی بیانیہ پر بعض لوگ معترض تھے لیکن پاکستان میں عمومی طور پر بعض واقعات ایسے رونما ہوئے ہیں کہ اس سے سیاست کا رخ بدل جاتا ہے۔ حالیہ حالات میں شہباز شریف کی گرفتاری بھی شاید ایک ایسا ہی واقعہ ہو سکتا ہے، لگتا ہے کہ اپوزیشن رہنما شہباز شریف کی گرفتاری سے مسلم لیگ(ن)  میں مفاہمت کا دروازہ بند ہو گیا ہے، اگرچہ شہباز شریف نے کڑے حالات میں بھی ہمیشہ حکومت کو ہی ہدف تنقید بنایا لیکن ان کی گرفتاری سے اپوزیشن یہ سمجھنے لگی ہے کہ اسے دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔دوسری جانب اس پر سابق صدر  زرداری اور ان کی ہمشیرہ کے ساتھ بھی یہی سلوک روا رکھا جا رہا ہے حتیٰ کہ اے پی سی میں سب سے متحرک کردار ادا کرنے والی شخصیت مولانا فضل الرحمن کو بھی اے پی سی اعلامیہ سامنے آنے کے بعد نیب نے طلب کر لیا ہے اپوزیشن کے ساتھ یہ سلوک جلتی پر تیل ڈال رہا ہے۔

اس سے لگتا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں آنے والے دن سیاست کے حوالے سے ہیجان خیز ثابت ہو سکتے ہیں آئندہ آنے والے تین چار ماہ پاکستان کی سیاست کے لحاظ سے نہایت اہم ثابت ہوں گے۔ ان مہینوں میں حکومت اور اپوزیشن کا مستقبل واضح ہو جائے گا۔ حکومتی حلقوں کا خیال ہے کہ ان گرفتاریوں اور طلبیوں سے اپوزیشن کی تحریک چلانے کے حوالے سے کمر ٹوٹ جائے گی لیکن دوسری جانب یہ بھی ممکن ہے کہ اپوزیشن کسی صف بندی کے  ساتھ  حکومت کے خلاف جارحانہ طرز عمل اپنائے،دوسری جانب خطے میں بھی اہم تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ بھارت کنٹرول لائن پر مسلسل اشتعال انگیز کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ سی پیک اگلے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے لیکن ماضی کی حکومت کے برعکس سی پیک میں تا حال بہت سرگرمی نظر نہیں آ رہی،جبکہ افغانستان میں افغان حکومت اور طالبان کے مابین امن عمل کے حوالے سے مکالمہ مثبت انداز میں آگے بڑھ رہا ہے، امریکہ جلد از جلد معاملات افغانوں کے سپرد کر کے خطے سے نکلنا چاہتا ہے لیکن پاکستان کی خواہش ہے کہ امریکہ یکایک خطے سے نہ نکلے، وگرنہ پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ افغان اس عمل کے حوالے سے افغان مفاہمتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ کا دورہ نہایت اہم ہے۔

اسلام آباد میں کرونا سر اٹھانے لگا،لوگ احتیاطی تدابیر سے غافل ہو گئے

نواز شریف کی تقریر اور شہباز شریف کی گرفتاری سے حالات میں تبدیلی

 اگلے تین چار ماہ ملک کے لئے اہم  حزب  اقتدار مطمئن، مسلم لیگ (ن)کی تازہ صورت حال سے فائدہ پہنچا

مزید :

ایڈیشن 1 -