وزیراعظم عمران خان نے ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں میں دلچسپی لی،

 وزیراعظم عمران خان نے ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں میں دلچسپی لی،

  

 صوبائی حکومت کو سراہا!

پشاور سے نعیم مصطفےٰ

ماہ رواں کے دوران ہم انہی سطور میں کئی بار تحریر کر چکے ہیں کہ خیبرپختونخوا حکومت صوبے میں ترقیاتی منصوبوں پر خاصی توجہ اور زور دے رہی ہے بالخصوص صوبائی دارالحکومت پشاور اور انضمام شدہ قبائلی اضلاع کی ترقی پر اپنی بھرپور توجہ مرکوزکئے ہوئے ہے، پشاور کو اس کی اصل ہئیت اور درخشاں روایات لوٹانے کے لئے تو خطیر رقم مختص کی گئی ہے جبکہ قبائلی اضلاع کی ترقی کے لئے کروڑوں روپے کے نئے منصوبے بھی بنائے جا رہے ہیں۔ اب تو صوبائی حکومت وزیراعظم عمران خان کو بھی اس حوالے سے اپنا ہمنوا بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے اور پیر کے روز انہیں وزیراعلیٰ محمود خان نے خصوصی دعوت دے کر پشاور مدعو کیا،جہاں  عمران خان نے پشاور لیڈی ریڈنگ ہسپتال  میں طبی عملے سے خطاب کے ساتھ ساتھ  ضلع باجوڑ کا بھی دورہ کیا،باجوڑ سکاؤٹس ہیڈکوارٹر خار میں قبائلی عمائدین سے طویل گفتگو کرکے نئے اضلاع میں حکومت کی طرف سے دی جانے والی سہولتوں سے آگاہی حاصل کی اور ان علاقوں کی بہتری کے لئے تجاویز بھی شیئر کیں۔ اس حوالے سے منعقدہ تقریب میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان،صوبائی وزیر زکوٰۃ وعشر انورزیب خان، رکن قومی اسمبلی گل ظفر خان، رکن قومی اسمبلی گل داد خان، ایم پی اے انجینئر اجمل خان، ایم پی اے سراج الدین خان اور باجوڑ کے ممتاز قبائلی عمائدین بھی موجودتھے۔

وزیراعظم نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں مختلف وارڈز اور بلاک دیکھے اور ہسپتال کے نئے بلاک کی تعمیر پر انتظامیہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا سرکاری ہسپتال کا ایسا معیار دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے، جب کسی ادارے میں سزا اور جزا کا نظام نہیں ہوتا وہ تباہ ہو جاتا ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت جہاں گزشتہ دور میں شروع کئے گئے منصوبوں کی تکمیل کے لئے سرگرداں ہے وہاں نئے پراجیکٹس بھی تشکیل دے رہی ہے، وزیراعلیٰ محمود خان اس حوالے سے لٹھ تھام کر متعلقہ حکام کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور ہر روز ان منصوبوں کے بارے میں پراگریس رپورٹ ضرور حاصل کرتے ہیں۔ جہاں تک پی ٹی آئی کے گزشتہ دور حکومت میں شروع کئے گئے صوبے کے سب سے بڑے منصوبے بی آر ٹی کا باقاعدہ افتتاح کروانے کا تعلق ہے تو یہ یقینا موجودہ حکومت کا بڑا کریڈٹ ہے لیکن عوام کے لئے شروع کئے گئے سستے سفری منصوبے کے آغاز میں ہی جن مسائل نے سر اٹھایا انہیں حل کیا جانا بھی ضروری ہے۔چار پانچ میٹرو بسوں میں آتشزدگی کے بعد معاملہ عالمگیر شہرت کی حامل اس ٹرانسپورٹ کی بندش تک پہنچ گیا اور اب کئی روز سے پشاور میں میٹرو سروس بند ہے، بسوں میں آگ لگنے کے واقعات کے بعد چینی انجینئرز کو بھی بلایا گیا تاکہ میٹرو سروس دوبارہ رواں دواں ہو لیکن آخری اطلاعات تک شہری اس سفری سہولت سے محروم ہیں۔

امن و امان کی صورت حال میں بہتری ضرور آئی ہے لیکن اسے تسلی بخش قرار نہیں دیا جا سکتا  کیونکہ پشاور سمیت دیگر علاقوں میں آئے روز کوئی نہ کوئی واقعات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے منہ پر طمانچہ مارتا دکھائی دے رہا ہے، گزشتہ ہفتے فرقہ وارانہ قتل کی کئی وارداتوں کا تذکرہ کیا گیا تھا، ان میں تو کمی واقع ہوئی ہے لیکن کمسن بچوں کے اغوا اور قتلکے اوپر تلے ہونے والے واقعات نہایت سنگین ہیں، بالخصوص سوات میں معصوم بچوں کو اغوا کرکے جس بہیمانہ انداز میں موت کے گھاٹ اتارا گیا اس سے امن و امان کی صورت حال خاصی خراب ہوئی ہے۔ صوبائی حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ ان حالات کا فوری نوٹس لے اور پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے سربراہان کا خصوصی اجلاس کرکے تمام معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے۔محکمہ پولیس میں سزا و جزا کے حوالے سے بعض اعتراضات بھی سامنے آ رہے ہیں اور بعض پولیس اہلکار یا افسران دبے الفاظ میں یہ کہتے سنے جا رہے ہیں کہ کچھ عرصے سے نہ صرف انعامات یا زبانی کلامی شاباش کا سلسلہ تھم چکا ہے بلکہ درست عوامی شکایات پر ریوارڈ بھی نہیں مل رہے، یہی حال تبادلوں اور ترقیوں کا ہے، اس حوالے سے بھی معاملات ہدفِ  تنقید بن رہے ہیں۔ اس صورت حال کا بھی نوٹس لینے کی ضرورت ہے تاکہ ڈسپلنری فورس میں بدنظمی اور بے ہنگم پن جنم نہ لے۔

ہم طویل عرصے سے یہ لکھتے چلے آرہے ہیں کہ جب تک افغانستان میں امن کا بول بالا نہیں ہوتا، پاکستان بالخصوص خیبرپختونخوا کے سرحدی یا قبائلی اضلاع امن کا گہوارہ نہیں بن سکتے، اب جبکہ دوحہ مذاکرات کے بعد بین الافغان ڈائیلاگ کا سلسلہ جاری ہے، جہاں افغانستان میں امن دشمن کارروائیاں ہو رہی ہیں وہاں سرحد پار بھی اس کے اثرات نمایاں ہیں اور ہمارے ہاں آئے روز کوئی نہ کوئی دہشت گردوں کی  کارروائی ہو جاتی ہے۔ابھی گزشتہ روز جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی پٹرولنگ پارٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کے افسر کیپٹن عبداللہ ظفر شہید ہو گئے ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر سیکورٹی فورسز رات گئے دہشتگردوں کی تلاش کیلئے پٹرولنگ کر رہی تھیں۔ کیپٹن عبداللہ ظفر شہید پٹرولنگ پارٹی کی قیادت کر رہے تھے، ایک مقام پر دہشت گردوں نے فائرنگ کردی جس کی زد میں آکر 25 سالہ کیپٹن عبداللہ ظفر شہید ہو گئے۔ شہید عبداللہ ظفر کا تعلق کوہاٹ کے علاقے لاچی سے تھا۔اس واقعہ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شمالی وزیرستان میں سرچ آپریشن کیا اور اس دوران کئی مشکوک افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -