قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی گرفتاری، بلاول بھٹو کا شدید ردعمل!

 قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی گرفتاری، بلاول بھٹو کا شدید ردعمل!

  

سیاسی ڈائری۔کراچی 

مبشرمیر 

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن)کے صدر میاں شہباز شریف کی گرفتاری پر پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سخت ردعمل دیا ہے۔انہوں نے حکومت پر تنقید کی  کہ حکومت اپوزیشن کی تحریک سے گھبرا کے یہ اقدام کررہی ہے۔اپوزیشن اور حکومت کی آنکھ مچولی میں اضافہ ہورہا ہے۔ سینیٹ کے الیکشن سے پہلے دونوں اطراف سے سخت رویہ کی شنید ہے۔میاں شہباز شریف کو بھی گلہ ہے کہ تعاون کی ہرپیشکش کو ٹھکرایا گیا ہے۔ ویسے وفاقی حکومت کی جانب سے اپوزیشن سے اگر تعاون کی بات نہیں ہورہی تو حیرت ہے کہ ایف اے ٹی ایف کا بل کیسے پاس ہوگیا۔آخر اس تعاون کے پیچھے پھر کون سی قوت کارفرما تھی۔ حقیقت کچھ اس طرح دکھائی دیتی ہے کہ اپوزیشن حکومت لڑائی ہو یا سندھ اور وفاق بیان بازی کوئی نہ کوئی ایک نقطہ جس پر دونوں اطراف کا مفاد وابستہ ہو آگے بڑھ جاتی ہے۔اگر ایسی صورت حال نہ ہو تو معاملات کھٹائی میں پڑے رہتے ہیں۔

کراچی میں مسائل پر عوام کی جانب سے بیداری کی ایک لہر نے تمام سیاسی جماعتوں کو اس جانب متوجہ کرلیا ہے۔سیاسی جماعتیں یہ سمجھ رہی ہیں کہ اس وقت لوگ بے پناہ مسائل کی وجہ سے حکومت سے نالاں ہیں تو یہ سب سے اچھا موقع ہے کہ بیدار لوگوں کو اپنے ساتھ شامل ہونے کی دعوت دی جائے۔ایم کیو ایم نے کراچی مارچ کے نام سے ایک مارچ کا اہتمام کیا تو توقع سے بھی بہت کم لوگ مارچ کا حصہ بنے۔ایم کیو ایم اس وقت اپنے کارکن نیٹ ورک سے محروم ہے۔جس طرح انہوں نے ماضی میں جلسے،جلوس اور ریلیاں کیں وہ اب ممکن نہیں۔جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے بھی حقوق کراچی مارچ کیا۔ان کے مارچ کے شرکاء کی تعداد ایم کیو ایم سے زیادہ تھی لیکن یہ جماعت اسلامی کے ہی کارکن تھے۔شہر کراچی کے وہ لوگ جنہوں نے بارشوں میں مسائل کا سامنا کیا،بجلی اور گیس کی بندش سے بلبلا رہے ہیں دونوں سیاسی جماعتوں کے مارچ کا حصہ نہیں بنے۔گویا کراچی کا شہری بیدار تو ہے لیکن ان تمام روایتی سیاسی جماعتوں پر اب اعتبار کرنے پر آمادہ نہیں ہورہا۔یہ وہ المیہ ہے جو موجودہ سیاسی جماعتوں کو پریشان کیے ہوئے ہے۔پیپلزپارٹی بھی ماضی قریب میں یہ خطرہ مول لے چکی ہے۔اسے بھی کراچی کے شہریوں نے اپنا نجات دہندہ تصور نہیں کیا تھا۔تحریک انصاف ابھی ایسی ریلی یا مارچ کرنے کا خطرہ مول لینا نہیں چاہتی البتہ پاک سرزمین پارٹی کو کچھ تائید حاصل ہوئی ہے۔اس کے پاس کارکنوں کی ایک معقول تعداد جمع ہوگئی ہے جس نے اس کی گزشتہ ریلی کو بھی کسی حد تک کامیاب بنادیا تھا۔

اس تمام صورت حال میں گورنر سندھ عمران اسماعیل نے خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ممکن ہے کہ وفاقی حکومت اب شہری مسائل کے حل کی طرف توجہ مرکوز کرنا چاہتی ہو اور وفاقی وزراء نے بھی سندھ حکومت کے خلاف بیان بازی روک رکھی ہے۔شیخ رشید کراچی سرکلر ریلوے پر عمل درآمد کروانے کے لیے کراچی میں موجود تھے اور سیاسی گولہ باری سے اجتناب کرتے دکھائی دیئے البتہ تحریک انصاف کی صوبائی قیادت نے اس کمی کو ضرور پورا کیا ہے۔

سات ماہ کی بندش کے بعد کراچی سمیت سندھ بھرمیں اسکول کھول دیئے گئے ہیں۔حیرت ہے یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ والدین کی مرضی ہے کہ وہ باقاعدہ اپنے بچوں کو اسکول بھیجیں یا گھر پر ہی رکھیں۔یہ عجب منطق ہے کیونکہ اس سے اسکول انتظامیہ والے طلبہ و طالبات کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ نہیں ہوں گے۔ وزارت تعلیم سندھ کے اس موقف سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی میں ان کی دلچسپی کس انداز کی ہے۔

بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کے فیصلے پر متاثرین نے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔2012میں بلدیہ فیکٹری سانحے میں 266افراد زندہ جل گئے تھے۔متاثرہ خاندانوں کا موقف ہے کہ اتنے واضح کیس میں جن لوگوں کو بچایا گیا ہے وہ سخت ترین سزا کے مستحق ہیں۔جاں بحق افراد کے لواحقین کھلے عام پھانسی کی سزا کا مطالبہ کررہے ہیں۔ سابق صوبائی وزیر رؤف صدیقی کو بری کردیا گیا ہے  جبکہ حماد صدیقی آج تک گرفتار ہی نہیں ہوسکے۔اس فیصلے کے حوالے سے سیاسی راہنماؤں نے احتیاطاً ردعمل دینے سے گریز کیا ہے۔

کراچی کی مردم شماری ایک مرتبہ پھر زیر بحث آرہی ہے۔حقوق کراچی مارچ میں بھی اس کی بازگشت سنی گئی۔جماعت اسلامی 14اکتوبر کو یوم حقوق کراچی بھی منائے گی۔کراچی کی مردم شماری کو 2017میں جس انداز سے کم بتایا گیا اس پر عوام بھی ابھی تک ورطہ حیرت میں  ہیں۔مردم شماری کے نتائج کو عدالت میں ایم کیو ایم نے چیلنج کیا تھا اگر عدالت نے اس پر فیصلہ صادر کیا کہ دوبارہ مردم شماری ہو تو پھر بہت سے انقلابی فیصلے ہوسکتے ہیں۔بلدیاتی الیکشن کو بھی اسی کی آڑ میں ملتوی کروایا جارہا ہے جو کہ اس کے مسائل میں اضافے کا باعث بنے گا۔اس وقت ایڈمنسٹریٹر کراچی اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے کچھ پارکس کی صفائی کروانے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن معاملہ اس سے بہت آگے بڑھ چکا ہے۔کاسمیٹکس سرجری اب شہر کے مسائل کا حل نکالنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔انتظامی معاملات کو بہتر کیے بغیر بہتری ممکن نہیں۔پانی کی فروخت ہی کا معاملہ دیکھ لیں تو یہ بھی ایک چیلنج ہے۔

حیدرآباد سے کراچی آنے والی وین  حادثہ نے ایک مرتبہ پھر شہر کو سوگ میں مبتلا کردیا۔حادثات کے بعد جب اسباب سامنے آتے ہیں تو سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔آخر کس طرح غیر معیاری سلنڈر سے لوگ گاڑیاں چلارہے ہیں۔ٹرانسپورٹ کے نظام کو باقاعدہ اصولوں کے تحت چلانے کے لیے وزارت ٹرانسپورٹ سندھ ناکام ہی نظرآتی ہے۔انتہائی قیمتی جانوں کے ضیاع کے بعد ہم کوتاہیوں پر کوسنے کے علاوہ کچھ نہیں کرتے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -