قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف کی درخواست ضمانت مسترد

قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف کی درخواست ضمانت مسترد
 قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف کی درخواست ضمانت مسترد

  

مسلم لیگ(ن) کے مرکزی صدر شہباز شریف کی صدارت میں مرکزی رہنماؤں کا اجلاس ہوا، اس کے بعد لاہور سے میڈیا کے سینئر حضرات کی ایک مخصوص تعداد سے ملاقات بھی ہوئی۔ شہباز شریف نے یہاں سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کی تقریر پر اعتراضات کو رد کیا اور کہا کہ انہوں (نوازشریف) نے کوئی غلط بات نہیں کی اور نہ ہی کوئی غیر آئینی اقدام کیا، بلکہ متعلقہ ادارے کو مستقبل کے لئے مشورے دیئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جہاں تک رابطوں کا تعلق ہے تو وہ گزشتہ پچیس سال سے رابطے میں ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اے پی سی کے فیصلوں پر مکمل عمل درآمد ہو گا یوں ان کی طرف سے اس پروپیگنڈے کا جواب دیا گیا، جو ن سے شن نکلنے کا تھا، انہوں نے یہ بھی دہرایا کہ عمران خان ان کو جیل میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

مسلم لیگ کے دوسرے رہنماؤں نے بھی بات کی اور انتقامی کارروائی ہی کا ذکر کیا۔ اگلے ہی روز عدالت میں درخواست سماعت کی سماعت تھی، پیر کو لاہور ہائی کورٹ میں ڈویژن بنچ کے روبرو دلائل مکمل ہو گئے تو فیصلہ سنا دیا گیا، درخواست ضمانت مسترد ہو گئی۔ وکلاء نے زبانی حکم کی روشنی میں درخواست واپس لینے کی استدعا کی جو منظور ہوئی اور درخواست خارج قرار دی گئی۔ جس کے بعد نیب والوں نے ان کو حراست میں لیا، اس موقع پر جہاں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے، وہاں مسلم لیگی رہنماؤں اور کارکنوں کی بھاری تعداد بھی پہنچی اور زبردست نعرہ بازی ہوئی۔ شہبازشریف نے کسی مزاحمت کے بغیر گرفتاری دی۔ ان کو نیب لاہور آفس منتقل کرکے طبی معائنہ بھی کرایا گیا گزشتہ روز (منگل) ان کو ریمانڈ کے لئے احتساب عدالت میں پیش کیا گیا تو  بھی کارکنوں کی بھاری تعداد موجود تھی۔ مریم نواز نے ٹوئیٹ کیا کہ چچا نے اپنے بڑے بھائی کے خلاف جانے پر گرفتاری کو ترجیح دی،انہوں نے چچا کو خراج تحسین پیش کیا۔

فرزند راولپنڈی، وفاقی وزیر ریلوے نے بھی یوٹرن لیا اور فوج کی ترجمانی سے دستبردار ہو گئے ہیں۔ ہفتہ رفتہ میں یہاں معمول کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کر دی اور کہا کہ وہ ترجمان نہیں، فوج کے حامی اور اس کے ساتھ ہیں اور انہوں نے تو یہ کہا تھا کہ اگر ان کو اس حوالے سے ترجمان کہا گیا ہے تو وہ اس پر فخر کریں گے۔ شیخ رشید نے اس سوال کے جواب میں کہ مولانا فضل الرحمن اور عبدالغفور حیدری نے چیلنج کیا اور دریافت کیا کہ متعلقہ ادارہ وضاحت کرے کہ وہ (شیخ رشید) اس کے ترجمان ہیں تو پھر ہم بھی بتا سکیں کہ کب کیا ہوا، اس کے جواب میں شیخ رشید نے وضاحت کر دی تاہم کہنے لگے میں موجودہ سیاسی رہنماؤں میں سب سے سینئر ہوں، اگر میں نے ٹیلی فونوں کی حکائت بتا دی تو قیامت آ جائے گی یہاں انہوں نے پھر سے سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کا ذکر کیا اور دس سوال دریافت کئے جس میں بڑا سوال اسامہ بن لادن سے ملاقاتوں اور چندہ لینے والا تھا، جبکہ یہ بھی پوچھا کہ وہ بیرونی ممالک سے مودی کے ساتھ فون پر کیا باتیں کرتے رہے ہیں۔ شیخ رشید نے معمول کے مطابق سیاست پر زیادہ اور محکمے پر کم بات کی اور صرف یہ کہا کہ کراچی سرکلر کو مل کر بحال کریں گے اور ریلوے کی ترقی کا بڑا منصوبہ کامیاب ہوا تو معاشی استحکام میں اہم ثابت ہو گا۔

سابق وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے متوالے طلال چودھری ایک سکینڈل میں پھنس گئے اور خود ہی پولیس کو بلا کر تفتیش کی راہ بھی کھول دی، وہ 23ستمبر کی شب فیصل آباد میں کچھ حضرات کے ہاتھوں مار کھا کر بازو تڑوا بیٹھے اور جسم پر دوسری ضربات بھی آئیں، ان کے حوالے سے یہ کہا گیا کہ وہ خود اپنی ہی جماعت کی ایک رکن قومی اسمبلی کے گھر ان کو ہراساں کرنے گئے اور ان کے لواحقین سے پٹے۔ طلال چودھری نے بعد میں انکار کیا اور کہا کہ ان کو نامعلوم حضرات نے زدوکوب کیا۔ خاتون رکن قومی اسمبلی نے بھی اعلان لاتعلقی کیا اورکہا کہ ان کو اس میں ملوث نہ کیا جائے۔ طلال چودھری نے علاج لاہور کے ایک نجی ہسپتال میں کرایا حکومتی اراکین نے اسے پروپیگنڈہ بنا لیا اور فیصل آباد پولیس نے ایک چار رکنی تفتیشی ٹیم بنا دی جو تاحال طلال چودھری اور خاتون ایم این اے کا بیان نہیں لے سکی کہ طلال ہسپتال سے کہیں منتقل ہو گئے اور خاتون فیصل آباد سے اسلام آباد چلی گئیں۔ طلال کی طرف سے پہلا بیان کہ ”میں تنظیمی امور کے سلسلے میں فیصل آباد گیا“ ایک طنزیہ فقرہ بن گیا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -