بھٹو نواز بیانیہ ایک ہے؟

بھٹو نواز بیانیہ ایک ہے؟
 بھٹو نواز بیانیہ ایک ہے؟

  

          گزشتہ روز نون لیگ کے سینیٹر ڈاکٹر اسد اشرف سے بات ہوئی تو کہنے لگے کہ بھٹو کا ’طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں‘ اور نواز شریف کا ’ووٹ کو عزت دو‘ کا بیانیہ ایک ہی سکے دو رخ ہیں۔ ان کے نزدیک اس ملک کے عوام کا مسئلہ ایک ہی ہے کہ جمہوریت پسند ہونے کے باوجود ان کی رائے کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو لیکن سوال یہ ہے کہ کیا نواز شریف کو سیاستدانوں کی فوجی قیادت سے خفیہ ملاقاتوں پر اعتراض ہے یا پھر سرے سے ملاقاتوں پر ہی اعتراض ہے؟ اس کا جواب یہ ہوگا کہ نواز شریف کو سیاستدانوں کی فوجی قیادت سے خفیہ ملاقاتوں پر اعتراض ہے، اعلانیہ اور کھلی ملاقاتوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اسی لئے تو انہوں نے قومی سلامتی کونسل کا آفس تشکیل دیا تھا جس میں وزیر اعظم کے ساتھ آرمی چیف بھی بیٹھتا ہے، عمران خان تو اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھے اور انہوں نے معاشی سلامتی کونسل کی داغ بیل بھی ڈالی جس میں ملک کی معاشی صورت حال پر فوجی قیادت سے مشاورت کی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کو فوجی قیادت سے اعلانیہ اور کھلم کھلا ملاقاتوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے، ایسا ہے تو کیا فوجی قیادت کے اس کردار کو کوئی آئینی شکل دی جا سکتی ہے؟ اس سوال کا جواب آئندہ آنے والے سالوں میں یقینا سامنے آجائے گا۔

نون لیگ کے صدر شہباز شریف کی ضمانت منسوخی اور نیب کی جانب سے گرفتاری کے بعد ایک لمحے کو ایسا لگا کہ ملک کے سیاسی فرنٹ پر ہنگامہ برپا ہوگیا ہے، ان کی گرفتاری کے بعد مریم نواز کی پریس کانفرنس، بلاول اور آصف زرداری کی جانب سے شہباز شریف کی گرفتاری کی مذمت، حکومتی ترجمان اور مشیر داخلہ کی جواب آں غزلیں اور شیخ رشید کی جانب سے پکا راگ، گویا کہ دل بے محابا جل گیا والا معاملہ تھا۔ یوں لگا کہ سیاسی درجہ حرارت میں غیر معمولی تیزی آگئی ہے، حکومت نے پرواز سے قبل ہی متحدہ اپوزیشن کی تشکیل کردہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ پر کتر دیئے گئے ہیں۔ 

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی تقریر کے ایک ہفتے بعد لندن میں ان کے گھر کے باہر نقاب پوش افراد کے مظاہرے نے صورت حال کو مزید وا کردیا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ شہباز شریف کی نیب کی جانب سے گرفتاری پر یہاں پاکستان میں اتنا مظاہرہ بھی نہ ہوا جتنا مریم نواز کی نیب پیشی پر بپا کردیا گیا تھا۔ سب کچھ بس مریم نواز کی دھواں دھار پریس کانفرنس تک ہی محدود رکھا گیا۔ ابھی تک عوام کو سمجھ نہیں آرہی ہے کہ نون لیگ کی لڑائی نیب سے ہے، حکومت سے ہے یا قومی اداروں سے ہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا نون لیگ بیک وقت اتنے سارے محاذ کھول کر آگے کا کوئی راستہ بنا سکے گی؟ 

اس میں شک نہیں کہ عوام کے مسائل مدعا بنا کر اپوزیشن کسی بھی وقت تحریک بپا کرنے کا حق رکھتی ہے لیکن جس طرح شہباز شریف کی گرفتاری ہوئی ہے اور مزید گرفتاریوں کی بات ہورہی ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کے خلاف ایسی کسی بھی تحریک کی اجازت آسانی سے ممکن نہیں ہو سکے گی۔ لیکن اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل پر خاموش رہ کر عوام کی نظر میں اپنی عزت بچا سکتی ہے؟ چاہے اس کوشش میں متحدہ اپوزیشن کی صف اول کی پوری کی پوری قیادت ہی کیوں نہ گرفتار ہو جائے اور اپوزیشن کی جیل بھرو تحریک دراصل نیب بھرو تحریک میں بدلتی نظر آئے گی اور مولانا فضل الرحمٰن حکومت ہٹاؤ تحریک کی بجائے اپوزیشن بچاؤ تحریک کی قیادت کرتے نظر آئیں گے۔ ایسے میں اگر عدلیہ نے مریم نواز کے بیانئے کا نوٹس لے لیا اور کوئی حکم جاری کردیا تو نون لیگ مزید مشکل کا شکار ہو سکتی ہے۔ 

خیر اپوزیشن کی تو چھوڑیئے، کوئی ہے جو بتائے کہ کیا حکومت اس وقت پرسکون ہے؟ کیا وہ اسی طرح فرنٹ فٹ پر ہے جس طرح پی ڈی ایم کے وجود سے قبل تھی؟خیال یہ کیا جارہا ہے کہ حکومت کے نون لیگ اور پیپلز پارٹی سے زیادہ بڑا مسئلہ مولانا فضل الرحمٰن کا ہے، انہیں اسی طرح قابو میں کرنا مشکل ہے جس طرح پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے لئے مولانا طاہرالقادری کو قابو کرنا مشکل تھا۔ اگرپنجاب میں نون لیگ سٹریٹ ایجی ٹیشن چلانے اور سندھ میں پیپلز پارٹی استعفے دینے پر تیار ہوگئے تو مولانا کا کام آسان ہو جائے گا، وگرنہ ہنوز دلی دور است!

قابل غور معاملہ یہ ہے کہ آیا پاکستانی عوام ایک نئے سوشل کنٹریکٹ کے لئے تیار ہیں، وہ سیاسی قیادت کے ساتھ ہیں یا

مزید :

رائے -کالم -