بنک اکاؤنٹس منجمد، انتقامی کارروائیاں،ایمنسٹی انٹرنیشنل  نے بھارت میں کام بند کردیا

 بنک اکاؤنٹس منجمد، انتقامی کارروائیاں،ایمنسٹی انٹرنیشنل  نے بھارت میں ...

  

 نئی دہلی(آن لائن)انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی حکومت کی جانب سے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے پر ملازمین کو فارغ کر کے کام روک دیا۔تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈین حکومت کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف آواز اٹھانے پر اسے منظم طریقے سے اور من گھڑت الزمات لگا کر نشانہ بنایا گیا۔انڈیا میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اویناش کمار نے کہا ہے کہ گذشتہ دو برس سے ایمنسٹی انٹرنیشنل پر کیا جانے والا کریک ڈاؤن اور اب اس کے اکاؤنٹس کو منجمد کرنا محض اتفاق نہیں۔ یہ دہلی میں ہونے والے ہنگاموں اور جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر انڈین حکومت کا احتساب کرنے کا نتیجہ ہے۔تنظیم نے کہا ہے کہ وہ انڈین اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل طور پر پاسداری کرتی ہے اور انڈیا میں انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے کے لیے یہ مقامی طور پر فنڈز اکٹھے کرتی ہے، اور اب تک ایک لاکھ انڈین شہریوں نے فنڈز عطیہ کیے ہیں۔انڈین حکومت کی طرف سے اس قانونی فنڈ ریزنگ کو منی لانڈرنگ اس لیے کہا جا رہا ہے کیونکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور کارکن حکومت کی زیادتیوں کو سامنے لا رہے ہیں۔اویناش کمار نے کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں میں خوف پیدا کرنے کے لیے انڈین ادارہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ آف انڈیا اور انڈین حکومت انہیں جرائم پیشہ تنظیموں کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گزشتہ ماہ بھارت کے غیر قانونی تسلط میں جموں و کشمیر میں تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی اور انٹرنیٹ کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گذشتہ سال امریکہ کی فارن افیئرز کمیٹی کے روبرو بیان میں بھی بھارت کے غیر قانونی تسلط میں جموں و کشمیر میں لوگوں کو بغیر مقدمہ چلائے حراست میں رکھنے اور طاقت کے بے تحاشا استعمال اور لوگوں پر تشدد سے بھی آگاہ کیا تھا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسے گزشتہ چند سال سے بھارت کی سرکاری ایجنسیوں کی طرف سے بھی انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہے۔ ایسے ہی ایک واقعہ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے خلاف اس کی ایک تقریب میں بھارت مخالف نعرے لگائے جانے کے الزام کے تحت مقدمہ کا اندراج کیا گیا اور تین سال کی کارروائی کے بعد عدالت نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دے دیا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے قبل ازیں 2009 میں بھی بھارت میں اپنی سرگرمیاں روک دی تھیں اور بتایا تھا کہ اس وقت کی بھارتی حکومت نے بار بار درخواست کے باوجود سمندر پار سے فنڈز وصول کرنے کا اس کا لائسنس نہیں دیا تھا۔ 

ایمنسٹی انٹرنیشنل

مزید :

صفحہ اول -