نواز شریف کی واپسی، حکومتی کمیٹی قائم، اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کا 11اکتوبر کو کوئٹہ میں حکومت کیخلاف پہلے احتجاجی جلسے کا اعلان احسن اقبال کی سربراہی میں سٹیئرنگ کمیٹی قائم 

     نواز شریف کی واپسی، حکومتی کمیٹی قائم، اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کا ...

  

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وفاقی  کابینہ نے نواز شریف کو وطن واپس لانے کیلئے برطانوی حکومت کو ایک بار پھر خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے، اس سلسلے میں وزارت خارجہ اور ایف آئی اے کو ٹاسک سونپ دیا گیا ہے جبکہ نواز شریف واپسی کی واپسی کے حوالے سے قانونی معاملات کو دیکھنے کیلئے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ نواز شریف کو واپس لانے کیلئے  تمام قانونی آپشنز استعمال کئے جائیں، برطانوی حکومت کی مدد سے نواز شریف کو واپس لائیں گے،نواز شریف بیماری کا بہانہ بنا کر ملک سے بھاگے ہیں، کسی صورت این آر او نہیں ملے گا،  احتساب کا عمل بلا تفریق جاری رہے گا۔ اپوزیشن کو احساس ہو چکا ہے کہ این آر او نہیں ملے گا، اپوزیشن جماعتیں اپنے کیسز سے توجہ ہٹانے کے لیے اداروں کو متنازع بنا رہی ہیں۔کابینہ نے احمد نوازسکھیرا کواسلام آبادکلب کاایڈمنسٹریٹر تعینات کرنے اور پاکستان میڈیکل کمیشن ایکٹ کے تحت ایم ڈی سی کے آئین کی منظوری دیدی۔منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کااجلاس ہوا، جس میں ملکی سیاسی،سلامتی اور مجموعی صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور وفاقی کابینہ نے16نکاتی ایجنڈے کے متعددنکات کی منظوری دے دی۔اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی بیان بازی پر بھی غور کیا گیا، وزراء  نے کہا  کہ لیگی رہنماغلطی تسلیم کرنے کے بجائے اداروں کو متنازع بنا رہے ہیں۔وفاقی کابینہ نے نواز شریف کو ہر صورت وطن واپس لانے کا اصولی فیصلہ کرلیا، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نواز شریف کو واپس لانے کیلئے قانونی آپشنز استعمال کئے جائیں، بر نواز شریف کو وطن واپس آکرعدالتوں کے سامنے پیش ہوناہوگا،۔۔ حکومت اپوزیشن کی بلیک میلنگ میں نہیں آئے گی۔وزیراعظم عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں نواز شریف کو وطن واپس لانے کیلئے مختلف پہلوں پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں وزارت خارجہ اور ایف آئی اے کو ٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔وزیراعظم نے  کابینہ اجلاس میں سیاسی معاملات کو دیکھنے کیلئے سیاسی کمیٹی بھی تشکیل دی۔ کمیٹی میں شہزاد اکبر، ڈاکٹر بابر اعوان، فواد چودھری، اسدعمر، شفقت محمود اور شیخ رشید پر مشتمل یہ کمیٹی اپوزیشن کی تحریک سمیت تمام سیاسی معاملات کو دیکھے گی۔ یہ کمیٹی نواز شریف کی واپسی کے حوالے آئینی اور قانونی امور کا جائزہ لے گی۔ کابینہ نے پاکستان ریلویزکی بحالی کے لیے مجوزہ پلان کی منظوری موخر کردی۔ٹیلی میٹری سسٹم سبوتاژکرنیکی انکوائری رپورٹ کابینہ میں پیش کی گئی اور ٹی سی پی کی جانب سے درآمد گندم کی پری شپمنٹ انسپیکشن کی اجازت دے دی جبکہ ورجن ایٹلانٹک ایئرویزکوپاکستان لئے  پروازوں کی اجازت دینے کی بھی منظوری دی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے شیڈول میں نئی قوانین کی شمولیت کی منظوری کا معاملہموخرکردیا گیا اور افغانستان کیلئے ویزا پالیسی سے متعلق ریشنلائزیشن کی منظوری اور بایولاجیکل ادویات کیلئے وفاقی حکومت کا مشیر تعینات کرنے کی منظوری بھی دی۔وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی اور کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے فیصلوں کی توثیق بھی کردی۔دوسری جانب بابر اعوان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف سزا یافتہ قیدی، ان کی واپسی کی مضبوط دلیل ہے۔ بیماری ہوتی تو ہسپتال جاتے، وہ تو پچھلے دروازے کی ملاقاتوں کیلئے لندن گئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی واپسی کیلئے قانونی جنگ کا فیصلہ ہو گیا ہے۔ جلد ہی ایکسٹراڈیشن کی کارروائی شروع کریں گے۔ اس معاملے پر ایک مثال دیتے ہوئے بابر اعوان نے کہا کہ چلی کے بھگوڑے اگسٹو پنوشے کو ایکسٹراڈیشن کے ذریعے واپس لایا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی اور عدالتی اداروں کے پیچھے ہاتھ جلد بے نقاب ہو گا۔

وفاقی کابینہ

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے حکومت مخالف تحریک کا گیارہ اکتوبر سے آغاز کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں پہلا جلسہ کوئٹہ میں ہوگا۔پی ڈی ایم میٹنگ کے بعد مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا کل ہونے والا اجلاس اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ لیگی کارکنوں کی نظریں اپنے قائد نواز شریف کے خطاب پر جم گئی ہیں۔صدر شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد (ن) لیگ کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کا یہ پہلا اجلاس ہوگا۔ پارٹی اور حکومت مخالف تحریک کیلئے  آج کے اجلاس میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔ادھر پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ کے اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے احتجاجی تحریک کی حکمت عملی کے لیے سٹیرنگ کمیٹی قائم کر دی ہے۔ احسن اقبال سٹیرنگ کمیٹی کے سربراہ ہوں گے جبکہ ممبران کیلئے تمام جماعتوں نے اپنے اپنے نام دے دیئے ہیں۔ اپوزیشن نے گلگت بلتستان قانون سازی پر وزیراعظم کے سواکسی فورم پر مشاورت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اجلاس میں سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریوں کو غیر آئینی اور انتقامی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ نیب نیازی گٹھ جوڑ کا مقصد اپوزیشن کو دباؤ میں لانا ہے۔ حکومت کے اوچھے ہتھکنڈے کا ہر فورم پر ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔بعد ازاں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ تحریک کا اختتام عمران خان کے جانے تک نہیں ہوگا۔ حکومت گلگت بلتستان الیکشن میں مداخلت کر رہی ہے۔ ہارس ٹریڈنگ کو برداشت نہیں کریں گے اور 2018ء  کے الیکشن کا ری پلے نہیں ہونے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا اتحاد اقتدار میں آنے کیلئے نہیں ہیجے یو آئی (ف) کے رہنما عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ ہماری جنگ اداروں کیخلاف نہیں، یہ ایک سیاسی جنگ ہے۔ حکومت کے ناجائز ہتھکنڈوں سے مرغوب نہیں ہوں گے۔ اپوزیشن حکومت کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔ سلیکٹڈ حکومت نے ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم تحریک کا آغاز پورے ملک میں ہوگا۔ اجلاس میں ملک میں جمہوریت بحال کرنے کیلئے تبادلہ خیال کرتے ہوئے تمام فیصلے مشاورت سے کیے گئے۔ پی ڈی ایم کی تحریک سے سیاسی تبدیلی رونما ہوگی۔ پاکستان کو غیر جمہوری عمل سے نجات دلائیں گے۔11 اکتوبر کو کوئٹہ میں پی ڈی ایم تاریخی جلسہ کرے گی۔

اپوزیشن جلسہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کو 30 کھرب روپے کا قرضہ ورثے میں ملا۔ قسطیں ادا کرنے اور دیوالیہ پن سے بچنے کیلئے مزید قرض لینا پڑا۔ حکومت نے تقریباً 24 ارب ڈالر کا قرضہ لیا۔تفصیل کے مطابق وزیرِاعظم عمران خان کے زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ کل سے ملک بھر کے سکولوں کی سرگرمیاں اور تین کروڑ بچوں کا تعلیمی سلسلہ بحال ہو جائے گا۔اجلاس کو ملکی قرضوں اور ان کی واپسی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا گیا کہ موجودہ حکومت کو تیس کھرب روپے کا قرضہ ورثے میں ملا۔ قسطیں ادا کرنے اور دیوالیہ پن سے بچنے کے لئے حکومت کو مزید قرضے لینے پڑے۔بریفنگ میں کہا گیا کہ بیرونی قرضوں کی مد میں حکومت نے تقریباً چوبیس ارب ڈالر قرضہ حاصل کیا، جس میں سے دو ارب ڈالر عبوری دورِ حکومت میں اٹھایا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ماضی میں بیرونی قرضوں کی مد میں ہر سال تقریباً ساڑھے پانچ ارب ڈالر کی شرح سے قرضے واپس کیے جاتے تھے۔ موجودہ دورِ حکومت میں ہر سال تقریباً دس ارب ڈالر کے حساب سے قرضے واپس کیے جا رہے ہیں۔وزیراعظم کو بتایا گیا کہ 2019ء  میں حکومتی قرضوں میں 7.7 کھرب روپے کا اضافہ ہوا۔ اس کی بڑی وجہ روپے کی حقیقی قدر کو بحال کرنا تھا۔وفاقی کابینہ کو بریفنگ دی گئی کہ کوویڈ 19 کی وجہ سے تقریباً ایک کھرب روپے کی آمدن متاثر ہوئی۔ 2.1 کھرب روپے ماضی کی حکومتوں کی جانب سے لیے گئے قرضوں کی قسطیں ادا کرنے میں صرف ہوئے

قرضے بریفنگ

مزید :

صفحہ اول -